محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
رفیق سرورؔ جیسا ہے ویسا نظر نہیں آتا۔ شاعر ہے ، ایسے ہی دیکھنے پر شاعر نظر نہیں آتا۔ وہ ایک اچھا انسان ہے ، یہ جاننے کے لئے رفیق سرور کے ساتھ رہنابسناپڑے گا،وہ خوف زدہ رہاکرتاہے توکیوں کر ، بے یقینی ہے تو ظاہر ہے، یہ بے یقینی کسی بھی شاعر کامقدر ہواکرتی ہے۔انسانوں سے احتیاط کرنا رفیق سرور نے سیکھاہے۔ اعتبارکی منزل ابھی نہیں آئی ہے ۔ بہت زیادہ مطلب اور مفاد پرست افرادسے ملاقاتیں ہوں یاوہ لوگ ملاقاتوں کے لئے (گھیراؤ کے مقصدسے )آجائیں تو ایک اچھے اور سچے انسان شاعر کی سانس رکے گی نہیں تو اور کیاکرے گی ؟ملنے والے زنجیر ہواکرتے ہیں لیکن اس زنجیر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے حوصلہ چاہیے۔ حوصلہ ہوتانہیں اسلئے شاعر کہتاہے ؎
ہوائیں فکر کے خیمے الٹ گئیں سرورؔ
تخیلا ت میں اپنے پڑاؤ ڈالے کون
اسلامی مزاج شاعر رفیق سرورؔ :۔ رفیق سرور ؔ کے چہرے اورڈیل ڈول پر نظر پڑتے ہی احساس ہوتاہے کہ کوئی چھوٹے قدکے مولوی صاحب سے ہم مل رہے ہیں ، یہی کچھ میرااحساس ہے۔ اور جب وہ شعر سناتاہے ، توچھوٹا نہیں بلکہ بڑامولوی بن جاتاہے ؎
اذان لے گئی مسجد تلک بلا کے مجھے
نماز روبرو کرتی رہی خدا کے مجھے
وہ ایک جنگ جو چھیڑی تھی اہلِ باطل نے
مراقبیلہ ابھی تک وہ جنگ ہارا نہیں
آئینہ روبرورہتاہے ہمارے ہردم
یعنی ہم اپنے ہی ثانی سے جڑے رہتے ہیں
قلم کو بزرگی عطا کی خدا نے
یہ اعزاز اہل قلم جانتے ہیں
حسنِ اخلاق سے گزر جائیں
اس سے بہتر یہی ہے مرجائیں
رفیق سرورؔ اسلام کا نعرہ نہیں لگاتا، بھاشن نہیں دیتا۔ عملاً کچھ باتیں دھیرے سے پہنچادیتاہے اپنے ساتھیوں تک ۔ اب یہ اس کے ساتھیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی باتوں کو سرآنکھوں پر رکھیںاوردل سے ان باتوں پر چلتے رہنے کی سعی ء محمود کریں ؎
فقط نعرہ لگانے سے کوئی غازی نہیں ہوتا
میاں تلوارکے سائے میں سجدہ کرنا پڑتاہے
درونِ ذات کئی کہکشاں بچھائے ہوئے
زمیں پہ لیٹے ہیں ہم آسماں بچھائے ہوئے
چیٹھروں میں بھی رہے ہم تو رہے معیارسے
اور سنبھالے ہی رہے سرورؔ وقارِ زندگی
رفیق سرورؔ کے کئی ایک شعر اپنے اندر معنی کی تہیں رکھتے ہیں۔ جس کااحساس رفیق سرور کوبھی ہوگا اور یہ یقین بھی ہوگاکہ ان کے شعر اب نہیں بلکہ بہت بعد ان کے چاہنے والوں پر ، کالج میں اردو پڑھنے اور پڑھانے والوں پرکھلیں گے ، جیسے ان اشعار کو دیکھیں ؎
تم مطمئن ہودھوپ کے ٹکڑے سمیٹ کر
میں چاہتاہوں سائے کو خود دار دیکھنا
اب قید میں بھی رکھی گئی فاصلوں کی شرط
کنج ِ قفس میں اتنی فراوانی ہائے ہائے
رفیق سرورؔ کی دنیاداری :۔ رفیق سرورؔ کودنیا داری آتی ہے ، اس وسیع دنیا میں پاگل بھی دنیا داری کے معنی اور مفہوم سے آشناہوکر دنیا کرنے نکل پڑتاہے۔ رفیق سرورؔ کی دنیاداری اس طرح ہے ؎
کسی کے واسطے آنکھیں بچھانی پڑتی ہیں
کسی کو دیکھ کے رستہ بدلنا پڑتاہے
نقد کرنا شاعر کی فطرت میں شامل ہے۔ بلکہ اس زمین کاسب سے بڑا نقاد شاعر ہی ہوتاہے ۔ آپ مانیں یانہ مانیں ، رفیق سرور ؔ نے بھی نقد کرتے ہوئے کہاہے ؎
کیوں لفظ میں ڈھلتانہیں دیکھا ہوا منظر
کیوں وقت پہ کھلتی نہیں اخبار کی آنکھیں
کچھ فیصلے محتاجِ تعلق نہیں ہوتے
ہر فیصلہ احباب پہ چھوڑا نہیں جاتا
شرافت، عصمتیں، خود داریاں سب بیچ کر سرورؔ
یہ کیسے لوگ ہیں ، دولت کمانے گھرسے نکلے ہیں
ہاتھ، بڑھ کر ملائے لوگوں نے
ٹوٹ کر کوئی بھی ملا ہی نہیں
تمہیں بھی زہر لگتے ہیں مرے اشعار کے نشتر
مجھے بھی نسل ِ نو کی بے لباسی زہر لگتی ہے
کچھ شعر مجھ کو کہنے ہیں اپنے خلاف بھی
اب مسئلہ ہے یار قلم کے وقار کا
رفیق کے پاس کئی ایسے شعر ہیں جن کو پڑھتے ہوئے ذہن کے کینوس پرچلتی پھرتی تصویریں بن جاتی ہیں ؎
تھکن سے چور جب میں راستوں پر لیٹ جاتاہوں
ضرور ت خواب میں آکر مجھے بیدار کرتی ہے
میں آنکھوں ہی آنکھوں میں غزلیں سناؤں
یہ آنکھیں اگر مسکرائیں تمہاری
کسی کو سوچوں تو خوشبو درآئے سانسوں میں
کسی کو دیکھوں تو دِل کو قرارآنے لگے
اسی طرح رفیق سرورؔ کے لہجے کی جدیدیت متاثر کرتی ہے ، اس جیسے دس بیس شعر ہمیں مل سکتے ہیں، پوری پوری غزل بھی تلاشی جاسکتی ہے ؎
ہواکے کان میں سورج نے یہ کہاسرور ؔ
کہیں پہ سایہ ملے تو ہمارا تخت لگا
دعائیں مانگنے والا رفیق سرورؔ:۔دورِ حاضر دعاؤں کے لئے مشہور ہے ۔ دعا دینے اور دعالینے کاچلن عام ہے جس سے شعراء بھی متاثر ہیںاور رفیق سرورؔ جیساشاعربھی ہنوزمتاثرہے۔ وہ دعامانگتے ہوئے کہتاہے ؎
منجمد جھیل میں نہ ڈال ہمیں
کردے موجوں کاہم خیال ہمیں
اخیر وقت بھی کلمہ ترا ہی لب پر ہو
مرے خدا مجھے دنیا سے کامیاب اٹھا
زندگی کے اہم ترین لمحے اور لہجے سنبھال کررکھنارفیق سرورؔکو آتاہے۔ اور وہ پوری ذمہ داری سے ان لمحوں اور لہجوں کو سنبھال کررکھتاہے تاکہ ان لمحوں کی دردل پر ہونے والی دستک نئے لہجے کی دستک بن سکے ؎
ایک اِک فرد کوبسا دِل میں
ایک اِک فرد ہو تجھے محسوس
میرے خوابوں کواوڑھ لیناتو
رات جب سرد ہوتجھے محسوس
رفیق سرورؔ کے شعری مجموعہ کاعنوان ’’نئے لہجے کی دستک‘‘ ہے ۔ اس اکلوتے اور لاڈلے شعری مجموعہ کادھما ل اور اس کاجادو چل رہاہے الحمد للہ ۔ زمین ، آسمان ، درخت ، دھوپ، سایہ ، خون ، پیڑپودے، ندی ، سیلاب، تتلیاں ، آئینہ ، پتھر، فٹ پاتھ ، وغیرہ جیسے الفاظ رفیق سرورؔکے دوست ہیں۔ اور یہ الفاظ شاعر محترم سے دوستی نبھانے کے لئے فکر سخن کے وقت ہمیشہ دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ بہرحال اتنا تو صاف ہے کہ نئے شاعروں میں دم خم ہے، لکھنے بولنے کے لئے بہت کچھ اس دنیامیں ہے ۔ وہ لکھ رہے ہیں ، اور ایک خاموش جنگ میں مصروف بھی ہیں۔ اتنی گزارش ہے کہ اپنے اسلوب سے ’’میں اور وہ ، تیرے میرے ، تجھے مجھے ‘‘کے جھگڑے سے خود کونکالنے کی نئے شعراء کو شعوری سعی کرنی چاہیے تاکہ کوئی دیگر اسلوب ہاتھ لگ سکے یادورِ حاضر کے اسلوب میں تبدیلی آئے ۔ جس کے ذریعہ نسل ِ نوکی آبیاری کی جاسکے ۔ نسل ِ نوکی کمزوریاں یا برائیاں بیان کرنے کاحاصل مزید دقتوں اور تکالیف سے گزرنا ہوگا۔لہٰذا صرفِ نظر ضروری ہے۔
رفیق سرورؔ کے پاس بھی کہنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ کئی ایک دشوارکن مرحلے ایسے بھی ہیں جو ان کے تجربہ کار، محقق اور ملزم قلم کی نوک سے صفحہ ء قرطاس پر بکھیرے نہیں جاسکے ہیں۔ اللہ نے چاہاتو وہ مرحلے بھی آسان ہوکر ان کے قارئین اور اُردو ادب تک پہنچ جائیں گے۔ مالیگاؤں جیسے محنت کشوں کے اردوشہرکے دورِحاضر کاعمرعیار اپنی زنبیل سے بہت کچھ قارئین تک پہنچادے گاان شاء اللہ ، انتظار فرمائیں ؎
کسی کے پھول سے چہرے کے ساتھ اے سرورؔ
ہمارے خواب میں کچھ تتلیاں بھی ہوتی ہیں
٭٭٭
