فلاح انسانیت ایجوکیشنل ٹرسٹ اٹوا کی جانب سے موضع رانی جوت، اٹوا میں اجلاس عام کا انعقاد

اٹوا، سدھارتھ نگر: آپ سے اگر سوال کیا جاۓ کہ دنیا کا سب سے سچا اور پیارا مذہب کون ہے؟ اور سب سے بہترین شخص دنیا کے کون ہیں؟ تو جواب ہوگا کہ مذہب اسلام سب سے سچا اور پیارے نبی سب سے بہترین شخص ہیں. اس کا اعتراف کرتے ہوۓ مورخ مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی مایہ ناز کتاب A Ranking of most influential person in history میں پہلے نمبر پر ہمارے نبی رحمۃ للعالمین کو جگہ دی۔
اسی طرح اگر آپ گوگل پے سرچ کریں who is the best man in this world? تو گوگل کا بھی جواب ہوگا The prophet Mohammed (BPUH) is regarded as the best person ever born on this earth کہ اس دنیا میں سب مخلوقات میں سب سے بہترین جن کو جانا جاتا ہے وہ شخص رحمۃ للعالمین ﷺ ہیں ۔
ہم سب کو چاہیے کہ اس پیغام کو پوری دنیا میں پہونچائیں تاکہ اسلام کی سچائی سب کے سامنے آسکے۔ ہماری بہن اور بیٹیاں آج ارتداد کی دہلیز پر آ چکی ہیں وہ اسلام جیسے پیارے مذہب کی طرف واپس آسکیں اور مسلمانوں کو ان کے مذہب اور اپنے رسول سے محبت میں اضافہ کا باعث ہو۔کیونکہ شاعر کہتا ہے:

پیاسے رہوگے ساقئ کوثر کو چھوڑ کر
پی جاؤ چاہے سات سمندر نچوڑ

ان خیالات کا اظہار موضع رانی جوت میں منعقد پروگرام میں شیخ معین الدین سلفی نے کیا ۔
اس موقع پر دوسرے خطیب رئیس سنابلی نے قرآن کی اہمیت و فضیلت بیان کرتے ہوۓ بیان کیا کہ قرآن سب سے بہترین کتاب ہے جو سب سے بہترین مہینہ، سب سے بہترین رات، سب سے بہترین فرشتہ کے ذریعہ، سب سے بہترین شخص پر ،سب سے بہترین امت کے لیے نازل ہوا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ قرآن سے اپنا رستہ مضبوط کریں۔
تیسرے خطیب شیخ عبیدالرحمن ندوی نے بھی سورہ مسد کی جامع تفسیر بیان فرماتے کہا کہ ابو لہب اور اس کا خاندان نبی کا دشمن تھا اس لیے سب سے بدترین گھرانہ ابو لہب کا قرار پایا۔
اور شیخ عبدالحسیب سنابلی نے ذکر کی فضیلت و اہمیت بیان کرتے ہوۓ کہا کہ مسجد اللہ کے ذکر کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے اس کو آباد رکھیں اور نماز، قرآن، صوم و صلاۃ کے پابندی کریں اس کی اہمیت کاتو اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ آپ ﷺ کا مبارک ارشادہے کہ جو ذکر کرنے والے اور جو نہیں کرنے والا ہے۔ اس کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ یعنی ذکر کرنے والا زندہ ہے اور ذکر نہ کرنے والا مردہ ہے۔ ذاکر آدمی زندہ ہوتا ہے۔ اور جو ذاکر نہیں وہ مردہ ہے۔ اس سے اندازہ کرلیں کہ اللہ جل شانہ نے اس کو ہماری روحانی حیات کے لئے کتنا ضروری قرار دیا۔ پھر اللہ پاک نے اس پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی ، وضو کی پابندی نہیں لگائی ، صرف ایک پابندی لگائی کہ گندی جگہ پر نہ کرو باقی ہر طرح سے اللہ پاک کا نام لیا جاسکتا ہے۔ لیٹے، کھڑے بیٹھے ہر طرح سے کیا جاسکتا ہے بلکہ عقلمندوں کی جو نشانی بتائی گئی ہے وہ یہ کہ بے شک کائنات کے اندر اور رات دن کا جو الٹ پھیر ہے اس میں عقلمندوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں ، پھر اللہ پاک نے عقلمندوں کی تعریف خود فرمائی کہ عقلمند کون لوگ ہیں ، تو فرمایا کہ عقلمند وہ لوگ ہیں جو کھڑے ، بیٹھے ، لیٹے ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں ، اور کائنات کی پیدائش میں اور جو کچھ اس میں ہے اس پر غور و فکر کرتے ہیں اور ان کے دل سے بے ساختہ یہ بات بلند ہوتی ہے۔ کہ اے اللہ تو نے ان سب چیزوں کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا ، پس ہمارے اوپر بھی فضل فرما دیں اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات فرما دے۔ تو عقلمندوں کی نشانی یہ بتائی گئی ہے۔ ذکر کے بارے میں فرمایا ، کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر خوب کثرت سے کرو اور صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔ ساتھ میں یہ بھی فرمایا ، سبحان اللہ کیا عجیب شان ہے ذکر کی ، اللہ پاک فرماتے ہیں ، کہ اگر تم اللہ کو مجلس میں یاد کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ اس مجلس سے بہتر مجلس یعنی فرشتوں کی مجلس میں تمہیں یاد کرلیں گے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اگر تم اللہ پاک کو دل میں یاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ اپنے آپ کے ساتھ تمہیں یاد کرلیں گے۔
پروگرام کا آغاز حافظ وقاری صفی الرحمن فرقانی کے مسحور کن آواز میں تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔
بعدہ حافظ محمد ارسلان متعلم اتحاد ملت نے نعت گنگنائی اور نبی ﷺ کی منقبت میں نذرانہ عقیدت پیش فرمایا۔
اس موقع پر عوام و خواص کی ایک اچھی تعداد موجود رہی جن میں محمد یاسر متعلم دار التوحید مینا عیدگاہ ،محمد ارشد،انور علی، رمضان علی، سہاؤ، عبدالرحمن، الیاس مکھیا ،وغیرہ قابل ذکر ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے