بیدر۔ 25؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): نیہا سنگھ راٹھور ایک بھوجپوری شاعرہ ہیں۔ ترنم سے اپناکلام پیش کرتی ہیں۔حکومت کی ناقد ہیں۔ ہندوستان بھر میں وہ مدعوکی جاتی ہیں۔ روزانہ سوشیل میڈیا پر ویڈیوکلپ اپلوڈ کرنا ان کامشغلہ ہے۔ بنیادی طورپر خود کو کسان بتاتی ہیں۔ پڑھی لکھی ہیں ، بہارسے تعلق ہے اس لئے سیاسی شعور زیادہ ہے۔ ان کے کئی بھوجپوری ترانے (گانے) بھاجپائیوں کے لئے ناقابل قبول ہیں۔ جیسے یوپی میں کابا؟، چندا چور ہوگئے دیکھتے دیکھتے وغیرہ ۔ پہلگام حملے کے بعد دوتین ویڈیو ان کے آئے ہیں لیکن ایک تازہ ویڈیو میں نیہاسنگھ راٹھور نے چند واقعات کو پیش کیاہے ، اسکا جواب بھاجپا کی سوشیل میڈیا آرمی کس طرح دے گی ؟یہ دیکھنا ضروری ہے۔
نیہاسنگھ راٹھور کہتی ہیں ’’قندھارویمان ہائی جیک واقعہ 1999میں ہوااس وقت مرکز میں بھاجپا سرکار تھی۔ 1999ہی میں کارگل یدھ ہوا، اس وقت مرکز میں بھاجپا سرکار تھی۔ 2001؁ء میں سنسد(پارلیمنٹ ) پر آتنکی حملہ ہوا، بھاجپا سرکارتھی۔ 2002؁ء میں اکشر دھام مندر پر آتنکی حملہ ہوا، بھاجپا سرکار تھی۔ امرناتھ یاتریوںپر 2002؁ء اور 2017؁ء کو حملہ ہوا۔دونوں وقت بھاجپا سرکار تھی۔ 2002؁ء میں گودھراکانڈ ہوا، بھاجپار سرکار تھی۔ پٹھان کوٹ آتنکی حملہ 2016؁ء کو ہوا، پھربھاجپا سرکار، اُری آتنکی حملہ 2016بھاجپا سرکار۔ 2019کوپلوامہ آتنکی حملہ ہوا مرکز میں بھاجپا سرکار تھی۔ اور اب پہلگام آتنکی حملہ 2025؁ء کو ہوا۔ مرکز میں بھاجپا سرکار ہے ‘‘نیہاسنگھ راٹھور نے اپنے ویڈیوکلپ میں آگے کہاہے کہ’’ دیش میں اب تک کے سب سے بڑے آتنکی حملے بھاجپا حکومت میں ہوئے ہیں۔ بھاجپا برسراقتدار آتے ہی دیش اور دیش واسی خطرے میں آجاتے ہیں۔ جب کہ چناؤ کے قریب ہی یہ آتنکی حملے ہوتے ہیں‘‘۔ محترمہ نے شاعر یعنی کویوں کے بارے میں بتایاکہ ’’سرکاری کویوں نے پاکستا ن کے خلاف مورچہ کھول دیاہے اور جنگ کرنے کی کویتائیں پڑھنا شروع کردی ہیں۔ اب انہیں پاکستانیوں کے کٹے ہوئے سرچاہیے۔ ظاہر بات ہے کوی اور بھاجپا نیتا سرکاٹنے پاکستان نہیں جائیں گے ، اگر جنگ ہوئی بھی تو کسان کے فوجی بیٹے پاکستان جائیں گے۔ نیتاؤں کاکیاہے ، الیکشن جیتنے کے لئیے جنگ کااعلان بھی کرسکتے ہیں۔ جنگ میں ملکی وسائل خرچ ہوں گے اور یدھ میںکسانوں کے فوجی بچے مارے جائیں گے۔ بھاجپا نیتا اور ان کے چاپلوس زور لگارہے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ یدھ ہوجائے۔ سوال یہ نہیں کررہے ہیں کہ پہلگام آتنکی حملے کے وقت سیکورٹی کاایک بھی جوان وہاں نہیں تھا تو کیوں نہیں تھا؟پہلگام آتنکیوں کو چن چن کرمارگرانے کے بجائے پاکستان کے ساتھ یدھ کرتے ہوئے ہزاروں افراد کی جانوں کو جوکھم میں ڈالاجارہاہے۔ بھاجپا کے کسی وزیر نے اپنی چوک کو قبول کیوں نہیںکیا؟وزیر داخلہ نے اپنااستعفیٰ کیوں نہیں لکھا؟بہار جاکر ہی وزیراعظم کو ریلی کرتے ہوئے بیان دینے کی ضرورت کیوں پڑی ؟میں اپنے دیش واسیوں سے اتناہی کہنا چاہتی ہوں کہ دیش اپناہے ، اس دیش کوبچائیے ۔ جنگ سے بچائیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے