سہارنپور ( احمد رضا): عام رائے ہے کہ خاص سازش کے تحت وقف ایکٹ لایا گیا ہے تاکہ آدھے سے زیادہ ملک میں قائم و دائم مسلم افراد کی جائدادیں ضبط کر لی جائیں اور اس قوم کو مدارس اسلامیہ ، خانقاہوں اور مساجد سے بید خل کر سبھی املاک پر سرکار ی قبضے جما لئے جائیں ! تیس کروڑ مسلم آبادی پر سرکار نے وقف ایکٹ 2025 وقف ترمیمی بل تھونپ کر جو صدمہ پہنچا ہے اس کا نتائج بہت مضر ہوں گے ملک کے مسلمانوں کی قیمتی املاک کو خرد برد کرنے کے لئے سرکار جو نیا بل لیکر آئی ہے وہ خد سرکار کے لئے خسارہ کا سبب بن سکتا ہے سرکار خاص طور سے بھا جپا قیادت کی ن یت مسلم آبادی کے لئے کسی بھی صورت قابل احترام اور قابل اعتماد نہی ہے منافق افراد کے بل بوتے پر مسلمانوں کی ہمدردی کے نام پر لایا گیا یہ وقف ایکٹ کسی بھی زی ہوش مسلمان کے لئے قابلِ قبول نہیں یہ بل مدارس اسلامیہ اور خانقاہوں کو بند کرنے اور انکی املاک پر قبضے کر نے کے سوائے کچھ بھی نہیں یہ وقف جائیدادوں کے لئے تباہ کن بھی ثابت ہو گا!
سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے ایک خاص گفتگو کے دوران مساجد مدارس اسلامیہ اور خانقاہوں سے متعلق سوال کا جواب دینے ہوئے واضع کیا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت ہند نے وقف ایکٹ پر لاکھ کاوشوں کے بعد بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملت اسلامیہ کی قیادت کر نے والی تنظیموں کے مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی،اسی طرح اپوزیشن پارٹیز کے ارکان پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کی بات بھی نہیں سنی، ایک جمہوری ملک میں یہ آمرانہ رویہ نا قابلِ قبول ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس پر ہرگز خاموش نہیں بیٹھے گا بلکہ ملک گیر احتجاج کی راہ ہموار کرے گا اور بھرپور تیاری کے ساتھ قانونی کارروائی بھی کرےگا، قانونی کارروائی کی تیاری اور احتجاج کے سلسلے میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، عنقریب اس کا اعلان کر دیا جائے گا اور پوری قوت کے ساتھ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن مگر مسلسل اور مضبوط احتجاج کیا جائے گا ان شاءاللہ!
سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ آج بل پا س ہوئے 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے اترا کھنڈ اور اتر پردیش کے علاقوں میں مدارس کے خلاف ایکشن شروع کر دیا گیا سہس پور میں آٹھ مدرسوں پر سیل لگا دی گئی ہے یہ سب وقف املاک پر قبضے جما نے کی سازش نہی تو اور کیا ہے! محمد علی ايڈوکیٹ نے صاف صاف بیان کیا کہ ہم نہ صرف مسلمانوں بلکہ ملک کے انصاف پسند شہریوں سے بھی گذارش کرتے ہیں کہ وہ بورڈ کے اعلان کا انتظار کریں اور جب احتجاج کے لئے آوازدی جائے پوری طاقت کے ساتھ اس میں شامل ہوں تاکہ حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور اس قانون کی واپسی کا دروازہ کھل سکے۔ ہم یہ واضح کر دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ وقف ترمیمی بل 2025 اپنے مشمولات کے اعتبار سے نہایت نقصان دہ اور تباہ کن ہے اس کی وجہ سے بہت سی دشواریاں اور مسائل کھڑے ہو جائیں گے اس لئے بہر صورت اسے حکومت کو واپس لینا چاہئے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل 2025 کے پاس ہونے کے بعد اپوزیشن پارٹیز کے ممبران پارلیمنٹ نے جس بیدار مغزی، تیاری اور احساس ذمےداری کے ساتھ اس بل کی مخالفت کی اور مسلمانوں کے موقف کو واضح کیا وہ خوش آئند بات ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ وقف ترمیمی بل 2025 کی مخالفت کرنے والی تمام اپوزیشن پارٹیز اُن کے سربراہان اور ارکان پارلیمنٹ کا شکر گزار ہے اور ان کے عمل و اقدام کی تحسین کرتا ہے اور اُمید رکھتا ہے کہ وہ آئندہ بھی وقف ترمیمی بل 2025کو روکنے کے سلسلے میں کی جانے والی تمام کوششوں میں شانہ بشانہ شریک ہوں گے اسی طرح بی جے پی کی حلیف پارٹیز اور اُن کے سربراہان خاص طریقے پر نتیش کمار، چندرابابو نائیڈو، چراغ پاسوان اور جینت چودھری نے اس سلسلے میں جو کردار نبھایا ہے اور جس طرح مسلمانوں کو چھوڑ کرحکومت وقت کا ساتھ دیا ہے وہ نہایت درجہ تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔ وقف ترمیمی بل 2025کے سلسلے میں ان کے رخ اور رویے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مسلمانوں نے ان حضرات کی سیکولر شبیہ کی وجہ سے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے لیکن ان لوگوں نے جس طرح مسلمانوں کو دھوکہ دیا اسے کبھی بھلایا نہیں جائےگا اور ہر حال میں انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا، ان پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے لئے بھی غور کرنےکا مقام ہے کہ اس بے وفائی کے بعد ان کا رد عمل کیا ہونا چاہئے اور بہ حیثیت مسلمان انہیں کیا راستہ اپنانا چاہئے، ملت کو چھوڑ کر سیاسی مفادات کی پاسداری کرنا گھناؤنا عمل ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ کسی بھی دباؤ دھمکی یا غلط رویے اور طرز عمل کی وجہ سے بورڈ اپنے مطالبات سے دست بردار نہیں ہوگا۔ وقف ترمیمی بل 2025کے سلسلے میں جب اور جس طرح کی قربانی درکار ہوگی پیش کی جائے گی اور اس لڑائی میں بورڈ تنہا نہیں ہوگا بلکہ پوری ملت اسلامیہ ہندیہ اس کے ساتھ کھڑی ہوگی!

