نیپال (مدھولیا )گزشتہ کل مدرسہ نور العلوم مدھولیا کے’’ رابع ہال‘‘ میں حضرت مولانا حافظ طاہر حسین ندوی کی صدارت میں تقسیم انعامات و رسم اجراء کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی حضرت مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی استاذ تفسیر وادب دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ہاتھوں انعام تقسیم کیا گیا اور اس کے بعد حضرت مولانا نے طلبہ کے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ جمعیۃ الاصلاح کے پروگراموں میں حصہ لینا سونے پر سہاگہ ہے، انعامی مقابلہ میں حصہ لینا انسانی زندگی کا جزء ہے۔’’أصلھا ثابت فرعھا فی السماء‘‘کی تشریح کرتے ہوئے کلمہ کی طاقت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کلمہ کا جڑ تحت الثریٰ سے ہو کر اس کی شاخیں آسمانوں تک جاتی ہیں، مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا: کلمہ کی مثال تاریک رات میں ٹارچ کی بیٹری کی طرح ہے ، اگر ٹارچ میں بیٹری نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ، ایسے ہی انسان کی زندگی میں کلمہ ہےاور فرمایاکہ: جس طرح جسم کو صحت مند رکھنے کےلئے عمدہ اور مقوی غذا ، پھل فروٹ کی ضرورت ہے ، اسی طرح دل کو صحیح اور پاک و صاف رکھنے کےلئے ایمان اور عمل صالح کی ضرورت ہے ، نہیں تو دل سیاہ و گندہ ہو جائے گا ، مدارس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل صفہ کے اولین طالب علم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ ہیںادارہ اور اس کے بانیوں سے متعلق فرمایاکہ جو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ان کے لیے دعائے مغفرت کریں۔
جلسہ کا آغاز عزیزم محمد شہباز متعلم شعبۂ حفظ کی تلاوتِ قرآن مجیدسے ہوا،حمد پاک محمد جمشید نے پیش کی نعت النبی ؐ محمد خورشید نے اور ترانہ مدرسہ محمد ولی الدین نے پیش کی اور نظامت کے فرائض ناظم جمعیۃ الاصلاح محمدوصی الدین نے انجام دیا ، جلسے میں شریک مہمانوں وعلماء کرام کا مولانا محمد خالد ندوی نے پرجوش استقبال کیا اورمجلہ النور کےخصوصی شمارہ ’’ابنائے ندوہ نیپال‘‘ کا مختصر تعارف پیش کیا یہ کہتے ہوئے کہ اس شمارے کو دس سال مکمل ہو گئے، الحمدللہ سلسلہ وار اس کی اشاعت کا کام جاری ہے اور اب تک ۳ خصوصی شمارے ادارہ نے شائع کئے ہیں ، پہلا خصوصی شمارہ ’’حضرت مولانا مبارک حسین ندوی رحمۃ اللہ حیات وخدمات‘‘ اور دوسرا’’ بیاد مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ ‘‘اور تیسرا’’ ابنائے ندوہ نیپال ‘‘کے نام سے منظر عام پر آ چکا اور اس کا رسم اجراء جناب مولانا ڈاکٹر محمد فرمان صاحب ندوی اور اساتذہ مدرسہ کے ہاتھوں ہوا ۔
اس موقع پر حضرت مولانا محمد عثمان صاحب ندوی مہتمم مدرسہ فاطمہ للبنات، مولانا اسلام الدین صاحب قاسمی ، مولانا صدرعالم صاحب ثاقبی، تبارک حسین ،مولانا عبد الرحمن صاحب ندوی،مولانا محمد ہارون جامعی،حافظ امیر الدین ،مفتی عبد الحنان ندوی وجملہ طلبہ مدرسہ نور العلوم اور مدرسہ فاطمہ للبنات موجود تھے ،مہمان خصوصی کے دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے