ضلع گلبرگہ اور ریاست کرناٹک اوردیگرمقامات سے مبارک بادیوں کے پیامات
گلبرگہ 15/ مارچ:(ڈاكٹر ماجد داغی): حافظ قرآن حضرت سید شاہ علی الحسینی صاحب سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ گلبرگہ جو کچھ دنوں قبل کرناٹک وقف بورڈ کے رکن منتخب ہوئے تھے اب حالیہ انتخابات میں وہ کرناٹک وقف بورڈ کے صدر نشین منتخب ہوگئے ہیں۔ ان کے اس انتخاب سے ضلع گلبرگہ اور ریاست کرناٹک کے مسلمانان اوردیگر اقوام کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑگئی ہے۔حضرت سید شاہ علی الحسینی حافظ قرآن اور سجادہ نشین ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت نیک نیت، وسیع القلب،قوم وملت کے ہمدردہیں، وہ خواجہ بندہ نواز ؒ یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں ان کی نگرانی میں خواجہ بندہ نوازیونیورسٹی کے ساتھ ساتھ خواجہ بندہ نواز میڈیکل کالج،خواجہ بندہ نوازانجئیرنگ کالج،ہائی اسکول و کالجس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیمی ادارے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔وہ اپنے والد بزرگوار حضرت سیدشاہ گیسودراز خسرو حسینی صاحب علیہ رحمہ اوردادا حضرت سید شاہ محمدمحمد الحسینی صاحب علیہ رحمہ کی طرح نہایت وسیع النظرہیں۔دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عربی و اردو کی ترقی، ملی،سماجی سائیسی،طبی اوردیگرمیدانوں میں عوام کو سہولتیں فراہم کرنے سے د لچسپی رکھتے ہیں۔حضرت سید شاہ علی الحسینی صاحب نہایت کشادہ ذہن رکھتے ہیں۔ سجادگی تو انھیں ورثہ میں ملی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ پہلے ہی سے حافظ قرآن بن چکے تھے جونہ صرف ان کے لئے بلکہ انکے تمام قدر دانوں کے لئے نہایت فخر کی بات ہے۔
ریاستی وقف بورڈ کے صدر نشین منتخب ہونے کے بعد حضرت علی بابا نے ایک انٹرویو میں اپنے صدر نشین کرناٹک وقف بورڈ منتخب ہونے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بے حد مشکور ہیں، ساری تعریف اللہ کے لئے ہے۔حضور اکرم ﷺ کے صدقہء طفیل میں اور ہمارے اولیاء کرام و بزرگان دین کے صدقہء طفیل میں انھیں یہ کامیابی ملی ہے۔خاص طورپر حضرت خواجہ گیسو دراز ؒ کی سرپرستی ان پر رہتی ہے،۔پھر خاص طور میرے میرے والد بزرگوار جنھوں نے انھیں اس کام کے لئے آگے بڑھایاتھا، ان ہی خواہش پر اور ان ہی کی دعاؤں اور کرم کے سبب وہ آگے بڑھ سکے ہیں۔الحمد اللہ میں وقف بورڈ کا رکن بھی بنااور صدر نشین بھی بنا۔ اس بات کے لئے مجھے بڑی مسرت ہے۔ اسکے لئے میں میرا ساتھ دینے والے سارے ضلعی قائیدین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سارے ارکان اسمبلی اور ارکان قانون سازکونسل جنکاتعلق اقلیتوں سے ہے یا جودیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں میں ان تمام کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان سارے ضلعی قائیدین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میراساتھ دیا۔میں اس معاملہ میں نیک نیتی سے آگے بڑھا ہوں کہ اس اوقافی ادارے کوبہتر سے بہتر انداز میں چلایا جائے اور اس کے تحت بہتر سے بہتر کام انجام دئے جائیں۔ پھروقف بورڈکے جوبھی قوانین و قواعد ہیں ان کے تحت اس ادارہ کو چلایا جائے۔ اوقافی جائیدادوں کو ترقی دیجائے تاکہ ہم مسلمانوں کو بہتر سے بہتر فائیدہ پہنچے۔ہم بڑے تعلیم یافتہ بنیں اوراس قابل بن جائیں کہ اپنے آپ کو سنبھال سکیں اور اپنے خاندانوں کو بھی سنبھال سکیں۔اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں کوقابلبنانے کی ضرورت ہے اور اسی قابلیت کالحاظ کرتے ہوئے میں بھی آگے بڑھا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ کام لینے کے لئے مجھے یہاں تک پہنچایاہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعابھی کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس کام میں آسانی عطا فرمائے اور کامیانی عطافرمائے۔
حضرت علی بابا نے اپنی کامیابی کے لئے حکومت کرناٹک کا بھی شکریہ اداکیا۔انھوں نے صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی ڈاکٹر ملی کارجن کھرگے۔ چیف منسٹرکرناٹک شری سدرامیااور سارے کانگریسی قائیدین کا بھی اپنی کامیابی کے لئے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر حضرت علی بابا نے کہا کہ جو لوگ آج ووٹنگمیں نہیں آسکے میں ان سے بھی توقع رکھتا ہوں کہ وہ آگے میرا ساتھ دیں گے۔ حضرت علی بابا نے ان لوگوں سے جنھوں نے ان کاساتھ نہیں دیا ہے یہ خواہش کی ہے کہ وہ انھیں ؔغلط نہ سمجھیں کیوں کہ وہ ایک کام کے لئے آگے بڑھے ہیں اور ایک اچھی نیت کے ساتھ آگے بڑھے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ سب لوگ جڑ کر کام کریں گے تو مسلمانوں کاتعلیم کے میدان میں ہو کہ تجارت کے میدان میں اور دیگر امور میں ہوبہتر سے بہترفائیدہ ہوگا اور اس کے لئے سب کو ساتھ جڑناہی ہے اور جڑ کر کام کرناہی ہے۔حضرت علی بابا نے وزیراقلیتی امور کرناٹک جناب ضمیر احمد خان سے بھی اسی توقع کا اظہارکیا ہے۔انھوں نے کہا کہ میرے تعلقات تمام ارکان اسمبلی سے اچھے ہیں اور تمام لیڈروں سے الحمد اللہ اچھے ہیں۔جب جناب علی باباسے یہ پوچھا گیا کہ وہ اوقافی خدمات کے لئے کتنا وقت دیں گے توانھوں نے کہا کہ وہ آئے ہی اس کام کے لئے ہیں لہذا اوقافی خدمات کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت دیں گے، سارے بورڈ کے ارکان کے ساتھ مل کر ہم صحیح فیصلے لیں گے۔جب جناب علی بابا سے دریافت کیا گیا کہ عام طور پر وقف بورڈ کے ذمہ داران پر رشوت خوری کے الزامات لگتے رہے ہیں تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ہم وقف بورڈکیلئے بہتر سے بہتر خدمات انجام دیں گے اور بورڈ کو اس طرح کے الزامات سے دور رکھیں گے۔
حضرت سید شاہ علی الحسینی صاحب کے صدرنشین کرناٹک وقف بورڈ منتخب ہونے پر محترمہ کنیز فاطمہ رکن اسمبلی گلبرگہ، فراز الاسلام، حضرت سید باقرشبیر حسینی عرف ندیم بابا، سید کرامت حسینی، ڈاکٹر وہاب عندلیب، مولانا عبدالرشید، مولانا تنویر احمد، مرزا سرفراز بیگ، مولاناعبدالرشید مولانا رؤف، مشتاق احمد سہروردی ڈاکٹر عبدالحمید اکبر صدر شعبہ اردوخواجہ بندہ نواز یونیورسٹی، ڈاکٹر ماجد داغی معتمد انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ ، ڈاکٹراطہر معز، نجم الاسلام احمر، عبدالعزیز خرادی، عبدالقدیر چونگے، عادل سلیمان سیٹھ۔ محمد اصغر چلبل، انوار الحق موتی سیٹھ، محمد ساجد، میر ولایت علی رجسٹرار کے بی این یونیورسٹی، سید شاہ تقی اللہ حسینی، گلبرگہ و صحیفہ نگاران حکیم شاکر حامد اکمل،عزیز اللہ سرمست، مرزاسرفرازبیگ، محبوب علی، مظہر عالم خان صدر نشین کلبرگی اربنڈیولوپمینٹ اتھارٹی، عالم خان سابق صدر نشین ٹور ازم ڈیولوپمینٹ کارپوریشن، شاہ نوازخان شاہین، اسد علی انصاری صدر نشمجلس تعمیر ملت گلبرگہ، علاء الدین اکبر اوردیگر کئی ایک حضرات نے دلی مبارک باددی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ حضرت علی بابا کی قیادت و رہنمائی میں کرناٹک وقف بورڈ خوب ترقی کریگا اوراوقافی مسائل بھی آسانی کے ساتھ حل ہوسکیں گے۔
