غزل

اپریل 16, 2025

(دکنی ٹچ کے ساتھ)

میربیدری، بیدر،کرناٹک

قصہ تمام اُن کو کردیناتھا
دیش کو نفرت سے بھر دیناتھا

کنٹلوں سے نفرت کے انگارے
کوئی لیں ، یانہ لیں ، پر دینا تھا

کیوں معذور کئے پیسوں سے گر
ہٹے کٹوں کو گھر دینا تھا

بچے ہاتھ سے نکلے ، سمجھ آیا
اُن کو اللہ کا ڈر دینا تھا

یہ قانون ِ وقف، عجب آیا
دھرنے پو ہیں ہم، سر دینا تھا

جیت ہماری تھی ، ڈٹے رہ رہ کر
ہم نقصان اپنا کر دینا تھا

لڑکا دیا رب نے لیکن افسوس
مادہ نئیں منجے ، نر دینا تھا

ہونا کُچ بی نئیں میرے اللہ
میکو بھی بال و پر دینا تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے