از: ذوالقرنین احمد
موجودہ حالت میں مسلمان اصل مسائل سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ہمارے معاشرہ میں کون کون سے کاموں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اس کے لیے کیا ترتیب ہونی چاہیے، چاہے وقت ہو یا پیسہ یا کوئی فلاحی کام کونسی چیز پر کتنا اور کب کیسے خرچ کرنا ہے اس کی کوئی پلاننگ نہیں ہے عورتیں گھر کے کاموں کی ذمہ داریاں سنبھالنے میں مصروف ہیں، باپ دن بھر کمائی کے لیے پریشان رہتا ہے کوئی زندگی کے اصول باقی نہیں رہے تربیت کا نظام ہماری زندگیوں اور خاندان سے ختم ہورہا ہے۔ رہی لڑکیوں کے مرتد ہونے کی بات یہ ہم دس پندرہ سالوں سے دیکھ رہے ہیں اور اب اس میں انتہائی تیزی دیکھنے مل رہی ہے لڑکیاں ہی نہیں بلکہ لڑکے بھی اب فکری طور پر لبرل ہوچکے ہیں جو تھوڑا بہت دین ہمارے پاس بچا ہے تو وہ اپنے اپنے مکتب فکر اور نظریات کا بچا ہوا ہے دین کے کام کرنے کے نام پر ہم اپنے اپنے مکتب فکر جماعت اور تنظیم کا کام کر رہے ہیں، دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہم موسمی مسلمان بن چکے ہیں،اجتماع آیا تو سب اس میں خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں خدمات بھی ایسی کے بنیادی فرائض قضا ہورہے ہیں’ کوئی فکر نہیں حقوق العباد کا کوئی خیال نہیں، پڑوسی کے حقوق کا کوئی خیال نہیں، سگے بھائی والدین کی فکر نہیں اور اجتماعات جلسے جلوسوں عرس میلے ٹھیلوں میں خدمات لنگر کے نام پر بے دریگ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ سگا بھائی بھوک سے مر رہا ہوتا ہے گلی محلوں میں امت کی مائیں بہنیں قرضوں اور بچت گٹ کے سود اپنی عصمتوں کو نیلام کرکے ادا کر رہی ہیں اور جسم فروشی کے گھناؤنے جال میں پھنس کر زندگیاں تباہ کر رہی ہیں،لیکن اس کی کسی کو کوئی فکر نہیں نبی کی شان میں گستاخیاں ہوتی ہیں تب ہمارے دین کے کام کرنے کا دعویٰ کرنے والے خاموش تماشائی بنے ہوتے ہیں ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہیں۔ انکی غیریت ایمانی مر چکی ہیں اور چلے دین کا کرنے ہر کسی نے اپنے اپنے مکتب فکر کو دین کا کام سمجھ لیا ہے اور باقی زندگی گزارنے کے لیے اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے وقت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں وہی روایتوں میں پڑے ہوئے خون عطیہ کیمپ لنگر، اجتماعات جلسے جلوس عرس اور نا جانے کیا کیا ہو رہا ہے لیکن اس بات کی فکر نہیں ہورہی ہے کہ ہم مستقبل کے چیلنجز کے پیش نظر کیا تیاری کریں اپنی نسلوں ایمان کو بچانے کے لیے ہماری پاس کیا پلاننگ ہے۔ لڑکی بھاگ کر مرتد ہوتی ہے تو سارے سوشل میڈیا کو ایسے خبروں سے بھر دیتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ ملت کے سرمایہ کو صحیح جگہوں پر استعمال کیا جائے اجتماعی زکوٰۃ کا نظام قائم کیا جائے سودی قرضوں سے ملت کی ماؤں بہنوں کو باہر نکالا جائے لڑکیوں کی دینی دنیاوی تعلیم کے لیے اسکول قائم کیے جائیں کالجز قائم کیے جائیں یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے بہت سارے کام ہے جو ملت کی مضبوطی کےلیے ضروری ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کو حلال روزگار سے جوڑنے کے لیے کوئی پلاننگ ہونی چاہیے چھوٹے بچوں کی ذہن سازی کے پروگرام ہونے چاہیے دین کے بنیادی عقائد اور دینی تعلیم کے لیے لڑکے لڑکیوں کے لیے چھ مہینے اور ایک سال کے ڈپلومہ کورسس تیار کرکے اس کے مراکز قائم کیے جائیں تاکہ وہ عصری تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایمان اور اسلام پر قائم دائم رہے اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔
