مولانا اے،کے ، رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا
کسیا ، کشی نگر، یوپی

عالیجناب ! سب سے پہلے آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بننے کا موقع عنایت فرمایا، اسلام کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ ـ ’’ جج کی ایک گھڑی کا فیصلہ عبادت گزار کی چالیس سال کی عبادت سے زیادہ افضل ہے‘‘ آپ ایک عظیم ملک کے عظیم عہدہ پر فائز ہیں جس کی ذمہ داریاں گوناگوں اور لامتناہی ہیں بشرطیکہ اسکا احساس زندہ ہو جائے، آپ کو بڑی دوراندیشی اور دوربینی سے فیصلے کرنے چاہیئے، اللہ کا شکر ہے کہ اب تک جو آپ نے فیصلے کئے ہیں وہ بہت حد تک انصاف پر مبنی ہیں ، امید ہے کہ آئندہ بھی اسی روش پر چل کر حق گوئی و بیباکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کی رعایت نہیں کریں گے۔
اس مختصر تمہید کے بعد ملک کے ناگفتہ بہ حالات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں، ہمارے وزیر اعظم کو صر ف بین الاقوامی حالات سے دلچسپی ہے، بیرون سفر سے ان کوفرصت ہی نہیں کہ ملک کے اندرونی حالات پر سنجیدگی سے غور کر سکیں، حکمرانی کا ایسا نشہ سوار ہے کہ حق و ناحق کی تمیز کئے بغیر فیصلے صادر کئے جارہے ہیں، آج ہمارا وزیر اعظم گونگا اور بہرہ ہو چکا ہے تو دوسری طرف ریاستی وزراء بھی اس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے تغلقی فرمان نافذ کر کے ایک مخصوص طبقہ کو ہراساں کر رہے ہیں، اس کے حقوق پر شب خوں مارا جا رہا ہے، اس کی عبادت گاہوں کو شہید اور درگاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہی حکمراں کامیاب ہے یا وہی حکومت کامیاب ہے جہاں اقلیتوں کے ساتھ عدل و انصاف سے برتاؤ کیا جاتا ہو، جہاں ان کی عزت و آبرو کی حفاظت ہو ، جہاں ان کو امن و سکون سے زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہو، آج حالت یہ ہے کہ لڑکیوں کی عزت و آبرو کی ضمانت نہ تو کالج اور یونیورسٹی کے اندر ہے اور نہ باہر تو دوسری طرف مساجد کا شہید کرنے کا بھوت سوار ہو چکا ہے، سالہا سال کی قدیم تاریخی مساجد اور تاریخی درگاہیں مسمار کرنے کیلئے بلڈوزر گرجتے رہتے ہیں، ہمارے حکمران شتر بے مہار ہو چکے ہیں ، ان کی نکیل کسنے کی ضرورت ہے ، ان حکمرانوں کی موجودہ سیاسی سازش اور خطرناک پلاننگ کی وجہ سے یہ فقیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے، اس وقت ایک مخصوص طبقہ کو ہر طرح ہراساں کرنے کی کوشش جاری ہے، ملک کے موجودہ حکمرانوں سے امید نہیں ہے کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ انصاف کریں گے، اس لئے آپ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہے امید ہے کہ سنجیدگی سے غور کرنے کی زحمت کی جائیگی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں اس وقت ۹۹ فیصد مساجد اور ۹۰ فیصد درگاہیں وقف کی زمیں پر یا مسلمانوں کی ذاتی زمین پر قائم ہے کیونکہ اسلام میں ’’ ارض مغصوبہ‘‘ پر مساجد قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے ، تو دوسری طرف ہمارے ملک میں سارے منادر اور سمادھیاں گورنمنٹ کی زمین پر بنے ہوئے ہیں مگر اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں، تو پھر ان قدیم مساجد و درگاہوں کے خلاف ایکشن کیوں؟ کیا صرف نقشہ میں بعض نقص کی وجہ سے عبادت گاہوں کو شہید کر دیا جائیگا؟ اس کی طرف فوری توجہ دے کر ایک مخصوص طبقہ پر ہو رہے ظلم و زیادتی کو روکا جائے اور عدل و انصاف کا یکساں پیمانہ نافذ کیا جائے۔

کیا اسلئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے
بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگادے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے