تحریر: ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج، بارہ بنکی
اللہ کے فضل و کرم سے نیکیوں کی بہار، قرآن کا مہینہ، رمضان المبارک سایہ فگن ہو چکا ہے۔ یہ وہ مبارک گھڑیاں ہیں جن کا انتظار ہر مسلمان دل کی گہرائیوں سے کرتا ہے۔ اہلِ ایمان کے لیے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ایک بار پھر صحت و سلامتی کے ساتھ اس مقدس مہینے کی برکتیں سمیٹنے کے لیے تیار ہیں۔ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ایک خوش گوار تبدیلی نظر آتی ہے۔ دلوں میں احترام و عقیدت کے جذبات ابھرتے ہیں اور نیکیوں کے حصول کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ ہر مؤمن کے دل میں یہ احساس جاگزین ہوتا ہے کہ شاید یہ رمضان زندگی کا آخری رمضان ہو، اور یہی سوچ اسے نیکیوں کی طرف راغب کر دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عام مسلمان بھی اس ماہ کی رحمتوں سے فیض یاب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ مساجد میں رونقیں بڑھ جاتی ہیں، دل عبادات کی طرف مائل ہوتے ہیں، اور تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور استغفار کی کثرت سے روحانی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مبارک بشارت کہ رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے، اہلِ ایمان کو مزید جوش و خروش عطا کرتی ہے۔
یہ مہینہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کے لیے نہیں بلکہ روحانی تربیت کا ایک سنہری موقع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں ایک عمومی دینی بیداری دیکھنے کو ملتی ہے۔ سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں خصوصی عبادات کا اہتمام فرماتے، روزوں کی سختی سے پابندی کرتے، اور تلاوتِ قرآن میں مصروف رہتے۔ صحابہ کرامؓ بھی اس مبارک مہینے میں اپنی عبادات میں غیر معمولی اضافہ کرتے، دن کو روزہ رکھتے اور راتیں قیام میں گزارتے۔
یہ مہینہ تقویٰ اور تزکیۂ نفس کا بھی درس دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت رمضان میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتی ہوا سے بھی زیادہ فیاضی کے ساتھ لوگوں کی مدد فرمایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ بھی اس مہینے میں صدقہ و خیرات، مساکین کی مدد، اور حاجت مندوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوشاں نظر آتی ہے۔
رمضان ہمیں صبر، برداشت اور نفس کی پاکیزگی کا درس دیتا ہے۔ روزے کی حالت میں جھوٹ، غیبت، دھوکہ دہی اور دیگر برے اعمال سے اجتناب کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر رمضان میں پیدا ہونے والی یہ نیکیاں اور روحانی انقلاب سال بھر جاری رہے تو فرد اور معاشرہ ہر لحاظ سے سنور سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ رمضان کی برکتوں کو صرف ایک مہینے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اس میں پیدا ہونے والی نیک عادات اور روحانی بیداری کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنایا جائے۔ یہی حقیقی کامیابی ہے، اور یہی رمضان کا اصل پیغام بھی ہے۔

