كتبه: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ، یہ تو مؤمن کیلئے موسم بہار ہے ، رمضان المبارک اللّٰہ تعالٰی کے مبارک مواسم میں سے ہیں،اور رحمان کے مہمان ہیں ۔ آئیے رمضان کا استقبال کیسے کریں جانتے ہیں ۔
1-رمضان کی آمد پر خوش ہوں اور اسے رب کی طرف سے عظیم نعمت جانے ۔
2-رمضان میں عبادات وطاعات میں اجتہاد کریں اور انابت الی اللہ کیلئے مسلسل کوشش کرے اور مزیدکیلئے پر عزم ہوں۔
3- روزہ دار رمضان کے تمام روزۓکی تکمیل کی کوشش کرے ، کثرت سے اللّٰہ کا ذکر کرے ۔ مشاغل دنیا اور متاعب حیاۃ کو کنارہ کرکے صرف رب سے تعلق جوڑنے کی کوشش میں لگے رہے ۔
4- رمضان میدان تنافس ہے اور مقابلہ کا دور ہے زیادہ سے زیادہ مؤمن بندہ طاعت و بندگی میں تنافس کرے ۔ اور یہ سمجھے کہ بس یہ آخری رمضان ہے شاید ۔ آگے موقع ملے نہ ملے ابھی جتنا ہوسکے رب سے قربت حاصل کرنے کی جتن کرتے جاۓ ۔
5- روزہ دار کو چاہیے کہ ہمہ وقت وہ لیل نہار ایمان و احتساب پر نظر رکھے ۔ کہ کہیں اس کا روزہ کسی حرکت سے ضائع تو نہیں ہورہا ہے ۔
6- رمضان المبارک کے مہینے میں قرآن مجید سے خاص تعلق بناۓ ،خصوصی توجہ دۓ۔ رمضان اور قرآن کا نہایت ہی گہرا ربط ہے ۔ تلاوت الفاظ ومعانی دونوں کا خیال رکھے یعنی تدبر کے ساتھ قرآن پڑھے ان کو سمجھنے کی کوشش کرے اور عمل کرے۔
7-زندگی میں بہتر تبدیلی لاۓ ،مستقبل کو سنوارۓ ،اور منکر سے اجتناب اور خیر و بھلائی کے کاموں میں پیش قدمی کرے اور رمضان کو ایک ایمانی وتر یتی مدرسہ سمجھے ۔
وفقنا الله إيانا وإياكم لما يحب ويرضى ، اللهم بلغنا رمضان وأجعلنا ممن عتق رقابه من النار۔
