اللہ رب العزت نے شریعت کا نزول انسان کی سعادت اور اس کی نجات کے لیے فرمایا ہے؛ لہٰذا سعادت اور نجات کے حصول کے لیے ہراس فعل کو ضروری قرار دیا ہے، جس کے ذریعہ حقیقی سعادت اور نجات حاصل ہوسکتی ہے، انہیں میں سے ایک روزہ بھی ہے، غور فرمائیے تو معلوم ہوگا کہ روزہ کی فرضیت بندہ پر دراصل اس کے رحیم و کریم معبود کی طرف سراسر رحمت ہی رحمت ہے، کیونکہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے ، جس کی ادائیگی پر انسان کو ایک ایسی قوت عطا ہوئی ہے، جس کا ہونا ایک سعادت مند اور نجات کے متمنی انسان کے کے لیے ضروری ہے، وہ’’ قوت ہے ضبط ِ نفس کی‘‘، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے نفس کا آقا بن کر رہتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ نفس کا بندہ اور اس کا غلام بنکر قسم قسم کے جرائم اور گناہوں کا خوگر و عادی ہو جائے ۔
بالفرض اگر انسان میںیہ ضبط نفس کی قوت موجود نہیں تو قسم قسم کے جرائم اور طرح طرح کے گناہوں کے چشمہ اس کے اعضاء سے پھوٹ نکلیں گے، اس کا دماغ اور اس کے تصورات اور خیالات وافکار، اسی طرح سے اس کے ہاتھ اور پیر ، آنکھ اور کان، غرض تمام ظاہری اور باطنی قوتیں فطرت سے برسرِ بیکار ہو جائیں گی۔ پھر کیا ہوگا؟ اُف! ہوگا وہی جس کے تصورہی سے رونگٹے کھڑے ہورہے ہیں، یعنی شاید ہی کوئی جرم اور گناہ ایسا ہو جس کا یہ انسان مجرم اور مرتکب نہ ہو جائے ،جب من کی دنیا پاپی اور روگی ہو جائے گی تو کون سی قوت ہوگی جو انسانیت کے سفینۂ حیات کو لذت آشنا ئے ساحل مقصود کرسکے گی؟۔ لیکن اگر یہ قوت پیدا ہوگئی (اور خدا کرے پیدا ہو جائے) تو شاید ہی کوئی ایسا گناہ یا جرم کا موقع ہو جہاں سے یہ اپنا دامن بچا کر نکل نہ جائے اور شاید ہی کوئی نیکی کی جگہ ایسی ہو جہاں پر اس سے سعادت مندی کا ظہور نہ ہو ،پھر کیاہے ،اس کا ظاہر اور باطن دونوں نفسانیت کی آلائشوں اور اس کی گندگیوں سے پاک و صاف ہوکر خوف ِ خدا ،تہذیب ِنفس، تزکیۂ باطن، عفت و پاکدامنی کے حال ہوجائیں گے، غرضیکہ روزہ کی فرضیت اسی وجہ سے ہوئی ہے کہ انسان میں ضبطِ نفس کی گراں قدر قوت پیدا ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کایہ بندہ صحیح معنوں میں بندگی کا حق ادا کرکے اس کی رضا و خوشنودی کو حاصل کرسکے ، اسی طرف اشارہ قرآن مجید کی اس آیت میں : یآایھاالذین آمنو اکتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون(سورۃالبقرہ)۔ اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیے گئے ہیں ،جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ گویا روزہ کا مقصد ہی یہ ہے کہ روزہ دار’تقویٰ ‘کی دولت سے مالامال ہو جائے یعنی انسان کے اندر اتنی استعداد پیدا ہو جائے کہ اللہ کے لیے یہ ہر لذت و راحت کو چھوڑ کر تمام مصائب اور مشقتوں کا مردانہ وار حوصلہ اور استقلال سے مقابلہ کرسکے ،یہی وہ بیش بہا دولت ہے جس کا ایک سعادت مند انسان میں ہونا ضروری ہے۔
روزہ دار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی بشارتوں کا ایک عظیم الشان دفتر آج امت کے ہاتھوں میں موجود ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ بشارتیں اس روزہ دار کے لیے ہیں؟ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمائے ہوئے طریقہ پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی قربت اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے روزہ رکھے ورنہ فرض، اگرچہ اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گا، مگر روزہ کے فضائل اور برکات سے محروم رہیگا، اور یہ میں اپنی طرف سے نہیں عرض کررہاہوں بلکہ سرور دوعالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی نے یوں ہی نقل فرمایا ہے : عن ابی عبیدۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول الصیام جنۃ مالم یخرقھا۔(نسائی) حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ روزہ آدمی کے لیے ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ ڈھال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح آدمی دشمن سے مقابلہ کے وقت اپنی حفاظت ڈھال سے کرتاہے اسی طرح روزہ دار اپنے روزے کے ذریعہ سے اپنے سب سے بڑے دشمن (شیطان) سے اپنی حفاظت کرتاہے۔ اور جس طرح ڈھال جسم کی حفاظت کا ایک آلہ ہے ،اسی طرح عذاب جہنم سے محفوظ رہنے کا آلہ روزہ ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ’روزہ اللہ کے عذاب سے حفاظت ہے‘۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ روزہ کس چیز سے پھٹ جاتا ہے ، حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’جھوٹ اور غیبت سے‘۔ یعنی روزہ دار جب رذائل کا مرتکب ہواتو گویا اس نے روزے کی تمام برکتوں کو ضائع کردیا ایک جگہ ذرا تفصیل سے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تنبیہاً) ارشاد فرمایا: من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجۃ فی ان یدع طعامہ وشرابہ ۔[مشکوٰۃ]جس نے بری اور گندی باتوں کو ترک نہ کیا تو اللہ کو ایسے شخص کے کھانا، پینا، چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : کم من صائم لیس لہ من صیامہ الا الظمأ وکم من قائم لیس لہ من قیامہ الا السھر۔مشکوٰۃ] یعنی بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ بجز بھوک اور پیاس کے ان کو کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے شب بیدار بظاہر ایسے ہیں کہ ان کو سوائے جاگنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔
سوچئے ! کتنا بدنصیب ہے وہ شخص جو صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہے مگر اجر و ثواب سے محروم کر دیا جائے اور کتنا بدقسمت ہے وہ شخص جو رات بھر قیام لیل کرے ،لیکن اللہ کی نظر میں بیکار ہو ،ضرورت ہے کہ ان ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ہم اور آپ، اپنے روزوں کے متعلق فیصلہ کریں کہ ہمارا روزہ وہی حقیقی روزہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارتیں دی ہیںیا فاقہ جو اجر و ثواب سے محروم کر دینے والاہے۔ اللہ تعالیٰ روزہ کی برکتوں سے مالا مال فرمائے۔

