مختلف مذاہب کے افراد کی شرکت، مقررین نے آپسی محبت و بھائی چارہ پر زور دیا

لکھنؤ: سدبھاؤنا منچ، لکھنؤ کے زیر اہتمام عید ملن پروگرام کا انعقاد ہوا۔ جس کا مقصد معاشرے میں آپسی محبت، بھائی چارے، اتحاد اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ اس پروگرام میں مختلف مذاہب، طبقات، اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام کی صدارت وارث حسین، اسسٹنٹ سکریٹری جماعت اسلامی ہند نے کی۔ انہوں نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ عید ملن کا یہ خوبصورت موقع ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ گلے ملنا، محبت بانٹنا، اور دلوں کو جوڑنا ہی سدبھاؤنا منچ کا اصل پیغام ہے۔ قرآن کا پیغام انسانیت کی فلاح و بہبود کا ضامن ہے اور روزہ اسی بندگی اور اطاعت کی مشق ہے جسے ہمیں زندگی بھر اپنانا چاہیے۔ روزہ اللہ کی جانب سے فرض کیا گیا ہے، اس کا مقصد یہی ہے کہ جیسے ہم نے رمضان کے مہینہ میں اپنے آپ کو پوری طرح سے اللہ کے حوالہ کردیا ہے، ٹھیک اسی طرح سے ہمیں رمضان کے علاوہ بھی باقی کے مہینوں میں اپنے آپ کو اللہ کا مطیع و فرمانبردار بننا چاہیے۔
پروگرام کی نظامت محمد ذیشان صدیقی نے کی، جبکہ آغاز مولانا زبیر ملک فلاحی کے درس قرآن سے ہوا، جس میں انہوں نے قرآن مجید کے اخلاقی و انسانی پیغام کو نہایت پر اثر انداز میں پیش کیا۔پروگرام کے افتتاحی کلمات صابر خان نے پیش کیے، جنہوں نے سدبھاؤنا منچ کے قیام، اس کے اغراض و مقاصد، اور اب تک کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ منچ معاشرے میں پھیلتی نفرت کو ختم کر کے محبت اور خیرسگالی کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہے۔
مہمان کی حیثیت سے شریک ڈی کے یادو نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج نفرت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے، سدبھاؤنا اور آپسی میل محبت آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں۔ اسلام ایک ترقی پسند مذہب ہے جو خواتین کے حقوق، ہمسایوں سے حسن سلوک، اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں دستور ہند کی روشنی میں سبھی مذاہب کو برابر کا حق دینا چاہیے اور ہم سدبھاؤنا کے بیج کو مستقل بنیادوں پر سینچتے رہیں گے۔
پروگرام سے بی آر بودھ، ایڈوکیٹ محمد راشد، کیشو رام جی، اور آلوک کشواہا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایڈوکیٹ محمد راشد نے رمضان کے روزوں اور سناتن دھرم میں چندراین ورت کے مابین مماثلتوں پر بات کی، جبکہ کیشو رام نے رمضان کو توبہ، خود احتسابی اور اصلاح کا مہینہ قرار دیا۔آلوک کشواہا نے کہا، کوئی بھی مذہب نفرت یا بیر نہیں سکھاتا۔ تمام مذاہب امن، محبت اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں۔ ہمیں ایسا سماج بنانا ہوگا جہاں ہر مذہب کا یکساں احترام ہو۔
اس موقع پر سورج سنگھ، ریٹائرڈ کرنل عبدالقدیر اور سید حبیب اللہ ندوی وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر امجد سعید فلاحی نے تمام مہمانوں و شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ سوئیوں کی مٹھاس کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔

مذکورہ اطلاع ڈاکٹر امجد سعید نے جاری ایک پریس ریلیز میں دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے