ممبرا اور میرا روڈ میں محمدعلی روڈ اور مدنپورہ جیسا ماحول
ممبئی: ماہِ رمضان المبارک آتے ہی ممبئی کی فضا میں ایک خاص روحانیت اور رونق پیدا ہوجاتی ہے۔ جنوبی ممبئی کے تاریخی علاقوں محمدعلی روڈ اور مدنپورہ کی گہماگہمی تو دنیا بھر میں معروف ہے، مگر گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ممبئی کے مضافاتی مسلم اکثریتی علاقے ممبر ا اور میرا روڈ بھی رمضان کی رونقوں کے حوالے سے نمایاں ہوکر سامنے آئے ہیں۔ افطار کے بازار، مساجد میں عبادت کا اہتمام، سحری کی محفلیں اور سماجی سرگرمیاں یہاں ایسا ماحول پیدا کردیتی ہیں کہ دیکھنے والوں کو جنوبی ممبئی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں ان دونوں علاقوں کی آبادی میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایک وقت تھا جب ممبرا اور میرا روڈ کو محض دورافتادہ مضافات سمجھا جاتا تھا، مگر آج یہ علاقے تیزی سے ترقی کرنے والے شہری مراکز بن چکے ہیں۔ یہاں متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ خاندانوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور بلند و بالا رہائشی عمارتیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ علاقے اب جدید شہری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
تاہم ان علاقوں کی ترقی کے باوجود بعض فرقہ پرست حلقے وقتاً فوقتاً انہیں مسلم اکثریتی آبادی ہونے کی وجہ سے نشانہ بناتے رہے ہیں اور کبھی انہیں سماج دشمن عناصر کے مراکز قرار دینے کی کوشش بھی کی گئی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان علاقوں میں تعلیم، تجارت اور سماجی ترقی کے کئی مثبت پہلو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں اور مختلف مذاہب کے لوگ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
میرا روڈ: نمک کے کھیتوں سے جدید شہر تک
میرا روڈ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 1970 کی دہائی میں یہ ویسٹرن ریلوے کا ایک چھوٹا سا اسٹیشن تھا۔ اس زمانے میں اسٹیشن کے مغربی جانب دور دور تک نمک کے کھیت پھیلے ہوئے تھے اور ان کے آگے کھاڑی اور بحرِ عرب کا منظر نظر آتا تھا، جبکہ مشرقی سمت میں کھیت اور کھلی زمینیں واقع تھیں۔
اس علاقے کی باقاعدہ آبادکاری کا آغاز نیانگر کے قیام سے ہوا۔ اس منصوبے کی بنیاد رکھنے والوں میں سید نذر حسین کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ بعد میں اس منصوبے کو فروغ دینے کے لیے مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھی کردار ادا کیا۔ ایک تقریب میں اس علاقے کی ترقیاتی بنیاد رکھنے والوں میں سابق رکن پارلیمان غلام محمود بنات والا اور شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے بھی شریک رہے تھے۔
ابتدائی منصوبہ بندی کے ساتھ یہاں رہائشی عمارتیں تعمیر ہونا شروع ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ علاقہ ایک جدید شہری بستی میں تبدیل ہوگیا۔ مسجد الشمس اور دارالعلوم عزیزیہ جیسے اداروں کے قیام نے اس علاقے کو مذہبی اور تعلیمی اعتبار سے بھی اہم بنا دیا۔
سید نذر حسین کے صاحبزادے مظفر حسین نے بعد میں اسمیتا کنسٹرکشن کمپنی کی ذمہ داری سنبھالی اور شہری ترقی کے کئی منصوبوں میں سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ سیاسی میدان میں بھی متحرک رہے اور مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے رکن بننے کے ساتھ ساتھ شہر کے میئر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
آج میرا روڈ میں قدم رکھتے ہی جدید شہری زندگی کی جھلک نظر آتی ہے۔ اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی فلک بوس عمارتوں کی قطاریں دکھائی دیتی ہیں اور صاف ستھری سڑکیں اس علاقے کی منصوبہ بندی کا پتہ دیتی ہیں۔ یہاں جھوپڑپٹیوں کی تعداد نسبتاً کم ہے اور زیادہ تر آبادی رہائشی سوسائٹیوں میں مقیم ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی اس علاقے نے نمایاں ترقی کی ہے۔ نذر حسین خاندان کے زیرِ انتظام کئی اسکول اور جونیئر کالج قائم ہیں، جبکہ ایک جدید اسپتال بھی موجود ہے جو جدید طبی سہولیات فراہم کرتا ہے اور فی الحال اوکاڈر گروپ کی نگرانی میں چلایا جارہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم اکثریت کے باوجود یہاں مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ جماعتِ اسلامی ہند کی جانب سے رمضان کے دوران خصوصی مہم کے تحت اسلامی لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے جس کے ذریعے ہم وطنوں کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ قومی ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال مظفر حسین کی جانب سے قائم کردہ وہ احاطہ ہے جہاں قبرستان اور شمشان گھاٹ ایک ہی کمپاؤنڈ میں واقع ہیں اور ساتھ ہی ایک خوبصورت باغ بھی بنایا گیا ہے۔
ممبرا کوسہ: پہاڑوں کے دامن میں بسنے والا شہر
دوسری جانب ممبر ا کوسہ کی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں۔ تھانے ضلع میں واقع یہ علاقہ 1970 کے بعد تیزی سے آباد ہونا شروع ہوا۔ ابتدا میں یہاں چھوٹی چھوٹی بستیاں قائم ہوئیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ علاقہ گنجان آبادی والے شہر میں تبدیل ہوگیا۔
میرا روڈ کے مقابلے میں ممبرا کی آبادکاری اتنی منظم انداز میں نہیں ہوئی، تاہم گزشتہ برسوں میں یہاں شہری سہولیات میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ اس علاقے کو تھانے میونسپل کارپوریشن کی حدود میں شامل کیے جانے کے بعد بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ دی گئی۔
سیاسی سطح پر بھی اس علاقے کی نمائندگی نے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ خاص طور پر جب جتیندر آہواڑ یہاں سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تو انہوں نے علاقے کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے۔
ممبر ا اسٹیشن سے کوسہ اور شیل پھاٹا تک پھیلی یہ آبادی پہاڑوں کے دامن میں آباد ہے۔ قدرتی مناظر اور بلند پہاڑیوں کے درمیان بسے اس شہر کی فضا آج بھی نسبتاً پُرسکون محسوس ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں یہاں کئی تعلیمی مراکز قائم ہوئے ہیں جہاں مسلم نوجوانوں کو آئی اے ایس اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرائی جاتی ہے۔ اس طرح ممبرا آہستہ آہستہ ایک اہم تعلیمی مرکز کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔
رمضان میں زندگی کی رفتار بدل جاتی ہے
ماہِ رمضان میں ممبرا اور میرا روڈ کی فضا بالکل مختلف ہوجاتی ہے۔ مساجد میں تراویح کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں، جبکہ افطار کے وقت بازاروں میں غیرمعمولی گہماگہمی دیکھنے کو ملتی ہے۔
ممبر ا اسٹیشن پر افطار کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ ممبئی سے لوکل ٹرین کے ذریعے آنے والے روزہ دار وقت پر روزہ افطار کرسکیں۔ اسی طرح آٹورکشا یونین بھی اپنے اسٹینڈ پر افطار کا انتظام کرتی ہے جہاں ڈرائیوروں کے ساتھ مسافر بھی شریک ہوتے ہیں۔
ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی یہ علاقے نمایاں ہیں۔ ممبرا میں اردو کے کئی معروف ادیب، شعرا اور صحافی مقیم ہیں، جن میں ندیم صدیقی، عالم رضوی، عظمت اللہ صدیقی، اعجاز ہندی اور شاہد ندیم جیسے نام شامل ہیں۔ میرا روڈ میں بھی کئی ادبی شخصیات آباد ہیں اور یہاں ادبی و شعری نشستوں کا انعقاد بڑھتا جارہا ہے۔
ماضی میں معروف شاعر فضیل جعفری بھی کچھ عرصے تک میرا روڈ میں مقیم رہے تھے، جس سے اس علاقے کی ادبی شناخت کو مزید تقویت ملی۔
مستقبل کی سمت
ممبئی سے تقریباً 40 سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ علاقے گزشتہ چند دہائیوں میں حیرت انگیز رفتار سے ترقی کرچکے ہیں۔ آبادی میں اضافے کے باوجود یہاں کی قدرتی خوبصورتی اور پہاڑی مناظر اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اگرچہ کبھی کبھار سیاسی یا فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوششیں بھی ہوتی ہیں، خصوصاً بلدیاتی انتخابات کے دوران ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر اس کے باوجود ممبرا اور میرا روڈ نے اپنے کاسموپولیٹن کردار کو برقرار رکھا ہے۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ یہاں باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
رمضان کے مہینے میں جب مساجد سے اذانوں کی آوازیں گونجتی ہیں، افطار کے دسترخوان سجتے ہیں اور بازاروں میں زندگی کی نئی لہر دوڑتی ہے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ممبرا اور میرا روڈ محض مضافاتی علاقے نہیں بلکہ ایک ایسی زندہ اور متحرک شہری ثقافت کے نمائندہ ہیں جو مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔
اور شاید یہی سوال آنے والے وقت کے لیے تجسس بھی پیدا کرتا ہے:
کیا ممبرا اور میرا روڈ مستقبل میں ممبئی کے نئے سماجی اور ثقافتی مراکز کے طور پر ابھریں گے، جہاں روایت اور جدیدیت ایک ساتھ پروان چڑھتی رہیں گی؟
