محمد وسیم راعین
عن أُسَامَة بْن زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ، قَالَ: «ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ»(سنن النسائي :2357)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر آپ شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہیں اتنا آپ کسی اور مہینہ میں نہیں رکھتے ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” رجب اور رمضان کے درمیان ہونے کی وجہ سے لوگ اس ماہ سے غافل ہوتے ہیں ، حالانكہ وہ ایسا مہینہ ہے جس میں اعمال اللہ کے نز دیک پیش کئے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں “۔
مذکور ہ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے مہینہ میں کثرت سے روزہ رکھنے کی دو وجہ بتلائی ہے ۔ان میں سے ایک وجہ شعبان کے مہینے میں ہونے والی غفلت ہے ۔ اس ماہ میں غفلت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے رجب کا مہینہ ، حرمت والے مہینوں میں سے ہے ۔ حرمت والے مہینوں کی دگر ماہ کے بمقابل لوگ زیادہ تعظیم کرتے ہیں ،اس ماہ میں روزہ و دیگر عبادتوں کا اہتمام کرتے ہیں، بہتوں نے تو حرمت والے مہینے میں مختلف قسم کی بدعات ایجادکرلیا ہے۔اسی طرح بہت سے لوگ صرف رمضان ہی میں مختلف عبادتوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ جس كی وجہ سے لوگ اس ماہ کے بارے میں غفلت کا شکار ہیں۔
غفلت کے اوقات کی عبادتیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں ۔مذکورہ حدیث سے غفلت کے اوقات میں عبادت کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔یہ ہم سب کے علم میں ہے کہ رات کے آخری پہر میں تہجد کی عبادت کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ یہ غفلت کے اوقات میں ادا کی جاتی ہے۔
حدیث کی رو سےہمیں یہ ہدایت ملتی ہے کہ غفلت کے اوقات کو عبادت سے معمور کرنا چاہئے ۔بعض سلف سے منقول ہے کہ وہ مغرب وعشاء کے درمیان عبادت کا اہتمام کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ غفلت کے اوقات ہیں۔ لہذاہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم کس قدر غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور غفلت کے اوقات سے کتنا استفادہ کرتے ہیں۔
غفلت کے اوقات میں عبادت کا اہتما م کرنے سے مختلف فوائد حاصل ہوتے ہیں جیسے کہ نیک اعمال لوگوں کی نظر سے مخفی ہوتے ہیں ، یہ زیادہ اخلاص کا باعث ہے ،کیونکہ دکھا کر کئے گئے عمل سے ریاکاری کا خطرہ رہتا ہے اور عام حالات میں نیک اعمال چھپاکر انجام دینا ، دکھا کر کرنے سے بہتر ہے.
اعمال کی پیشی :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے مہینے میں روزہ کی کثرت کو اعمال کی پیشی سے جوڑا ہے ، احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العالمین کے سامنے اعمال مختلف اوقات میں پیش کئے جاتے ہیں :
۱۔ یومی پیشی (رفع یومی):ہر دن دو بار صبح کے اعمال، رات کے اعمال سے پہلے اور رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے پیش کئے جاتے ہیں ۔ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَقَالَ: ” إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ ".(صحيح مسلم:179)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ہمارے درمیان پانچ باتوں کو لیکر کھڑے ہوئے ، آپ نے فرمایا : ’’بےشک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور نہ سونا اس کے شایان شان ہے ، وہ میزان کے پلڑوں کو جھکاتا اور اوپر اٹھاتا ہے ، رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ، اس کا پردہ نور ہے اگر وہ اس ( پردے ) کو کھول دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے،اس کے چہرے کے انواراس کی مخلوق کو جلا ڈالیں‘‘۔
اسی معنی کی ایک دوسری روایت ہے :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلاَئِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاَةِ الفَجْرِ وَصَلاَةِ العَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ "(صحيح البخاري:555، صحيح مسلم:632) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں۔ اور فجر اور عصر کی نمازوں میں ( ڈیوٹی پر آنے والوں اور رخصت پانے والوں کا ) اجتماع ہوتا ہے۔ پھر تمہارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق جانتا ہے، کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے جب انھیں چھوڑا تو وہ ( فجر کی ) نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تب بھی وہ ( عصر کی ) نماز پڑھ رہے تھے۔
۲۔ ہفتہ واری پیشی (رفع اسبوعی): ہر ہفتہ، دو بار پیر وجمعرات کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ، فَيَغْفِرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، لِكُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا "(صحيح مسلم:2565)”لوگوں کے اعمال ہر ہفتے پیر اور جمعرات کے دن دو بار پیش کیے جاتے ہیں ، ہر ایمان والے بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے ، سوائے اس بندے کےجس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور بغض ہوتا ہے ۔ تو ( ان کے بارے میں ) کہا جاتا ہے : ان دونوں کو چھوڑ دو ، یا مؤخر کر دو یہاں تک کہ دونوں ( عداوت چھوڑ کر ایک دوسرے کی طرف ) واپس آ جائیں "۔
۳۔سالانہ پیشی (رفع سنوی):شعبان کے مہینے میں سال بھر کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں جیساکہ اوپر حدیث میں گزر گیا۔
پھر وفات کے بعد زندگی بھر کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور بندہ کا صحیفہ بند کردیا جاتا ہے۔
اعمال کی پیشی کا مطلب یہ نہیں ہےکہ اللہ سبحانہ وتعالی کو بندے کے اعمال کی خبر نہیں ہے ،ایسا ہر گزنہیں ہے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالی کو ذرہ ذرہ کی خبر ہے پھر اعمال کے پیش کئے جانے کی کیا حکمت ہے وہ اللہ تعالی ہی جانتے ہیں ، بندہ مؤمن کا شیوہ ہے کہ اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے بات کی تصدیق کرے اور اس پہ ایمان لائے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے اعمال اچھی حالت میں پیش کروائیں آمین۔
