عبدالغفار صدیقی
میں یہ بات صرف عقیدے اور آستھا کی بنیاد پر نہیں بلکہ پورے شعور اور مطالعہ کی بنیادپر کہہ رہا ہوں کہ دین اسلام ہی برحق دین ہے ۔یہ وہ دین ہے جو انسانوں کو عزت دیتا ہے ،انھیں آسانیاں فراہم کرتا ہے ،ان کے جذبات و احساسات کا خیال رکھتا ہے ،اس کی ضروریات کی تکمیل کے اسباب فراہم کرتا ہے ۔انھیں مسرت و شادمانی کے مواقع فراہم کرتا ہے ،انھیں خوشی وغم کے آداب سکھاتا ہے ۔علم و شعور کی بنیاد پر مسلمان دو قسم کے ہیں ۔ایک وہ لوگ جو کسی مسلم گھر میں پیدا ہوئے ،ان کے والدین مسلمان تھے ،وہ مسلم سماج میں پلے بڑھے ،انھوں نے مسلمانوں جیسے نام رکھے ،مسلمانوں کی طرح کچھ رسوم و رواج انجام دیے اس لیے وہ خود کو مسلمان کہتے ،لکھتے اور سمجھتے ہیں اور دنیا بھی ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کرتی ہے ۔دوسری قسم ان مسلمانوں کی ہے جنھوں نے شعور کی عمر پہنچنے کے بعد اسلام کو سمجھا ،پر کھا ،تقابلی مطالعہ کیا اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ چاہے ان کی پیدائش مسلمان گھر میں ہوئی ہو یا نہیں ۔ان کا اسلام شعوری ہے ،ان کا ہر عمل دلائل و شواہد کی بنیاد پر ہے اور ان کو اپنے مسلمان ہونے پر صرف فخر نہیں بلکہ شرح صدر بھی ہے ۔مسلم شماری کے لحاظ سے اول الذکر قسم کے مسلمانوں کی تعداد نناوے اعشایہ نناوے فیصد ہے ۔اس کے باوجود میں انھیں ان کے مسلمان ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں ۔میں انھیں تہنیت پیش کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کانام کس فہرست میں ہے میں نہیں کہہ سکتا لیکن دنیا ان کو مسلمان سمجھتی ہے اور ظالم اسی بنا پر انھیں ستاتے ہیں ۔لیکن وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے ،گوشت کھانے ، ختنہ کرانے ،شب برات و محرم منانے ،جلسے جلوس نکالنے ،نکاح میں تمام خرافات کے ساتھ ایجاب و قبول کے دو بول پڑھنے ،اپنے مردوں کے نام پر تیجہ ،دسواں اور چالیسواں کرنے کے ساتھ انھیں کفنانے و دفنانے کی بنیاد پر ہی سہی کم سے کم ہماری دنیا میں مسلمان شمار ہوتے ہیں ۔ ان کے اندر بہت سی خرافات ہونے کے بعد بھی وہ ایسی بہت سی خرافات سے دور ہیں جو انسانیت کے نام پر بدنما داغ ہیں۔ ہم ملک کے جس علاقہ میں رہتے ہیں وہاں کی اکثریت کا مذہب ہندو ہے ،جسے وہ سناتن بھی کہتے ہیں ۔اس لیے ہماری تحریر کا موضوع وہی ہیں۔ہم فی الوقت اس پر بالکل گفتگو نہیں کررہے ہیں کہ سناتن یا ہندو دھرم کیسا ہے ؟نہ ہم اس کی کوئی مخالفت کررہے ہیں اور ان اس پر کوئی تنقید کررہے ہیں ۔ہم آپ کو ان کے مذہب اورمہاکمبھ کی چند تصویریں دکھارہے ہیں ۔جو سوشل میڈیا پر موجود ہیں اور میری طرح ہزاروں لوگوں نے دیکھی ہیں ۔
یہ ناگائوں کا اکھاڑا ہے ۔اس میں سب سادھو اور سنیاسی ،ناگا ہیں ،یعنی ننگے اور برہنہ ہیں ۔ان میں کئی اکھاڑے ہیں ۔لیکن عریانیت سب میں قدر مشترک ہے ۔ان میں سے بعض لوگ لنگوٹ پہنتے ہیں لیکن کمبھ اشنان میں ایک رسم ادا کرنے کے بعد وہ اس سے بھی آزادی حاصل کرلیتے ہیں ۔جین دھرم میں بھی ایک فرقہ جسے دگمبر کہتے ہیں مستقل برہنہ رہتے ہیں ،یہاں تک کہ ان کے عضو تناسل کی پوجا کی جاتی ہے اور اس پر دودھ چڑھایا جاتا ہے ۔ناگا سادھو اپنے ساتھ ہتھیار بھی رکھتے ہیں ۔یہ بھی بتاتے چلیں کہ ابتداء میں یہ اکھاڑے اس لیے قائم کیے گئے تھے تاکہ وہ بیرونی حملہ آوروں یعنی مسلمانوں سے اپنے دھرم کی حفاظت کریں ۔ان کا قیام آٹھویں صدی میں ہوا۔اکھاڑے میں شامل لوگ ایک طرح سے سپاہی اور فوجی تھے اور انھیں ہتھیار چلانے کی مشق دی جاتی تھی ۔اسی لیے ان کے نام کے ساتھ اکھاڑا لگایا جاتا ہے ۔
یہ ایک مہاراج ہیں جو اپنا ایک ہاتھ اوپر کی طرف اٹھائے ہوئے ہیں ۔ان کو اس حال میں دس ،بارہ اور پندرہ سال ہوگئے ہیں ،انھوں نے اس ہاتھ کا استعمال ہی ترک نہیں کیا بلکہ اس کو کبھی نیچے بھی نہیں کیا ۔ایک مہاراج کھڑے ہوکر ہی اپنا تمام کام کرتے ہیں ،وہ کبھی بیٹھتے یا لیٹے نہیں،ان کو بھی اس حالت میں برسوں بیت گئے ہیں ،ایک صاحب ہیں جو بات نہیں کرتے ،بولتے نہیں ،خاموش رہتے ہیں ،ایک صاحب صرف بیٹھے رہتے ہیں کبھی لیٹتے نہیں ۔ایک صاحب کچھ کھاتے نہیں بلکہ کسی مشروب پر زندہ ہیں ،ایک بابا ایسے بھی ملے جو چرس اور گانجے کا استعمال کرتے ہیں ،انھوں نے ایک انٹر ویو میں بتایا کہ سائوتھ کا گانجا اچھا ہوتا ہے ۔یعنی آئین کی رو سے ممنوع اشیاء کا استعمال کرتے ہیں ۔یہ اور اس طرح کے بہت سے لوگ ہیں جو مختلف طریقوں سے اپنے پاپی شریر کو تکلیف دے رہے ہیں ۔انھیں ہندو سماج بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے ،ان کی پوجا کرتا ہے اور ان پر چڑھاوا چڑھاتا ہے ۔ایک بابا کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں ،ایک مہاشے لوگوں کو مار رہے ہیں ۔ان کی یہ حرکتیں بھی عبادت کا حصہ سمجھی جاتی ہیں ،بلکہ وہ جسے گالی دے دیں وہ بڑا خوش نصیب ہے ۔جو ان کے ہاتھ سے زخمی ہوجائے وہ دھنیہ ہے ۔
اسی دھرم کا ایک عمل سمادھی لینا ہے ۔جب کوئی سنت، مہاتما یا مذہبی انسان مرنے کے قریب ہوتا ہے ۔حالانکہ وہ زندہ ہوتا ہے اور اس کی سانسیں چل رہی ہوتی ہیں ،اس کو ہوش بھی رہتا ہے اور یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ ابھی اس کی زندگی کتنی باقی ہے تو اس کو مذہبی رسوم ادا کرنے کے ساتھ ہی ایک بورے میں بھر کر اور اس کے ساتھ کچھ بڑے بڑے پتھر لٹکا کر دریا میں ڈال دیا جاتا ہے ۔اس کو وہ سمادھی لیجانا کہتے ہیں اورایسے کرنے والے کی نجات کو یقینی جانتے ہیں ۔
یہ تمام اعمال وہ اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے یہاں جسم ایک گناہ گار وجود ہے ،اس کو جس قدر تکلیف دی جائے گی یہ اسی قدر نجات کے قابل بن جائے گا ۔اس لیے اسے طرح طرح سے تکلیف دی جانی چاہئے ۔اللہ کا شکر ہے کہ اسلام میں اس کے برعکس جسم اللہ کی امانت ہے ،اس میں کسی طرح خیانت نہیں کی جاسکتی ۔نہ اسے بلا وجہ بھوکا رکھنا چاہیے ،نہ ننگا ،عریانیت کا عبادت سے کیا علاقہ ،یہ ہمیشہ سے بد اخلاقی میں شمار کی جاتی رہی ہے مگر برا ہو دھرم کے ٹھیکیداروں کا انھوں نے عریانیت کو بھی عبادت بنادیا ۔نبی ؐ کی بعثت سے قبل کچھ لوگ خانہ برہنہ ہوکر کعبہ کا طواف کرتے تھے ۔اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے ۔وہاں اللہ نے صاف کہہ دیا کہ ہم نے انھیں کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ جسم اللہ کی عطا ہے اس لیے اس سے وہی کام لینا چاہئے جو اللہ نے مقرر کیے ہیں ،اس کی ہدایت و رہنمائی کے برعکس کام لینا بھی جسم پر ظلم کرنا ہے ۔
اس ضمن میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ جسم کو تکلیف دینے کا تصور خود مسلمانوں میں بھی موجود رہاہے ،حالانکہ اب کچھ کمی محسوس کی جارہی ہے ،لیکن صوفیاء کے یہاں ترک دنیا کے واقعات موجود ہیں ۔اسے وہ زہد و تقویٰ کا نام دیتے ہیں جب کہ یہ غیر اسلامی تصور ہے ۔اسلامی احکامات کے دو ہی ماخذ ہیں ۔پہلا قرآن اور دوسرا نبی اکرم ؐ کا عمل جسے ہم سنت کہتے ہیں ۔ان دونوں ماخذوں کے علاوہ کوئی تیسرا ماخذ نہیں ہے ۔باقی تمام احکامات ان دونوں ماخذ کی روشنی میں ہی مستنبط کیے جائیں گے ۔کسی صحابی یا کسی بزرگ کے عمل کو ان دونوں ماخذوں پر ہی جانچا اور پرکھاجائے گا ۔اگر کوئی عمل نبی ؐ سے ثابت نہ ہو تو خواہ وہ کسی کا بھی عمل ہو ہمارے لیے اسوہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔مسلمانوں میں بعض بزرگوں کے تعلق سے ایسے واقعات درج ہیں جن کا تعلق اسی سوچ اور ذہنیت سے ہے جو ہمارے وطنی بھائیوں میں پائی جاتی ہے اور جس کی مثالیں اوپر دی گئی ہیں ۔یہاں بھی ایک بزرگ ہیں جو صرف جو کے ستو پر گزارہ کرتے ہیں ،یہاں بھی کوئی شخصیت ایسی ہے جو ایک دن میں پورا قرآن پڑھ لیتی ہے ،بلکہ ایک دن میں پورا کرتی ہے اور ایک رات کو،یہاں بھی کوئی صاحب کشف و کمال اپنے جلال سے بیوی کو جلا کر خاک کردیتے ہیں ،کوئی بارہ برس تک بیری کے درخت کی شاخ کو پکڑے کھڑے رہتے ہیں ۔ایسے جتنے بھی واقعات ہیں وہ نہ صرف فرضی ہیں ،بلکہ غیر اسلامی بھی ہیں ۔
اب ایک اور پہلو کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں ۔ہماری موجودہ حکومت انسانیت کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے ،وہ انسانوں کے حقوق خاص طور پر مسلم خواتین کے لیے بڑی فکر مند ہے ۔کبھی طلاق کو ظلم کہتی ہے اور کبھی حجاب کو آزادی کے خلاف گردانتی ہے ۔یہاں تک کہ ہمارے آئین میں کسی کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال بھی جرم ہے جس سے دوسرے کی ہتک ہوتی ہو ۔لیکن اسے وہ مہاراج نظر نہیں آتے جو جیتے جی اپنے جسمانی اعضاء کا استعمال نہ کرکے انھیں ناکارہ بنا رہے ہیں ،اسے وہ ننگے سادھو نظر نہیں آتے جو اپنے پوشیدہ اعضاء کی نمائش کرکے سماج میں بے حیائی اور بے شرمی پھیلا رہے ہیں ،اسے مذہب کی ان تعلیمات میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی جو اچھے بھلے انسانوں کو بے عمل بنا کر سماج کی ترقی و خوش حالی میں اپنا کردار ادا کرنے سے روکتی ہیں۔اگر پورے ملک کے لوگ ناگائوں کی تقلید کرتے ہوئے برہنہ رہنے لگیں تو ذرا تصور کیجیے اپنا ملک کیسا لگے گا ؟سب بوڑھوں اور بزرگوں کو سمادھی دی جانے لگے تو کون زندہ بچے گا ؟جب ایک سادھو چرس اور گانجا پی کر ثواب کا مستحق ہوسکتا ہے تو اس دیش کا نوجوان مجرم کیوں ہے ؟اگر ملک کے سارے لوگ بابائوں کی طرح سنیاسی ہوجائیں تو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کون کرے گا ؟پھر باہری طاقتیں اس پر قبضہ کرلیں گی اور ہمیں غلام بنا لیں گی ۔میری ارباب حکومت سے گزارش ہے کہ وہ ہر سماج کی غیر انسانی رسوم میں اصلاحات کرنے کی تدابیر اختیار کرے ۔انسان کی جان اوراس کی آبرو ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے ۔شرم و حیاء مہذب سماج کی شناخت ہے ،شادی بیاہ نسل انسانی کی بقا کی ضامن ہیں ،خالق کی نعمتوں پر انسان کا پہلا حق ہے ۔اگر ادیان کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اللہ اور ایشور نے انسانوں کو کسی ایسے کام کا حکم نہیں دیا جس سے وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوں اور کائنات میں موجود اس کی نعمتوں سے محروم ہوجائیں ۔مسلمانوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ نسلی مسلمان ہی نہ رہیں بلکہ اپنے دین کے حقیقی ماخذ کے ذریعہ دین کو سمجھیں اور اس پر عمل پیرا ہوں ۔
