انسان کی تخلیق کا اصل مقصد عبادت و بندگی ہے ۔ انسان جب سے عبادت و بندگی کا پابند ہوتا ہے تب سے اس وقت تک مختلف قسم کی عبادتوں کے بجالانے کا مکلف ہوتاہے جب تک اسے ہوش و حواس ہے۔عبادت وبندگی کی طاقت وقوت ہے اور اس کی روح جسم میں باقی ہے ۔ جسم سے روح کے جدا ہوجانے کے بعد ہی شرعی تکالیف سے انسان کو آزادی ملتی ہے ۔

یہ اور بات ہے کہ آج کا مسلمان مخصوص دنوں اور مہینوں میں خود کو عبادت کا پابند بنالیا ہےاور بقیہ دنوں‘ مہینوں میں عموما اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہےجو اس کی کم علمی ، کوتاہی ، ذات باری تعالی کے حقوق سے لاعلمی اور خواہشات نفس کی اتباع کے سبب ہے ۔

قارئين كرام ! شريعت نے ایک مسلمان کو جن عبادات کا مکلف بنایا ہے وہ عموما دو قسم كے ہیں ایک وہ جو فرائض اور واجبات کی قبیل سے ہیں ۔تو دوسری قسم کی وہ عبادتیں ہیں جو مستحب نوافل اور تطوع کی قبیل سے ہیں ۔

عبادات چاہے نماز ہو یا روزہ ۔ زکوۃ ہو یا حج یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس قسم کی عبادتوں میں نفلی عبادتیں بھی مشروع قرار دی گئیں ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بحیثیت مسلمان ایک مؤمن صرف واجبات کی ادائیگی کا مکلف ہے ۔ لیکن واجبات کے ساتھ نوافل کا بھی ہمیں پابند ہونا چاہیے۔کیوں کہ انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں بلکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے ہر لمحہ اس سے کوئی نہ کوئی غلطی اور گناہ کا کام سرزد ہوتا ہے ۔یا وہ حقوق واجبات کی ادائیگی کا جو مطلوبہ معیار ہے اس معیار سے اللہ کے حقوق ادا نہیں کر پاتا ہے بطور مثال آپ نماز ہی کو لیجئے اور خود کا محاسبہ کیجیے کہ کیا ہم نماز اس معیار کا پڑھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے ؟ اور تو اور ہماری توجہ حالت نماز میں کہیں اور ہوتی ہے ۔ اس سے بڑھ کر یہ ہم سے نماز میں مختلف غلطیاں بھی ہوتی ہیں ۔لہذا اس قسم کی کوتاہیوں کی تلافی کے لئے جہاں مختلف اعمال ہیں وہیں یہ نفلی عبادات بھی ہیں ۔ اسی لئے مختلف نفلی عبادتوں کا اہتمام کرنا چاہیے ۔
ذیل کے سطور میں نوافل سے حاصل ہونے والے فوائد کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا جا رہا ہے ۔

نفلی عبادتوں کے فوائد:

۱- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء ہوتی ہے ۔ کیونکہ آپ بکثرت نفلی عبادتوں کا اہتمام کرتے تھے۔

۲۔ نوافل کے ذریعے ‘ فرائض میں ہونے والی کوتا ہی کی تلافی کی جائے گی۔

۳۔ نفلی عبادتوں کے ذریعے بندہ اللہ سے قرب کے درجات طے کرتے ہوئے اللہ کی محبت کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔

٤۔مختلف نفلی عبادتوں میں جو ثواب بتائے گئے ہیں،نوافل کے اہتمام سے ہم اس کا مستحق ہوتے ہیں۔

۵۔ نفلی عبادات ، واجبی عبادتوں کے ٹریننگ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔اسی لئے بندہ نفی عبادتوں کے ذریعے واجبی عبادات کی ادائیگی کما حقہ کر پاتا ہے ۔

٦۔نفلی عبادات، دلوں کی اصلاح اور درستگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

۷۔ نفلی عبادتوں کے ذریعے وقت اچھے کاموں میں صرف ہوتا ہے کیونکہ انسان کے زندگی کے ہر ہر لمحہ کے بارے میں قيامت كے دن سوال کیا جائےگا۔

اللہ تعالی ہمیں نوافل کے اہتمام کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے