اعداد: محمد وسیم راعین

حفظِ جان پانچ بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے ۔ ان بنیادی ضروریات کی حفاظت شریعت اسلامیہ کے مقاصد میں سے ہے۔ انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ کے متعدد نمونے آئے دن ہم سنتے ا ور دیکھتے رہتے ہیں۔کبھی انسان خود مختلف طریقے سے اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے اور کبھی دوسرے اس کی جان لے لیتے ہیں۔

اسلام میں جان کی بڑی اہمیت ہے اس کی حفاظت کرنا اور اسے ہلاکت سے بچانے کے سلسلہ میں شریعت کی مختلف ہدایات و تعلیمات ہیں ۔اسلامی تعلیمات کو پڑھیں اور اندازہ لگائیں کہ اسلام میں جان بچانے کی کتنی اہمیت ہے اور اسے ضائع کرنا کتنا بڑا جرم ہے:

اسلام میں جان کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے اور اسے ہلاک کرنے سے منع کیا گیاہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں:” وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا” (النساء :۲۹) ” اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقینا اللہ تعالی تم پر نہایت مہربان ہے "۔

عمدا کسی مؤمن کی جان لینے والے کےلئے سخت قسم کی وعید سنا ئی گئی ہے۔فرمان باری تعالی ہے:(وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً) (النساء: 93) ” اور جو کوئی کسی مومن کو قصدا قتل کر ڈالے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ تعالی کا غضب ہے اسے اللہ تعالی نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے”۔

شرک دنیا کا سب سے بڑا گناہ ہے ۔ ایک مسلمان کو اس کی سنگینی کا علم ہونا چاہیے ۔آپ حفظ جان کے پس منظر میں دیکھیے کہ بغیر سبب کے کسی کی جان لینے کو قرآن مجید میں شرک کے ساتھ جوڑ کر ذکر کیا گیا ہے(الفرقان :۶۸) جس سے کسی کی جان لینے کی خطرناکی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کعبہ مسلمانوں کا قبلہ اور مرکز ہے ۔ ہم اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں ۔ کعبہ کا مسلمانوں کے دل میں الگ ہی احترام ہے لیکن ایک مؤمن کی حرمت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کعبہ کودیکھ کر کہا: مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً عِنْدَ اللهِ مِنْكِ.(ترمذي وابن ماجه) ” تو کتنا عظیم ہے تو کس قدر محترم ہے (لیکن تیرے مقابلہ میں)مؤمن اللہ کے پاس زیادہ محترم ہے "۔

اسلامی تعلیمات میں جان کی بڑی اہمیت اور قدر و قیمت ہے اسی لئے بلا وجہ کسی ایک جان کی بربادی شریعت کی نگاہ میں پوری انسانیت کی بربادی کے مترادف ہے اور ایک جان کی حفاظت کرنا ، اسے زندگی دینا پوری انسانیت کو زندگی بخشنے کےبرابربتايا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :”مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا(مائدہ:۳۲) "جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کا قتل کردیا اور جو شخص کسی ایک کی جان بچالے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کردیا "۔

شریعت ہمیں بتاتی ہے کہ کسی مسلمان کے قتل کے مقابلہ میں اللہ تعالی کے نزدیک دنیا کا زوال سہل ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ»(ترمذي:1395، سنن النسائي:3987)”دنیا کا زوال اللہ تعالی کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے سے کہیں زیادہ کمتر و آسان ہے "۔

بلاوجہ کسی کی جان لینا کس قدر سنگین ہے اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ آسمان و زمین والے کسی کی قتل میں شریک ہوں تو اللہ تعالی سب کو جہنم میں ڈال دے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اشْتَرَكُوا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَكَبَّهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ»(سنن الترمذي:1398)ی”اگر آسمان اور زمین والے (سارے کے سارے ) ایک مومن کے خون میں ملوث ہوں تو اللہ تعالی ان سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا”۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن کے اختتام پہ ہیں ایک لاکھ سے زائد کا مجمع آپ کے سامنے ہے ۔ اس نازک موقع پہ جو باتیں آپ نے لوگوں تک پہنچانے کا ارادہ کیا انہیں میں سے ایک خون انسانی کی حرمت بھی ہے۔ آپ نے فرمایا:”إِنَّ دِمَاءَكَمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاَضَكُمْ عَليْكُمْ حَرَامٌ” "بے شک تمہارا خون تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو تم پہ حرام ہیں”۔

جان ضائع کرنے کی حرمت اور اس کی سنگینی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کل قیامت کے دن خون سے متعلق پہلے فیصلہ ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ»(متفق عليه) ” سب سے پہلے ( قیامت کے دن) لوگوں کے درمیان خون خرابے کے فیصلے کئے جائیں گے”۔

انسان تو انسان ایک جانور کی بلاوجہ جان لینا بھی جہنم میں جانے کا سبب ہو سکتا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ ایک بلی کے سبب ایک خاتون جہنمی ہوگئی ۔

اسی لئے کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ کاروائی کا تعلق اسلام سے نہیں ہے بلکہ شریعت ہر اس راہ سے روکتی ہے جس سے انسان کی جان جا سکتی ہے اسی لئے ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی باعث لعنت ٹھہرا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس نے اپنے بھائی کی طرف لوہے کے کسی ہتھیار سے اشارہ کیا تو اس پر فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کام کو ترک کردے چاہے وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو”۔(صحیح مسلم)

اللہ تعالی ہمیں صحیح سمجھ عطا کرے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے