محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ کرسی
وہ جب کرسی سے اٹھاتو اس نے کرسی کاشکریہ اداکیا۔ اورکہاکہ ’’اِن دوگھنٹوں میں کافی آرام تم نے دِیا۔ لوگ آپس میں لڑکر خواہ مخواہ تمہیں بدنام کرتے ہیں‘‘
۲۔ ساتھ راشن کا
پوچھاگیاکہ ’’تم کس کے ساتھ ہو؟‘‘ جواب آیا’’میں حکومت کے ساتھ ہوں ‘‘ایک عام آدمی سے سوال کیاگیاکہ تم کس کے ساتھ ہو؟ اس نے ہاتھ جوڑکر انتہائی عاجزی سے کہا’’ہم راشن کے ساتھ ہیں صاحب، راشن ملتاہے تو ہم اور ہمارے بال بچے زندہ ہیں ورنہ ہم کہیں کے نہ رہیں گے ‘‘
۳۔ چھوڑجانے والے
اس نے اپنے جسم پرتنقیدی نگاہ ڈالی۔ وہ کہیں سے بھی ایک بھرپورجسم یا پاورفل جسم نہیں لگ رہاتھا۔ اس نے ہونٹوں ہی ہونٹوں میںبڑبڑایا’’لگتاہے ، اس کاخیال رکھناپڑے گاورنہ یہ بھی میرے بچوں کی طرح مجھے چھوڑ دے گا‘‘
۴۔ مریم خالہ کی افطار پارٹی
مریم خالہ کانونیٹ اسکول کی پڑھی لکھی تھیں ، اچھی تقریر اور حالات کابہترتجزیہ کرتی تھیں ’’عالمی یوم ِ خواتین‘‘ کے موقع پر انھوں نے اپنے گھرپر چندپڑوسنوں کوافطار کی دعوت دی تھی۔ مریم خالہ نے شبانہ ، بی خالہ ، انوری اور افسانہ بیگم سے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’تم عورتوں کی سمجھ میں آرہاہے کہ نہیں ؟‘‘
شبانہ نے آہستہ سے پوچھا‘‘مریم باجی ، کون سی بات ؟‘‘مریم خالہ شروع ہی سے شبانہ کی پسند تھیں کیوں کہ وہ ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ انوری قریب ہوگئی، افسانہ بیگم کو کھسر پھسرسے واقعی دلچسپی کم تھی۔ بی خالہ لئے دئے رہتی تھیں۔مریم خالہ نے کہا’’یہ بات کہ ہماری لڑکیوں کی تصاویر اور ان کی ویڈیوزدِکھا دِکھا کر آج کے اسکول اور کالجس اپنی تشہیر کررہے ہیں، اپنے اسکول اور کالج کوبڑھاوادے رہے ہیں۔ اسی اسکول اور کالج میں لڑکے بھی ہوتے ہیں مگر ان لڑکوں کی ایک آدھ تصویر ہی لگائی جاتی ہے،حدتو یہ ہے کہ انگلش پبلک اسکول ہی نہیں ،عربی مدرسے اور اُردو اسکول والے بھی اپنی یہاں کی لڑکیوں کی نمائش کرنے میں پیچھے نہیں ہیں، استانیاں بھی لپ اسٹک ، پاؤڈر اور کھلے منہ کے ساتھ ویڈیو پر بے پر دہ ہورہی ہیں ‘‘بی خالہ نے کہا’’یہ بات مجھے رابعہ کے ابا نے کہابھی تھاکہ اسکول والے پکے کاروباری ہوتے ہیں۔ انھیں قوم وملت اور ان کی بیٹیوں سے اپنے کاروبار کی حدتک دلچسپی ہوتی ہے،سرکاری اسکولوں کے ٹیچرس کو بھی اپنی تنخواہ گھٹ کرنی ہوتی ہے ‘‘
انوری نے بھی منہ کھولا، کہا’’مریم باجی آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔ مگر کچھ لوگ یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ نتائج آنے پر ہماری بچیوں کی فوٹو لگنے سے یا ویڈیومیں ہماری بچیاں نظر آنے سے رشتے آتے ہیں اوران کی شادی جلد ہوجاتی ہے ‘‘مریم باجی نے کہا’’ہماری لڑکیوں کی پکچر اور ویڈیو دیکھ کران میں غیرمسلم لڑکے بھی دلچسپی لے رہے ہیں،اور ہماری لڑکیاں بھی ان کے ساتھ بھاگنے میں کم نہیں ہیں۔ اس فتنہ کاکوئی حل ؟‘‘کوئی کچھ نہ بولیں ۔ سبھی نے سرجھکالیا۔مریم باجی نے کہا’’خدا کاخوف کرو، کل کچھ ہوجانے سے پہلے ان اسکول اور کالجس میں اپناموقف درج کراؤ، ہماری لڑکیوں کی تشہیر کے اس سسٹم کو ختم کرو۔ نفع ونقصان کا حساب کرنا اور نقصان سے بچنا ایک مومن کی پہلی ذمہ داری ہوتی ہے‘‘
مریم باجی کی آواز میں دم خم تھا لیکن تمام پڑوسنیں جیسے پتھر کی مورت بنی ہوئی سب کچھ سن رہی تھیں، بولنے کایارا کسی میں نہیں تھا۔سائرن ہونے پر سبھی خواتین نے روزہ کھول دِیا مگر کوئی بات نہیں کی۔ دلوں میں اختلاج ساہورہاتھا۔

