وصی اللہ مدنی 

قنوتِ وتر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر صلاة (درود) بھیجنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے اور ان کے دو اقوال ہیں:

پہلا قول: قنوت وتر کے اخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاة بھیجنا غیر مشروع عمل ہے۔

علامہ عزالدین بن عبدالسلام نے فتاویٰ (٦٦/١) میں لکھا ہے: ” قنوت وتر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ کرنا مناسب نہیں۔

عدم جواز کے قائلین کی دلیل یہ ہے کہ جس حدیث میں آپ پر صلاة بھیجنے کا ذکر ہے وہ لفظ مرفوعاً ضعیف ہے اور اس کو امام نسائی نے اپنی سنن (ح: 1747) میں بایں الفاظ روایت کیا ہے "وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ” اور اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرمائے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی، امام قسطلانی، امام زرقانی اور علامہ محمد ناصر الدین البانی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔

دوسرا قول: قنوت وتر کے اخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاة بھیجنا مشروع اور جائز ہے گو اس بابت وارد روایت کو محدثین عظام نے ضعیف قراردیا ہے، تاہم اس ضعف کا انجبار اور تلافی دوسرے صحیح آثار صحابہ سے ہوجاتی ہے۔

(1) ابو حلیمہ معاذ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں قنوت وتر میں رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام پڑھا کرتے تھے۔

دیکھیے: [فضل الصلاۃ علی النبی ﷺ از: اسماعیل بن اسحاق قاضی (م282ھ) رقم 107]

اس اثر کو حافظ ابن حجر عسقلانی، علامہ محمد ناصر الدین البانی اور حافظ زبیر علی زئی رحمہم اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔

[دیکھیے: صفة صلاۃ النبي، ص:180/مشكاة المصابيح: 1273]

(2) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی موقوفاً مروی ہے کہ وہ قنوت وتر میں نبی کریم ﷺ پر درود وسلام پڑھا کرتے تھے۔

اس اثر کی سند بھی صحیح ہے۔ اسے امام ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ :ح1100)

[دیکھیے: (صفةصلاۃ النبي ﷺ ص: 180]

علامہ البانی کا رجوع اور فتویٰ

علامہ البانی رحمہ اللہ اپنی کتاب "صفة صلاة النبى صلى الله عليه وسلم ص :245 حاشیہ 1 کے تحت بہ عنوان ” تنبیہ” لکھتے ہیں : "امام نسائی نے (کبریٰ ج٤٥١/١) و(صغریٰ ج٢٤٨/٣) میں دعاء قنوت کے اخیر میں "وصلى الله على النبى محمد” کا اضافہ کیا ہے، مگر چوں کہ اس کی سند ضعیف ہے، حافظ ابن حجر، قسطلانی اور زرقانی وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے، اس لیے میں نے اس زیادتی کو اصل کتاب میں جگہ نہ دی، کیوں کہ یہ ہماری شرط کے خلاف ہے، جسے ہم نے اس کتاب کے مقدمہ ص٩٢ میں بیان کیا ہے…. ۔” اس کے بعد بہ عنوان”استدراک” ابی بن کعب اور ابوحلیمہ معاذ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہما کے آثار ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ” پس یہ زیادتی (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاة) سلف صالحین کے اس پر عمل پیرا ہونے کے بسبب مشروع ہوئی، لہٰذا اس پر بدعت کا اطلاق کرنا نامناسب بات ہے۔”

ڈاکٹر عبدالصبور مدنی لکھتے ہیں: "شیخ البانی رحمہ اللہ پہلے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی حدیث میں وارد دعائے قنوت میں کسی اضافے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، لیکن بعد میں آپ نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم پر درود، کافروں پر لعنت اور مسلمانوں کے لیے دعا کے اضافے کو جائز قرار دیا، چناں چہ کہتے ہیں: "ثم اطلعت على بعض الآثار الثابتة عن بعض الصحابة، وفيها صلاتهم على النبى صلى الله عليه وسلم فى آخر قنوت الوتر، فقلت بمشروعية ذلك، وسجلته في” تلخيص صفة الصلاة” (إرواء الغليل:177/2)

"پھر میں کچھ ایسے آثار پر مطلع ہوا جو بعض صحابہ سے ثابت ہیں، جن میں قنوت کے اخیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا اضافہ ہے، تو میں اس کی مشروعیت کا قائل ہوا اور اپنی کتاب ” تلخيص صفة الصلاة” میں اس کا ذکر کیا۔”

ایک جگہ فرماتے ہیں:

"ولا بأس من الزيادة عليه بلعن الكفرة، ومن الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والدعاء للمسلمين” (قیام رمضان: ص31)

"کافروں پر لعنت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور مسلمانوں کے لیے دعا کی غرض سے دعائے قنوت میں زیادتی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔”(سنن رواتب اور نماز وتر: احکام و مسائل)

راجح قول:

صحیح آثار صحابہ کی روشنی میں قنوت وتر کے اخیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاة بھیجناجائز ہے اور بعض اہل علم کا اس عمل کو بدعت اور غیر مشروع کہنا شرعاً درست نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے