شب برات کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے

مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی 

 دین اسلام ایک سچا دین ہے،اس کی شریعت کامل و مکمل ہے،اس میں عبادت کا پورا ذکر و بیان موجود ہے، عبادت ہی ہماری پیدائش کی بنیادی غرض و غایت ہے، اللہ تعالی کی عبادت فرض و واجب ہےاور عبادت صرف اللہ رب العالمین کے لیے خالص ہونی چاہیے۔

عبادت نام ہے کہ مخلوق صرف اپنے خالق کے لیے مکمل انکساری، خضوع، انقیاد اور کامل تابعداری کا مظاہرہ کرے، اس میں اللہ تعالی سے محبت اور اس کا خوف نیز اس کی خشیت ضروری ہے۔

عبادت ہراس قول و عمل اور نیت و ارادہ کا نام ہے (خواہ ظاہری ہوں یا باطنی) جس سے اللہ تعالی خوش ہوتا ہے اور اس پر اجر و ثواب عطا کرتا ہے۔

عبادت کی صحت اور قبولیت کے لیے اہم ترین شروط یہ ہیں کہ عبادت کرنے والا مومن و موحد اور مخلص ہو،اس میں اور اس کے عمل میں شرک کا شائبہ نہ ہو،ساتھ ہی وہ عبادت سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں انجام پائے، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل متابعت ہو۔

اگر عبادت کا ثبوت نہیں ہے اور کتاب و سنت میں اس کی دلیل نہیں ہے یا وہ عبادت کرنے والا مشرک و بدعتی ہے یا کسی عمل میں وہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کی مخالفت کرتا ہےتواس کا وہ عمل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹا ہوااس کا ایجاد کردہ ہے اور وہ تو بدعت وگمراہی ہے اور انجام ضلالت نار جہنم ہے۔

15 ویں شعبان کی شب کو شبِ برات کہنے اور اس میں کسی خاص عبادت کو انجام دینے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

مسلمان کو کتاب و سنت کی روشنی میں اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی توفیق دے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے