بیدر۔26؍مارچ (محمدیوسف رحیم بیدری): پہلے کے مقابلے مسلمانوں میں اپنے دین ِ اسلام اور اس میں موجود عبادتوں کولے کر کافی بیداری دیکھنے کومل رہی ہے لیکن عملاً کوتاہی کاموجب سبھی ہورہے ہیں۔ طاق راتوں کی اہمیت کو دینی جماعتیں اوران سے وابستہ افراد بخوبی جانتے ہیں لیکن عوام بھی طاق رات کی اہمیت کو کم فیصد سہی لیکن جان رہی ہے۔ کل شب طاق رات تھی ۔ قدیم شہر کے درزی گلی ،اور مین روڈ پر خواتین کاہجوم خریداری میں مصروف تھاجب کہ کپڑلین میں زیادہ خواتین نظر نہیں آئیں ۔درزی گلی کاحال یہ ہے کہ روزانہ شب کو کلثوم گلی طرف کاراستہ بند کردیاجارہاہے۔ پیدل چلنے والوں
کو اندر داخل ہونے کی اجازت ہے۔ گاڑیاں والے اندر نہیں آسکتے۔ عیدکی خریداری ضرور ی ہے لیکن طاق راتوں میںخریداری نہ کرتے ہوئے گھروں میں اللہ رب العالمین کی عبادت میں لگے رہنے سے برکتوں کانزول ہوگا۔ اپنے بچوں اور خاندان پر اس کاگہرا اثر ہوسکتاہے اور اگر خواتین خریداری میں لگی رہیں گی تو طاق راتوں کی برکتوں سے بھی ہاتھ دھوئیں گی اور خاندان پر بھی کوئی دینی اثر نہ ہوگا۔
دوسری جانب مسلم نوجوانوں کاحال یہ ہے کہ جیسے ہی تراویح ختم ہوئی، مسجد سے باہر نکل کران کی مٹرگشتی شروع ہوجاتی ہے۔ رمضان کاآخری دہا کافی اہم ہوتاہے ۔ شب قدر کی تلاش کے لئے اعتکاف جیسی سنت رکھی گئی ہے۔ لوگ باگ مساجد میں اعتکاف کرتے ہیں لیکن ہمارے نوجوان بازاروں کاچکر لگارہے ہیں۔ اس عمل سے ہمارے نوجوانوں کوباز آنا چاہیے۔رمضان کا آخری دہا دعاؤں کی قبولیت سے بھی تعلق رکھتاہے۔ دعاؤں کی طرف نوجوان متوجہ ہوں ۔ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے لئے بھی دعائیں کی جائیںکہ اللہ تعالیٰ ان تمام کی ہر پل مددفرمائیں اورظلم کاباب بند ہو۔آمین۔ بے روزگاری کے خاتمہ کی دعا بھی ضروری ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ آخری دہے کے باقی دِنوں میں بیدر کی خواتین اور نوجوان عبادات کی طرف زیادہ متوجہ رہیں گے۔
