کٹھمنڈو: نیپال میں مدرسہ تعلیم کے حق میں ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے جنرل سیکرٹری مولانا مشہود خان نیپالی کی قیادت میں سپریم کورٹ میں دائر مقدمے پر عدالت نے حکومت کو 15 دن کے اندر تحریری جواب داخل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت ابھرا جب کمیشن برائے تدریسی خدمات نے محض ہندو مذہب کی تعلیم سے متعلق تدریسی آسامیوں کے لیے اشتہار جاری کیا، جبکہ نیپال کا آئین ملک کو ایک سیکولر، کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی ریاست قرار دیتا ہے۔ اس امتیازی اور غیر آئینی اقدام کے خلاف راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے جنرل سیکرٹری مولانا مشہود خان نیپالی نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا، جس میں حکومت سے سوال کیا گیا کہ مدرسہ تعلیم اور دیگر مذاہب کی مذہبی تعلیم کو تدریسی خدمات میں شامل کیوں نہیں کیا گیا؟
مدرسہ تعلیم کے تحفظ کے لیے مولانا مشہود خان نیپالی کی قیادت میں مضبوط قانونی اقدام
مولانا مشہود خان نیپالی، جو نیپال میں اقلیتی حقوق، مذہبی مساوات اور تعلیمی انصاف کے سرگرم علمبردار ہیں، نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ نیپال کے آئین کی دفعہ 18 اور دفعہ 31 تمام شہریوں کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنے کا حکم دیتی ہیں۔ مگر حکومت کے اس اقدام نے اقلیتی برادریوں، بالخصوص مسلم کمیونٹی کے بنیادی تعلیمی حقوق کو نظرانداز کیا ہے۔
مولانا مشہود خان نیپالی نے عدالت کے سامنے یہ مضبوط دلیل پیش کی کہ اگر حکومت ہندو مذہبی تعلیم کے لیے اساتذہ بھرتی کر سکتی ہے تو مدرسہ تعلیم سمیت دیگر مذاہب کی تعلیم کے لیے بھی تدریسی اسامیوں کا اعلان ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ نیپال میں بسنے والے تمام مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ حق ہے۔
ڈاکٹر عبدالغنی القوفی کا بیان: "یہ جدوجہد تاریخی ہے، مدرسہ تعلیم کا تحفظ یقینی بنایا جائے”۔
اس عدالتی پیش رفت پر راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے صدر اور جامعہ سراج العلوم نیپال کے مؤقر استاذ پروفیسر ڈاکٹر عبدالغنی القوفی نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"یہ مقدمہ صرف مدرسہ تعلیم کا نہیں بلکہ نیپال میں تعلیمی مساوات کی ایک تحریک ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نیپال میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ایک نئی امید لے کر آیا ہے۔ اگر حکومت ایک مخصوص مذہب کی تعلیم کے لیے سرکاری وسائل فراہم کر سکتی ہے، تو مسلمانوں اور دیگر اقلیتی مذاہب کے تعلیمی نظام کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ یہ آئینی برابری کے خلاف ہے اور ہمیں پورا یقین ہے کہ عدالت اس معاملے میں انصاف فراہم کرے گی۔ راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال ہر اس اقدام کی حمایت کرے گا جو تعلیم کے میدان میں برابری کو فروغ دے۔”
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: حکومت کو وضاحت دینی ہوگی!
سپریم کورٹ نے مولانا مشہود خاں نیپالی کی اس دلیل کو اہمیت دیتے ہوئے حکومت نیپال اور کمیشن برائے تدریسی خدمات کو حکم دیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر تحریری جواب داخل کریں اور وضاحت دیں کہ مدرسہ تعلیم اور دیگر مذاہب کی تعلیم کو تدریسی شعبے میں شامل کیوں نہیں کیا گیا؟
یہ فیصلہ مدرسہ تعلیم اور مذہبی مساوات کے لیے ایک بڑی جیت ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ عدالت کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی ادارے صرف ایک مخصوص مذہب کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے بلکہ تمام مذاہب کو برابر کے حقوق دینے کے پابند ہیں۔
مدرسہ سنگھ نیپال کا عزم: تعلیم کے میدان میں برابری کی جنگ جاری رہے گی
عدالت کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے جنرل سیکرٹری مولانا مشہود خان نیپالی نے کہا:
"یہ مقدمہ صرف مدرسہ تعلیم کا نہیں بلکہ نیپال کے ہر اس شہری کا ہے جو مساوی حقوق کا حامی ہے۔ ہم نے ہمیشہ تعلیم کو تمام مذاہب اور طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب کرانے کی جدوجہد کی ہے اور آج عدالت نے ہماری آواز کو سنا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اس ناانصافی کو ختم کرے گی اور مدرسہ تعلیم کو بھی وہی مقام دیا جائے گا جو دیگر مذاہب کو دیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اپنی آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے!”
یہ کیس نہ صرف مدرسہ تعلیم کے حق میں ایک تاریخی سنگ میل بن سکتا ہے بلکہ نیپال میں مذہبی ہم آہنگی اور برابری کے نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر حکومت تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہتی ہے، تو عدالت مزید سخت احکامات جاری کر سکتی ہے، جو نیپال میں تعلیمی انصاف کی ایک بڑی جیت ہوگی۔
یہ کامیابی نیپال کے اقلیتی تعلیمی حقوق کی جدوجہد میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے! واضح ہو کہ اس مقدمہ کو داخل کرانے میں راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے ذمے داران کی بڑی جد و جہد شامل رہی ہے اس سے پہلے ڈاکٹر عبدالغنی القوفی کی صدارت میں ایک وفد نے لمبنی پردیش کے ہائی کورٹ میں درخواست کے لئے بھی پہل کی تھی جس میں مولانا مشہود خاں نیپالی ،محمد اسحاق ، قطب الدین فاروقی ، شمیم احمد السراجی ، عبد الرحمن فاروقی، نسیم احمد ، شیو راج آچاریہ ماؤ کیندر کے دانگ ضلع کے سیکریٹری ، سینیئر ایڈوکیٹ انیرودر گری ، کے ساتھ نشست ہوئی جس میں وکلاء کے طرف سے یہ بات سامنے آئی کی ملکی سطح کے کمیشن کے اتنے بڑے اقدام کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنا اور ہائی کورٹ کا اتنا بڑے معاملہ میں فیصلہ لینا دشوار ہوگا، اس کے بعد پھر دوسری نشست ماہوری ہوم کے سرپرست جناب روی ٹھاکر، مشہور و معروف وکیل شیلیندر پرساد، مہیندر کھنال کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد کمیشن برائے تدریسی خدمات کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ ہوا، بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ عدالت میں مقدمہ درج کرنے میں بھی کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑا آخر کار مولانا مشہود خاں نیپالی نے کہا کہ اگر مقدمہ سپریم کورٹ درج نہیں کرتا ہے تو عدالت علیا بھی اپنے آپ کو سوالات کے کٹگھرے میں کھڑا کر لے گی۔ پھر اللہ کی نصرت شاملِ حال رہی اور مسلسل جد و جہد کے بعد مقدمہ داخل ہوا پھر شنوائی ہوئی اور عدالت نے وزارتِ تعلیم نیز کمیشن برائے تدریسی خدمات سے 15 دن کے اندر اندر تحریری جواب طلب کیا ہے اور اگلی شنوائی 15 دن کے بعد رکھی ہے۔

