بقلم : انعام اللہ بستوی
معتمد بزم خطابت دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
زندگی ایک طویل سفر ہے، جس میں انسان مختلف مراحل اور آزمائشوں سے گزرتا ہے۔ بعض امتحانات قلم اور کاغذ کے ذریعے لیے جاتے ہیں، جن کی تیاری کے لیے نصابی کتب کا سہارا لیا جاتا ہے، جبکہ کچھ امتحانات زندگی خود لیتی ہے، جن میں صبر، حوصلہ، اور استقامت کا امتحان ہوتا ہے۔ یہ امتحانات کسی مخصوص وقت اور جگہ کے پابند نہیں ہوتے، بلکہ اچانک، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، انسان کے حوصلے اور ایمانی قوت کو جانچنے کے لیے راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
سالانہ امتحانات کی تیاری کے دوران جب کتابوں کا بوجھ ذہن پر سوار ہو، ہر لمحہ سوالات کی الجھن میں گزرے، اور پھر اچانک کوئی ناگہانی خبر دل پر بجلی بن کر گرے، تو وقت تھم سا جاتا ہے۔ قلم ہاتھ میں لرزنے لگتا ہے، صفحات پر لکھے الفاظ دھندلے ہو جاتے ہیں، اور ذہن میں ایک شور برپا ہو جاتا ہے۔ ایک لمحے میں سب کچھ بے معنی سا لگنے لگتا ہے، اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کی حقیقت آنکھوں کے سامنے بے نقاب ہو گئی ہو۔
امتحان گاہ میں داخل ہونے پہلے ہی دل تیزی کے ساتھ دھڑکنے لگا، ایک عجیب سی کشمکش طاری ہوگئی ۔ ایک طرف مسلم شریف کے دقیق سوالات کا خوف حافظے پر سوار تھا ، دوسری طرف اپنے ایک عظیم محسن کو اچانک کھو دینے کی خبر حواس باختہ ہی کر دینا چاہتی تھی، پورا وجود کانپ رہا تھا، علاقہ کے موقر اور محترم عالم دین، حضرت مولانا ابوالکلام مظاہری رحمہ اللہ، اس دارِ فانی سے رخصت ہو چکے تھے ۔ یہ خبر کسی زلزلے سے کم نہ تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی طوفان اچانک آگیا ہو جس نے سب کو نفسی نفسی کے عالم میں پہنچا دیا ہو ، سب امتحان ہال میں چلے گئے اور میں خبر کی تحقیق و تصدیق میں لگ گیا، جس خبر پر دل و دماغ یقین کرنے کے لئے کسی طور پر تیار نہ تھے آخر کار یقین کرنا ہی پڑا،جس نے چالیس سال تک جہالت کے نہ جانے کتنے پردے چاک کئے تھے علم و دانش کا وہ چراغ بجھ چکا تھا، رہنمائی کا ایک چمک دار ستارہ افق میں ڈوب گیا تھا ۔ دل بے چین ہو گیا ، آنکھیں اشک بار ہو گئیں ، اور ذہن میں خیالات کا ایک طوفان برپا ہو گیا ۔
گھڑی پر نظر گئی تو پتہ چلا پرچہ شروع ہونے والا ہی ہے، جلدی سے امتحان ہال میں داخل ہوا، نشست گاہ پر پہنچا تو پرچہ سامنے تھا، سوالات درج تھے، مگر ذہن کہیں اور ٹھہرا ہوا تھا۔ قلم ہاتھ میں تھا، مگر دل صدمے کے بوجھ تلے دب چکا تھا۔ یہ صرف ایک علمی امتحان نہ تھا، بلکہ زندگی کا ایک بڑا امتحان تھا۔ ایک ایسا امتحان جس میں صبر، حوصلہ، اور ضبط کی آزمائش تھی۔
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
دنیا میں ہر شخص ایک متعین وقت لے کر آتا ہے۔ یہاں نہ کسی کو دوام حاصل ہے اور نہ ہی کوئی ہمیشہ کے لیے سکون و قرار کا مالک ہے۔ کامیاب وہی ہے جو زندگی کو مقصدیت کے ساتھ گزارے، اپنے وجود کو علم، دین اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دے، اور اپنی آخرت کی تیاری کرے۔
مولانا ابوالکلام مظاہری رحمہ اللہ بھی ایک ایسی ہی عظیم شخصیت تھے۔ وہ تقویٰ و للہیت کی جیتی جاگتی مثال، سادگی و بے تکلفی کے پیکر، اور علم و معرفت کے فروغ میں مصروفِ عمل ایک درخشاں ستارہ تھے۔ چالیس سال سے زیادہ عرصے تک مادرِ علمی، مدرسہ عربیہ حمایت الاسلام، کردہ بستی میں تدریسی و اصلاحی خدمات انجام دیتے رہے۔ جامع مسجد کے منبر سے ہر جمعہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی صدا بلند کرتے رہے۔ جمعیت علماء ہند، بستی کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی دینی و سماجی خدمات انجام دیتے رہے۔
ان کی ذات صرف ایک عالمِ دین کی نہیں تھی، بلکہ وہ محبت و شفقت، حلم و بردباری، خلوص و للہیت، اور ایثار و قربانی کی ایک زندہ مثال تھے۔ وہ ایک مربی بھی تھے اور مصلح بھی، ایک معلم بھی تھے اور داعی بھی۔ ان کی زندگی دینِ متین کی خدمت اور اصلاحِ امت کے لیے وقف تھی۔ ان کے چہرے پر تقویٰ و نورانیت کی جھلک نمایاں تھی، ان کی باتوں میں حکمت تھی، اور ان کے کردار میں اخلاص کا عکس جھلکتا تھا۔
والد محترم سے ان کا گہرا ربط تھا۔ جب بھی گھر تشریف لاتے، تو ایک خوشگوار اور روحانی ماحول پیدا ہو جاتا۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص کچھ نہ کچھ سیکھ کر اٹھتا۔ مادر علمی میں اردو کی تعلیم دیتے ہوئے وہ محض زبان نہیں سکھاتے تھے، بلکہ الفاظ کے ذریعے زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتے تھے۔ وہ اپنے شاگردوں کے لیے ایک معلم سے بڑھ کر ایک روحانی رہنما تھے۔
9 فروری 2025 کی شب، تقریباً 3 بجے، وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔
ان کی وفات ایک ناقابلِ تلافی علمی و روحانی نقصان ہے۔ علم کے اس آفتاب کا غروب ہو جانا صرف ایک فرد کی رحلت نہیں، بلکہ اہلیان کردہ کے لئے خصوصاً مادر علمی کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پس ماندگان، شاگردوں، اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا کرے اور مادرِ علمی کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
