اردو ایک زندہ جاوید زبان ہے۔ اس لئے اردو کی تابانی ہر دور میں رہی ہے۔ آج بھی اس کی جاویدانی میں بہت سارے جاویداں چہرے شامل ہیں۔ کہیں پڑوس کے جاوید چودھری، جاوید غامدی اور کہیں احمد جاوید وغیرہ شامل ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ متنازع موضوعات کے سبب بھی یہ کچھ مشہور زمانہ رہے مگر کہیں نہ کہیں اس تشہیر کا میڈیم اردو ہی ہے۔
اپنے یہاں بھی اردو کے ایک اچھے قلم کار احمد جاوید صاحب ہیں۔ شان دار قلم ہے۔ ماشاءاللہ
جاوید جمیل بھی ایک مصنف ہیں انگریزی کے مگر اردو داں حلقے میں بھی نظر آتے ہیں۔ اردو کے ساتھ یہ بھی اچھی بات ہے کہ دیگر زبانوں کے بھی اچھے لوگ اس کی محفل میں جب شامل ہوتے ہیں تو اردو کی شیرینی سے ضرور لطف اندوز ہوتے ہیں۔
اردو اور طب یونانی کا بھی آپس میں گہرا رشتہ رہا ہے اور بہت مضبوط ترین ہے۔ اس لئے بھی اردو زندہ رہے گی کیونکہ شریف اور عمر دراز، سنجیدہ اور صابر و شاکر لوگ ضرور یونانی دواؤں کا استعمال کرتے ہیں۔ لہذا اردو کا ماضی ہی نہیں بلکہ مستقبل بھی روشن اور تابناک ہی رہے گا۔ ان شاء اللہ
اتفاق سے اردو کے ساتھ عجیب حالت رہی، اسے استعمال کیا گیا، سنایا گیا مگر یہ نظر کم آتی ہے۔ اس کے چاہنے والے بہت ہیں لیکن مخلص عاشق کم ہیں۔ اردو کمزور ضرور ہوئی ہے مگر یاد رکھئے آج بھی بھیڑ اکٹھا کرنے میں اسے نمایاں مقام حاصل ہے چاہے رام لیلا میدان میں سیاسی یا دینی جلسہ ہو یا وادی ہُدی کا دینی، فکری و ملی اجتماع ہو اور چاہے مشاعرہ ہو ۔ اور یہ اردو سے محبت کی دلیل ہے۔
اردو نے جذباتیت بھی پھیلائی ہے اور جذبہ و حوصلہ دے کر انقلاب کی آمد کا بھی موقع اس کے ذریعے آیا ہے۔ اردو کو صرف زلف و رخسار کا الزام دینے والے غلط ہیں جس کا ذکر کبھی کبھی آتا ہے۔ اس زبان میں حسن وجمال ہی نہیں جاہ و جلال بھی ہے جسے دیکھنا ہو وہ “مغل اعظم“ دیکھ سکتا ہے، کیا پتہ اس فلم کا بھی نام کبھی بدل دیا جائے۔
آئیئے !
اس مہم کا حصہ بن کر اس کو زندہ دل لوگوں کی زبان بنایا جائے جس زبان نے قوم و ملت کو بلا امتیاز عزت و وقار دیا ہے اور آزادی دے کر اہل بریطانیہ سے نجات دلائی ہے۔ اردو ایک زبان نہیں ایک تہذیب اور ہماری شناخت بھی ہے۔ اپنے نام کی ایک تختی لگائیے۔ ان شاءاللہ ایک فیلنگ آئے گی۔
شکریہ
نوراللہ خان
