ڈاکٹر سراج الدین ندوی

ایڈیٹر ماہنامہ اچھا ساتھی ۔ بجنور

انسان کی کامیابی میں صبر کا اہم رول ہے۔روزہ جہاں ایک طرف روزے دار کے اندر تقوے کی صفت پیدا کرتا ہے وہیں صبر کی صفت بھی پروان چڑھاتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے اسی لیے اس مہینے کو صبر کا مہینہ کہا ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا:
ھٰذَا شَھْرُالصَّبْرِ وَ جَزَائُ ہٗ الْجَنَّۃُ(ترمذی)
’’یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔‘‘
غم ،دکھ،تکلیف، مصیبتوں اورپریشانیوں پر شکوہ و شکایت نہ کرناصبر ہے۔ صبر کرنا مشکل کام ہے کیونکہ اس میں مشقت اور کڑواہٹ پائی جاتی ہے۔ صبر ایک عظیم نعمت ہے جو مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ صبر مقاماتِ دین میں سے ایک اہم مقام ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ بندوں کی منازل میں سے ایک منزل اور اولوالعزم بزرگوں کی صفت ہے۔ خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے تقویٰ کے ذریعے خواہشات نفس پر اور صبر کے ذریعے شہواتِ نفس پر قابو پا لیا۔
یہ یاد رکھیے کہ صبر کے مفہوم میںبے چارگی اور شکستگی شامل نہیں ہے۔صبر اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ کرنے کی طاقت نہیں تھی اس لیے صبر کرلیا ، نکمے پن کو صبر نہیں کہا جاسکتا۔یہ بھی صبر نہیں ہے کہ ظلم کے خلاف خاموش رہیں یا باطل کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے رہیں۔صبر یہ ہے کہ انسان جسے حق سمجھتا ہے ،اس پر قائم رہے ،چاہے اس کے راستے میں کتنی ہی مشکلات پیش آئیں وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹے۔صبر یہ بھی ہے کہ انسان کسی سے بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہو مگر اللہ کے لیے بدلہ نہ لے ،جیسا کہ حضر ت علی ؓ کا مشہور واقعہ ہے کہ جب ایک دشمن نے آپ ؓ پر حملہ کیا تو اس کو پچھاڑ دیا اور چاہتے تھے کہ اس کا کام تمام کردیں لیکن اس نے آپؓ کے منھ پر تھوک دیا ،تھوکتے ہی آپؓ نے اسے چھوڑدیا ۔اسے بہت حیرت ہوئی ۔اس نے پوچھا ’’ اے علی ؓ ! تم مجھ پر قابو پاچکے تھے ،پھر تم نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ‘‘ آپؓ نے فرمایا:’’ پہلے میں اللہ کی رضا کے لیے مقابلہ کررہا تھا،مگر جب تم نے میرے منہ پر تھوکا تو اب تمہارے قتل میں انتقام کا جذبہ شامل ہوسکتا تھا۔‘‘
صبر کی اہمیت اور افادیت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے یہاں اس کا بے حساب اجر رکھا ہے۔ اگر ہم خالقِ کائنات کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس دنیا میں صبر سے کام لیں تو ہمارے زیادہ تر مسائل خود بخود ہی حل ہو جائیں گے۔ کیونکہ انسان معاشرے یا خاندان میں جس بھی حیثیت یا عہدے پر ہے، ضروری نہیں کہ وہاں سب کچھ ویسا ہی ہو رہا ہو جیسا وہ چاہتا ہے۔ جب کوئی کام انسان کی مرضی کے خلاف سرزد ہوتا ہے تو یقینا انسان غصے میں آجاتا ہے اور بعض اوقات غصے سے مغلوب ہو کر اس سے کچھ ایسی حرکات سرزد ہو جاتی ہیں جو اس کی شخصیت کو داغ دار بنا دیتی ہیں۔ گھرکے ایک عام فرد سے لے کر معاشرے کے ایک اہم رکن تک اور کسی بھی ادارے کے ایک عام آفس بوائے سے لے کر اُس ادارے کے سربراہ تک ہر شخص کو خلافِ مزاج و خلافِ معمول امور کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مگر کامیاب اُس شخص کو گردانا جاتا ہے جس کی پریشانیوں سے دوسرے آگاہ نہیں ہوتے اور وہ مشکلات کو بھی ہنس کر برداشت کرنا جانتا ہے اور ایسا صرف وہی کر سکتا ہے جو صبر کی دولت سے مالا مال ہو۔دوڑ کے مقابلے میں حصہ لینے والے سبھی شرکاء تجربہ کار اور دوڑ کے اہل ہوتے ہیں، ہر ایک کو دوڑتے ہوئے کم یا زیادہ تکلیف ضرور ہوتی ہے مگر جیتتا صرف وہی ہے جو آخر تک صبر سے کام لیتا ہے۔
صبر کرنے والوں سے اللہ نے جنت،مغفرت اور بے حساب اجر کا وعدہ کیا ہے۔اللہ نے کہا کہ میں خود صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ.(البقرۃ 153)
’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے۔‘‘
انسان زندگی میں مختلف دشواریوں کا سامنا کرتا ہے اس پر اگر وہ صبر کرے تو اللہ انھیں خوشخبری سناتا ہے ۔
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَo الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْآ اِنَّا ِللّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَo(البقرۃ 155-156)
’’اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے رسول!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔ جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیںبے شک ہم بھی اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘
صبر تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا خاصہ رہا ہے۔ارشاد ربانی ہے:
وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِدْرِیْسَ وَذَا الْکِفْلِ کُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَ (الانبیاء 85)
’’اور اسماعیل اور ادریس اور ذو الکفل، یہ سب صابر لوگ تھے۔‘‘
حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے میں صبر کی بہترین مثالیں ہیں۔ جب ان کے بھائیوں نے کنویں میں ڈالا تو انھوں نے وہاں صبر کا مظاہرہ کیا اور جب ان سے ملاقات ہوئی ، کوئی شکوہ نہ کیانہ خود کو ظاہر کیا ،اس طرح یہاں بھی حضرت یوسف ؑ نے صبر کا مظاہرہ کیا۔امیر مصر کی بیوی نے جب ان پر الزام لگایا اور جیل بھیج دیے گئے،وہاں رہ کر بھی صبر کیا اور اس کے بدلے شاہ مصر کو اچھے مشورے دیے اور اس کی مدد کی۔
روزہ رکھ کر صبر کی صفت پیدا ہوتی ہے ۔جیسا کہ عرض کیا گیا کہ صبر قوت برداشت کا نام ہے روزے میں انسان بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے ،نفسانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھتا ہے ،رات کو میٹھی نیند سے اٹھ کر سحری کھاتا ہے،کوئی اس سے لڑتا ہے تو جواب نہیں دیتا ،کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جس سے روزہ خراب ہوجائے ۔اس طرح وہ بار بار صبر کا مظاہرہ کرتا ہے ۔
آپ مومن ہیں ،روزہ رکھ کر اپنے اندر صبر کی صفت کو مضبوط کیجیے۔ مصیبتوں پر صبر کیجیے ،بھول کر بھی اللہ کی شکایت اس کے بندوں سے نہ کیجیے ۔یہ اللہ والوں کا شیوہ نہیں ہے۔اللہ کے فیصلے پر راضی رہیے۔
کتب احادیث میں ایک واقعہ ملتا ہے کہ ایک صحابیہ کے بیٹے کا انتقال ہوگیا ،ان کے شوہر گھر پر موجود نہیں تھے ۔جب شوہر واپس آئے ،انھوں نے معلوم کیا:۔’’ہمارا بیٹا کیسا ہے؟‘‘ بیوی نے کہا :۔’’پہلے کھانا کھالیجیے پھر بتاتی ہوں۔‘‘کھانے سے فراغت کے بعد بیوی نے کہا :۔’’اگر کوئی شخص آپ کے پاس امانت رکھ جائے اور چند دن بعد وہ واپس مانگ لے تو کیا آپ کو کوئی شکوہ یا غم ہوگا؟‘‘شوہر نے کہا:۔’’بالکل نہیں‘‘۔یہ سن کر نیک دل بیوی بولی:۔ ’’ ہمارا بچہ بھی اللہ کی امانت تھا اس نے واپس لے لیا۔‘‘ اور دونوں نے صبر کیا۔
صبر یہ بھی ہے کہ انسان اللہ سے مایوس نہ ہو۔عجلت کا مظاہرہ نہ کرے ۔انسان چاہتا ہے کہ ادھر اس نے دعا کی ادھر وہ چیز اسے مل جائے،یعنی ادھر پیڑ لگایا ادھر پھل کھالے ،ایسا ممکن نہیں ہے ۔اللہ جانتا ہے کہ کونسی چیز ہمارے لیے کب بہتر ہے اس لیے دعا کے بعدانتظار کرے۔
صبر صرف مشکلات پر نہیں ہوتا بلکہ امورِ اطاعت و فرمانبرداری میں بھی صبر ہوتا ہے۔کبھی کبھی ہمیں اپنے والدین اور اساتذہ کی سخت باتوں پر صبر کرنا پڑتا ہے تو کبھی دل نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا حکم بجالانا پڑتا ہے اسی طرح اللہ کے بعض احکامات کو بجالانے میں ہمیں کچھ ناگوار باتیں برداشت کرنا ہوتی ہیں مثلاً فجر کے وقت بہت اچھی اور میٹھی نیند آرہی ہوتی ہے اور ادھر موذن پکارتا ہے تو ہمیں اچھی اور میٹھی نیند چھوڑ کر نماز کے لیے اٹھنا پڑتا ہے ۔لیکن اگر ہم فجر چھوڑتے ہیں تو اللہ کی ناراضی مول لینی پڑتی ہے پھر اللہ کا عذاب جھیلنا پڑے گا جو ناقابل برداشت ہوگا۔اس لیے اس کی اطاعت پر مشکلات کو برداشت کیجیے اور اللہ کے عذاب سے پناہ مانگئے۔
صبر صرف طاعت پر ہی نہیں ہوتا بلکہ گناہوں پر بھی صبر کرنا ہوتا ہے ۔ایسے حالات ہوتے ہیں جب انسان گناہ پر قادر ہوتا ہے لیکن وہ اللہ کی رضا کے لیے گناہ نہیں کرتا تو یہ گناہ پر صبر ہے جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو امیر مصر کی بیوی نے خود گناہ کی دعوت دی مگر آپ نے اس کی دعوت کو ٹھکرا دیا ۔ایسے مواقع انسان کی زندگی میں بار بار آتے ہیں جب دنیا اس کو دعوت گناہ دیتی ہے مگر ایک مومن اسے ٹھکرادیتا ہے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔
آپ بھی صبر کا دامن پکڑے رہیے ،کوئی آپ کے ساتھ برا سلوک کرے تو آپ اس سے اچھا سلوک کیجیے ،کوئی گالیاںدے تو دعائیں دیجیے ،اسی کی مشق روزے میں کرائی جاتی ہے ،اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اگر روزے کی حالت میں کوئی تم سے گالم گلوچ کرے تو اس سے کہہ دو کہ میں تمہاری بدتمیزیوں کا جواب نہیں دے سکتا کیوں کہ میں روزے سے ہوں۔یہی جواب ہمیں اس وقت بھی دینا ہے جب ہم روزے سے نہ ہوں۔ اس وقت یہ کہناچاہئے کہ میں مسلم ہوں اس لیے تمہاری بدتمیزیوں کا جواب نہیں دے سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے