فلاح انسانیت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام بڑی بہوتی میں ایک دینی و اصلاحی پروگرام کا انعقاد

اٹوا سدھارتھ نگر: آج بتاریخ 31 جنوری 2025 بروز جمعہ بعد نماز مغرب فلاح انسانیت ٹرسٹ کی جانب سے موضع بڑی بہوتی اٹوا میں ایک دینی و دعوتی پروگرام ہوا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

تلاوت کلام پاک سے بزم کا آغاز ہوا جسے محترم حافظ صفی الرحمن فرقانی ( صدر فلاح انسانیت ٹرسٹ اٹوا) نے پیش کیا ،حمد باری تعالیٰ پیش کرنے کے لئے مشہور و معروف مترنم شاعر اور بہترین خطیب کلیم اللہ ریانی نے پیش کیا،بعدہ پونہ مہاراشٹر میں دینی کاموں میں پیش پیش رہنی والی شخصیت اور بہترین نظم خواں محترم ابرار صاحب کو نعت نبی کے لئے مدعو کیا۔آپ کو لوگوں نے غور سے سنا اور محذوذ بھی ہوئے۔

پھر خطابت کا سلسلہ شروع ہوا فضیلۃ الشیخ محمد معراج مدنی حفظہ اللہ نے "خیر خواہی ” جیسے بہترین موضوع پر خطاب کیا آپ نے بتایا کہ ہم سب کو ایک دوسرے کا خیر خواہ ہونا چائیے ایک دوسرے کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنی چائیے اللہ کے رسول صحابہ سے تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کی بیعت لیتے تھے اور خیر خواہی کی نصیحت کرتے تھے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ خیر خواہی کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے حق دبانے میں لگے ہیں، لوگوں کی مصیبت کو پریشانی دور کرنے کے بجائے ان کے لئے پریشانی کھڑی کر رہے ہیں، کسی کی زمین چوری چھپی رجسٹری کروالینا، کسی کی پریشانی پر ان کا اونے پونے دام پر خرید لینا عام سی بات ہوگئی ہے۔ وغیرہ

 دوسرے خطیب فضیلۃ الشیخ عبدالحسیب سنابلی حفظہ اللہ تھے انھوں نے ہمیں بتایا کہ مسلمانوں کو چائیے کہ وہ انسانی جان کا احترام کریں مرجائیں جائیں تو احترام کے ساتھ انھیں نہلا دھلا کر کفن میں لپیٹ کر قبرستان میں دفن کردیں یہی فطرت کا تقاضہ ہے اسی اللہ اور اس کے رسول نے تعلیم دی ہے ، انھیں جلانے اور کھلے میں چھوڑنے سے منع کیا ہے قبرستان کی زیارت کے لئے جائیں مردوں کے لئے دعا کریں ، مگر کسی قبر پے ہر گز نہ بیٹھیں اور اسے نہ روندیں، ساتھ ہی آپ نے بتایا کہ ہمیں قبروں کا اتنا ہی احترام کرنا جتنا شریعت نے اجازت دی ہے احترام میں یہ نہ ہو کہ اس پر قبے تعمیر کریں وہاں پندرہ شعبان کو چراغاں کریں اور اور ان کو سجدہ کریں اس سب کاموں سے شریعت نے ہمیں منع کیا ہے۔

پھر کلیم اللہ ریانی حفظہ نے بڑے ہی اچھے انداز میں سامعین کو بتایا کہ ہم سے ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے کسی کوئی دوام نہیں حتی پیارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو بھی اس دارفانی سے جانا ہی پڑا اس لئے ہمیں اس دنیا میں آخرت کی تیاری کرلینی چائیے۔ پھر تمام سامعین کے شکریے کے ساتھ اس مجلس کا اختتام ہوا۔

الحمد گاؤں کے بزرگ بچے مسجد میں اور باہر سے عورتوں نے خطباء کو سنا اور آئندہ اور منظم انداز میں پروگرام کرانے کو وعدہ کیا۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے