تبصرہ: محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
کتاب ”مدحتِ صحابہؓ“
شاعر: متین اَچل پوری مرحوم
ناشر: اِدارۂ ادبِ اسلامی ہند، مہاراشٹر
جناب متین اَچل پوری مہاراشٹر کے ایک معروف اسلامی شاعر ہیں، خصوصاً بچوں کے لئے کافی کچھ لکھاہے۔ حال ہی میں وہ اللہ کوپیارے ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی تحریریں ان کے لئے صدقہ ء جاریہ بنی رہیں۔زیر تبصرہ کتاب ”مدحت ِ صحابہ ؓ “کی رسمِ اجراء یکم فروری 2025ء ہفتہ کو شولاپور (مہاراشٹر) میں ادارہء ادبِ اسلامی ہند مہاراشٹر کی دوروزہ قومی ادبی کانفرنس بعنوان ”سماج کی صورتِ حال اور ادب کاکردار“ کے موقع پرایس ایس اے آرٹس اینڈ کامرس کالج شولاپور میں ہوئی۔
اس کتاب میں جملہ 40صحابہ کرام ؓ کی مدحت بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کانام نامی اسم گرامی سب سے پہلے آیاہے جیساکہ ان کاحق ہے اور سب سے آخر میں حضرت حسان بن ثابت ؓ کی مدحت موجود ہے۔ 40صحابہ کرام اوران کیلئے کہے گئے اشعار کی تعداد کاذکر اس طرح ہوگا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر11اشعارکہے گئے ہیں۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ پر بھی11اشعار، حضرت عثمان غنی ؓ پر10اشعار، حضرت علی شیر ِ خداؓپر 9اشعار، حضرت ارقم بن ابی الارقم ؓ پر 13، حضرت بلال حبشی پر8، حضرت ابوایوب انصاری ؓ14، حضرت زید بن حارثہ ؓ10، حضرت سلمان فارسی ؓ10، حضرت مصعب بن عمیر ؓ10، حضرت ابوذرغفاری 11، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ14، حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ12، حضرت ابوطلحہ انصاری ؓ13، حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ15، حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ 14، حضرت خبّاب بن ارتؓ 10، حضرت نعیم بن مسعودؓ11، حضرت سعدبن معاذؓ9، حضرت عبداللہ بن امِّ مکتوم ؓ 15، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ13، حضرت عکرمہ بن ابوجہل ؓ13، حضرت عمیر بن سعدؓ9، حضرت ربیعہ بن کعب ؓ10، حضرت سعید بن زید ؓ8، حضرت صہیب رومی ؓ8، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ14، حضرت عامربن فہیرہ ؓ10، حضرت سعید بن عامر ؓ10، حضرت ابوہریرہ 8، حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ 14، حضرت خالد بن ولید ؓ10، حضرت زید بن حارث ؓ9، حضرت عمروبن عاصؓ9، حضرت محمد بن مسلمہ ؓ12، حضرت طلحہ بن عبیداللہ تیمی ؓ19، حضرت حسن بن علی ؓ 8، حضرت عماربن یاسر ؓ11، حضرت سراقہ بن مالک ؓ 12اور حضرت حسان بن مالک ؓپر9اشعار کہے گئے ہیں۔اس طرح جملہ 446اشعار(جنہیں مطالع بھی کہہ سکتے ہیں) کہنے کی جناب متین اچل پوری مرحوم کو توفیق ملی ہے۔
چوں کہ ان اشعار کو کہنے میں بھی”توشیحی نظم“کی ہیئت اختیار کی ہے، صحابہ کرام ؓ کے اسمائے گرامی کے حروف کے ساتھ یہ نظمیں شروع ہوتی اور ان ہی کے نام کے حروف پر ختم ہوتی ہیں۔کسی نام میں زیادہ حروف ہوں تو زیادہ شعر کہے گئے ہیں۔ ایسی اور اس سے بڑھ کر توفیق تمام اسلامی شعراء کو ملے تاکہ اسلامی شعرائے کرام کا صحابہ کرام ؓ اوران تمام کی سیرت ِ مبارکہ سے ایک مضبوط روحانی تعلق بنارہے۔کتاب سے بطورِ نمونہ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
کرم خدا کاجو ہاتھ آیا رفیق ایسا
مثالِ سایہ بہر قدم، وہ شفیق ایسا
(حضرت ابوبکرؓ)
مڑے تو جادۂ حق کی طرف کچھ ایسے مڑے
قفس سے جیسے چمن کی طرف پرندے اُڑے
(حضرت عمرؓ)
انھیں ہم جامع القرآن بولیں
فقیر ایسا جسے ذی شان بولیں
(حضرت عثمان غنیؓ)
اسیرِ عشقِ الٰہی، اسیرِ عشقِ رسول ؐ
بچھائے کہکشاں پلکوں پہ، جس کے پاؤں کی دھول
(حضرت علی ؓ)
شرابِ نگاہِ محمد ؐکے پیاسے
اذاں دی، تو دی اور ہی کچھ ادا سے
(حضر ت بلال ؓ)
سلمان ہیں علامتِ تحقیق وجستجو
قلزم کی کھوج میں کوئی سرگرداں آب ِ جو
(حضرت سلمان فارسی ؓ)
سن لیں حضورِ پاکؐ، بڑی شان سے کلام
قرآن جبرئیل سے، حسان ؓ سے کلام
(حضر ت حسّان بن ثابتؓ)
کتاب متاثر کرتی ہے۔ صحابہ کرام ؓ کی سیرتوں سے بھی اور اسلامی تعلیمات کے حوالے سے بھی۔ فصاحت وبلاغت اور علم بیان کی کئی ایکخوبیاں کتاب میں موجودہیں۔ کتاب کے بارے میں عرض ِ ناشر کے تحت پروفیسر مقبول احمد مقبول ؔ صدر ادارہء ادبِ اسلامی ہند، مہاراشٹر کہتے ہیں ”متین صاحب (شاعر:متین اچل پوری)نے مذہبی، ادبی،سماجی اور سیاسی شخصیات پر توشیحی نظمیں لکھنے کاسلسلہ شروع کیاتھا۔ بہت ساری شخصیات پر انھوں نے ایسی نظمیں کہی ہیں۔ ”مدحت ِ صحابہ ؓ “چالیس صحابہ ء کرام کی مدح میں لکھی گئی ایسی ہی توشیحی نظموں کامجموعہ ہے۔ علم بیان میں ”توشیح“صنعتِ لفظی کی ایک قسم ہے۔ یہ نظم اس طرح لکھی جاتی ہے کہ نظم کے تمام مصرعوں کے پہلے حروف یاتمام اشعار کے صرف اولین مصرعوں کے پہلے حروف، ترتیب سے جوڑے جائیں تو مطلوبہ عبارت بن جاتی ہے یاکوئی مطلوبہ نام برآمد ہوتاہے۔ متین صاحب نے جن صحابہ ء کرام پر توشیحی نظمیں کہی ہیں ان میں اس بات کاخاص اہتمام کیاہے کہ جن صحابی پرنظم کہی گئی ہے ان کی سیرت اور مزاج کاخاص پہلو، ان کی اہم ترین خدمات اور کارنامے اجاگر ہوں۔ اس کوشش میں انھیں خاصی کامیابی بھی ملی ہے۔ یہ نظمیں اختصار میں جامعیت کی اچھی مثال ہیں۔حسنِ بیان، خیالات وجذبات کی بہترین ترسیل، سیرت نگاری اور مرقع کشی کے اعتبار سے بلاشبہ یہ تمام نظمیں قابل ستائش اور قابل قدر ہیں“
پروفیسر مقبول صاحب نے ان اشعا رمیں رہ گئی کمی وکسر کی طرف بھی اپنے مضمون میں اشارہ کیاہے۔ اسی سے استفادہ کرتے ہوئے ہماراسوال ہے کہ حضرت حسن بن علی ؓ پر 8اشعار کی منقبت صفحہ 88اور89پر ہے لیکن حضرت حسین ؓ پر کوئی منقبت نہیں ہے، یہ کیاتُک ہے آخر؟ آیا کتاب کے مرتب جناب یوسف مکرم صاحب نے ایسا کیاہے یا شاعر محترم کو حضرت حسین ؓ جیسے عظیم صحابی پر لکھنے کا وقت نہیں ملا؟کیوں کہ متین اچل پوری صاحب کے انتقال کے بعد ان کے فرزند یوسف مکرم نے پبلشر ادارہء ادبِ اسلامی ہند مہاراشٹر کے توسط سے یہ کتاب شائع کی ہے۔مگر یہ بات بھی کتاب کے ناشر نے بتادی ہے کہ ”زیرنظر کتاب کامسودہ متین صاحب نے اپنی نگرانی میں کمپوز کروایاتھا۔ وہ اس کی اشاعت کے لیے کوشاں تھے کہ اللہ کابلاواآیا اور وہ 18/اکتوبر2022ء کو بہتّر برس کی عمر میں راہی ِ ملک عدم ہوگئے۔ اللہ انھیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطافرمائے، آمین“(صفحہ 8) بہرحال توفیق کی بات ہے۔ متین اچل پوری صاحب نے حضرت حسین ؓ پر منقبت ضرور کہی ہوگی لیکن ان پر توشیحی نظم لکھ نہیں سکے۔
اس کتاب کی مطلوبہ درجہ کی پروف ریڈنگ نہیں ہوسکی شاید اسی لئے حروف زیادہ ہوگئے ہیں یا اور قسم کی غلطی کتاب میں رہ گئی ہے۔ 96صفحات کی یہ کتاب ”مدحت ِ صحابہ ؓ “خوبصورت صفحات اور عمدہ سرورق اور عمدہ پس ِ ورق کے ساتھ شائع ہوئی ہے جس کی طرف صوری معنوں میں بھی دل کھینچتاہے۔ جس کے لئے ادارہء ادبِ اسلامی ہند مہاراشٹر کا شکریہ اداکیاجاناچاہیے کہ ایک اہم کتاب کی اشاعت ادارہ کی جانب سے عمل میں آئی ہے۔صحابہ کرام ؓ پر کام کرنے والی تنظیمیں اس کتاب کو خریدیں اور اپنی اپنی لائبریریوں میں رکھیں۔چوں کہ کتاب کااہتمام شاعر کے فرزند جناب یوسف مکرم نے کیاہے۔اس لئے کتاب کی اشاعت کی مبارک باد یوسف مکرم کے موبائل نمبر 9766946694پرانھیں دی جاسکتی ہے۔
