مکرمی!
وہ مرد مجاہد نظر آتانہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ وپے میں فقط مستیٔ کردار
یہ شاعر اسلام ڈاکٹر علامہ اقبال کا شعر ہے جس میں وہ ایسے شخص کی جستجو میں ہیں جو مستیٔ کردار کا علم بردار ہو، جس کے رگ وپے میںمستیٔ کردا رخون کی طرح رواں دواں ہو، واقعی تیرے رگ وپے میں مستیٔ کردار ہے کیونکہ جب سے یہ مشرق وسطیٰ کی جنگ فلسطینیوں پر مسلط کی گئی تم واحد اسلامی ملک ہو جس نے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہمدردی وغمخواری کا اظہار کیا اور ان کی نسل کشی کے خلاف آواز بلند کرنے والے ہو،سپرپاور طاقتوں سے آنکھ میںآنکھ ڈال کر بات کرنے والا اور فلسطینیوں کو دینی بھائی سمجھنے والا صرف اور صرف تمہیں تو ہو، تم ساری طاغوتی طاقتوں سے رسک لیتے ہوئے جنگ بندی کی کوشش کرتے رہے،بالآخر تمہاری کوشش کامیاب ہوئی ، اورآج عالم اسلام جشن منارہا ہے، یقینا آج شاعر اسلام ڈاکٹراقبال زندہ ہوتے تو وہ سب سے پہلے تم کو مبارک باد پیش کرتے اور تمہارے اس کردار کوخراج تحسین پیش کرتے۔
افادہ قارئین کے لئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیںکہ’’مومن اللہ کی نور سے دیکھتا ہے اور اس کی نظر خطا نہیں کرتی‘‘ یہی تو درحقیقت ایمانی فراست ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تم کو نوازا ہے ،تم اس پیشن گوئی کے مستحق ہو، تم نے یہ جو کارہائے نمایاں انجام دیا ہے درحقیقت ’’فراست مومن میں کا نتیجہ ہے‘‘ جس کو تم نے اپنا ہتھیار بنا رکھا ہے ،یقینا تم امت اسلامیہ سے خراج تحسین کے مستحق ہو،کیونکہ تم نے ماضی اور حال میں مظلوم ممالک کی بھرپور عیانت کی ہے وہ قابل داد ہی نہیں بلکہ آنے والا مورخ تمہارے اس کردار کوسنہرے حروف سے لکھنے پر مجبور ہوگا،واقعی یہ مقام کسی ملک کو حاصل نہیں ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کی ایران کی اخلاقی پشت پناہی شامل حال رہی، پس پردہ مدد کرتا رہا،اور دشمن کو للکارتارہا۔
جب کہ یمن کی حوثی جماعت نے کھل کر فوجی کارروائی میں حصہ لیا اور اسرائیل جیسے ترقی یافتہ ملک کو اپنی موجودہ جنگی پالیسی پر نظر ثانی کے لئے مجبور کردیا،مگر دوسرے جو مسلم ممالک ہیں ان کاکردار نار عنکبوت ثابت ہوا،اللہ تعالیٰ ان ملکوں کے سربراہان کو عقل سلیم عطافرمائے اور سیدھے رستہ پر گامزن ہونے کی توفیق دے۔
صدیوں کہیں پیدا ہوتا ہے نظیر اس کا
تلوار ہے تیزی میںصہبائے مسلمانی
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی
