محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک

۱۔ کامیاب سکندر
سب اپنے اپنے داؤپر ہیں اور سب ہی دوسرے کے داؤ کے دباؤ سے باہر نکلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گویا انسان داؤپیچ کے جنگل راج سے گزررہاہے ۔جو دباؤ سے باہرآئے وہی سکندرکہلائے گا۔
۲۔ ایک اچھا شخص 
میں بہت اچھاشخص ہوں لیکن شخصیت بننے تک شاید سچ بولتابولتا مرجاؤں گالیکن لوگ اقرار نہیں کریں گے کہ میں ایک اچھاآدمی ہوں
۳۔ دلکش زبان 
اس نے پوچھاتھا’’دکنی مرگئی کیا؟‘‘
مئیںاس کو بولا’’دکنیچ سب کو مار دے گی ، کوئی پیدا نئیں ہواجو دکنی زبان کومارسکے، دکنی آسان زبان ہے ۔ اس کو بولنے والا بول کر خوش رہتئے۔ تمارے جیسا گلے شکوے نئیں کرتا، سمجے یانئیں ؟‘‘کوئی جواب اُدھر سے نئیں آیا۔
۴۔ ساز باز 
پرائم منسٹر صاحب کی شہر میںتشریف آوری ہورہی تھی۔ چند ہی گھنٹے میں وہ شہر پہنچنے والے تھے ، کروڑہا روپئے کی اسکیمات کاافتتاح ان ہی کے ہاتھوں سے ہونے والاتھا۔ فراز یکجائی نے دیکھاکہ شہر بھر کے سود خور ، شراب کے کاروباری ، جوا گھراور نائب کلب کے مالکان ،گانجہ اور حشیش فروش، صندل کی لکڑیوں کی تسکری کرنے والے ،عورت فروش اور نہ جانے کون کون سے برے کاروبار کرنے والے وہاں جمع تھے۔ سبھی کو وہاں رہناتھا، یالائن حاضر کیاگیاتھا، پتہ نہیں چل سکا۔
البتہ جو لوگ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان ہمدردی اور اٹوٹ تعلق کی بات کرتے تھے، ملک کے لئے اپناقیمتی وقت نکالتے تھے، کسی کے دکھ درد میں اپنے ٹرسٹ، سوسائٹی اور تنظیموں سمیت شریک ہوتے تھے ، کھانا کھلانا ، پانی پلانا، اچھے طلبہ کوانعامات سے نوازنا ایسے افراد کاکہیں نام ونشان نہیں تھا۔
پرائم منسٹر صاحب پہنچے ۔ ان لوگوں سے ہاتھ ملایا جو وہاں موجودتھے۔کروڑہا روپئے کی اسکیمات کاافتتاح کیا۔ پھر ایک بڑے سے منچ سے تقریر شروع کردی۔ نیچے بیٹھے ہوئے فی کس 1000روپئے میں لائے کرائے کے مزدو رپرائم منسٹر کی ہربات پر تالیاں بجارہے تھے۔ہاتھ میں پیسہ بھی تب آتا ہے جب دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے ساز باز کرلیتے ہیں۔
۵۔ خوش قسمت 
وہ پانی بھرنے لگیاتھا۔ میکوواپس آنا پڑا۔ باد(بعد) میں کال کریاکہ مافی چاہتوں ، پانی بھرنا تھا۔ میں بولیا’’کوئی بات نئیں،دوست واپس ہونے کامطلب دوستی ختم کرنانئیں ہوتانا‘‘
وہ خوش ہوگیا۔ کچ دیر بعد ہم دونوں مل کرایک ہوٹل میں تہاری کھارئے تھے۔صبا، صبا(صبح، صبح) کی دوستی کرنے والے خوش قسمت ہوتئیں(ہوتے ہیں)۔
۶۔ وہ مان گیا
’’میں تو دکنیچ نئیں پڑیااسکول میں ‘‘ وہ بولیا۔
میں نے کہا’’ اسکول سے باہر سماج میںاور معاشرے میں دکنی خود بخود پڑھتیں۔نہ چاہتے ہوئے بھی تمارے اندر دکنی سب کُو دکنی دستی اے ۔ یقین نئیں آراتو دیکھ لوخود کو ‘‘ وہ بولیا’’آپ کی بات سمج روں میں لیکن یہ اپنے آپ کیسے آجاتی ہنگی ؟‘‘ میں نے ہنس کر کہا’’آجاتی بابا، دکنی زبانچ ایسی ہے ۔ سیدھی سادی ، پیاری پیاری ‘‘ میں دکنی زبان کے بارے میں بھؤت سارے باتاں بتایاتب وہ مان گیا کہ دکنی ایک آسان زبان ہے۔فطری ہے ۔ ہر کوئی جلدی سیک جاتاہے۔ لیکن اقرار نئیں کرتاکہ اس کی مادری زبان دکنی ہے۔ کیوں کہ جو لوگ دکن میں پیداہوئے ان کی گٹھی میں دکنی زبان اپنے آپ ہوتی ہے۔
۷۔ دوسال بعد 
اس کُو دوسال بعد فون کریوںدیکھو، مئیں بولیا کیارے ، اب تو بھی تھوڑا وقت ہے با، بات کرنے کُو؟یا اب کی بار بی ایسچ ملے بغیرواپس جاتئے ،چور میرابیٹا فوراً موبائل کا سوئچ آف کردئے، ایسے لچے دوستاں کو کیابولنا سو؟ایسے حرامی دوستاں ہمارے کام نئیں آکو ، ہمارے فون نئیں اٹھاکو غیروں کافون اٹھاتیں ، ان سے بات چیت کرتیں ، ان سے فیملی ٹرمس رکھتیں۔ اسلئیچ ان کی بیٹیاں بھی غیروں کے ساتھ بھاگ جارِیں۔ مسلمان ایک دوسرے کو دیکھنے ، سمجنے ، باتاں کرنے تیارِچ نئیں ہے ۔ ایسی حالت میں بھگتنا توپڑے گا۔ اور بھی برا وقت آسکتئے ۔ اللہ میاں مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے