حیدر آباد :13/ مئی (مشرقی آواز جدید): حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب صدر جمعیتہ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہر بندے کا اللہ رب العزت کے ساتھ محبت کا تعلق ہے، جس نے بھی کلمہ پڑھا اس کو اللہ رب العزت سے محبت ضرور ہوتی ہے، کسی کو کم کسی کو زیادہ لیکن جو کامل مومن ہوتے ہیں ان کی یہ پہچان ہے کہ کہ ایمان والوں کو اللہ تعالی سے شدید محبت ہوتی ہے ، ایمان والے اللہ سے ٹوٹ کر پیار کرتے ہیں ، دل کی گہرائیوں سے اپنے رب سے محبت کرتے ہیں اور جب محبت کے ساتھ کوئی کام کیا جائے تو پھر اس کام کے اندر لطف اور مزہ آتا ہے۔ چناں چہ حج اور عمرہ کا عمل اس کو ہمیں اللہ رب العزت کی رضا کے لئے کرنا ہے ، چناں چہ ارشاد فرمایا اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے خالصة لوجہ اللہ اپنے رب کو راضی کرنا مقصود ہو، اصل مقصد جو دل میں ہو وہ یہ کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہو جائے ۔ چناں چہ یہ جو حج کا سفر ہے یہ عشق و مستی کا سفر ہے، محبت کا سفر ہے ، جیسے کوئی محب اپنے محبوب سے ملنے جاتا ہے تو دل میں بڑی امنگیں ہوتی ہیں، آرزوئیں ہوتی ہیں ، بڑی تمنائیں ہوتی ہیں کہ اپنے محبوب سے ملوں گا ، میں ایسے بیٹھوں گا، میں یہ کروں گا، بالکل مؤمن اسی شوق اور جذبہ کے ساتھ حج کا سفر کرتا ہے چناں چہ یہ عاشقانہ سفر ہے۔ سفر حج پر آتا ہے تو تین شرطیں ہمارے اوپر ہیں ۔ فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج حج میں ایک تو رفٹ نہیں کرنا ہے۔ رفٹ کہتے ہیں یہ جو نفسانی ، شیطانی ، شہوانی محبتیں ہیں اس قسم کا بے شرمی کا کوئی عمل، غلط دیکھنا، دل میں کسی کے بارے میں غلط آرزو رکھنا اس کو رفٹ کہتے ہیں۔ فسوق کہتے ہیں خلاف شرع کام کرنا۔ مثلاً نکلے تو حج کے سفر پر اور فجر کی نماز قضا، نیند پوری ہورہی ہے، یہ فسق و فجور سے بھی بچنا ہے ، آئے ہوئے ہیں حج کے سفر پر اور کمرے میں ٹی وی پر پروگرام بھی دیکھے جارہے ہیں تو اس فسق و فجور سے بھی بچتا ہے۔ اور تیسرا کام یہ کہ آپس میں ایک دوسرے سے الجھنا بھی نہیں مثلاً میں پہلے بیٹھوں گا، اس جگہ پر بیٹھوں گا۔ اگر ان تین باتوں سے بچ گئے اور پھر ہم نے حج کیا تو حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایسے بندے کا حج ” حج مبرور ہوتا ہے اور حج مبرور جس بندے کو نصیب ہو جائے وہ حج سے واپس اس طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جس طرح اس دن پاک تھا جب اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، تو مقبول اور مبرورحج کا انسان کو اتنا زیادہ اجر ملتا ہے کہ اللہ تعالی گناہوں سے بندے کو بالکل پاک کر دیتے ہیں سرے سے اس کے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں اس لئے یہ حج مبرور ہم سب کو حاصل کرنا ہے۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ حج پہ آنے والے بندے کو ایسی باتوں میں الجھائے کہ وہ اپنے پانے والے اجر کو ضائع کر بیٹھے کسی سے تکرار ہوگی ،خواہ مخواہ کی بحث ہوگی ، اعتراض کر دیا، غیبت کر دی تو ایسے تمام کاموں سے بچنا اور نیکی کے کاموں میں لگنا، اسکو اپنے حج کو قیمتی بنانا کہتے ہیں۔ چند اعمال ایسے ہیں کہ اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ (۱) سب سے پہلے تو ہم استغفار کی کثرت کریں۔ استغفار کے اتنے فائدے ہیں کہ ہماری سوچ سے بھی زیادہ، چناں چہ اپنی کوتاہیوں، سستی اور غفلتوں پر نادم ہو کر معافی چاہنا اس کو استغفار کہتے ہیں۔ (۲) دوسرا عمل صبر کرنا کسی کو اللہ دے کر آزماتا ہے کسی سے اللہ تعالیٰ لے کے آزماتا ہے، یہ دونوں طرح کی آزمائش ہے، اگر ذراسی بات پہ ہم بے صبری کا مظاہر ہ کر دیتے ہیں تو اس کا مطلب کہ ہم نے جواب غلط لکھا۔ صبر کہتے ہیں رد عمل میں تحمل کر لینا، اپنے آپ کو روک لینا فوری رد عمل ظاہر نہ کرتا، بلکہ سوچ سمجھ کر شریعت کے مطابق آگے عمل کرنا اس کو صبر کہتے ہیں ۔ اب حج کے سفر میں کیا ہم صبر کرتے ہیں؟ کھانے پہ جھگڑا گرم نہیں ملا سیٹ پر جھگڑا مجھے یہاں بیٹھنا تھا آپ کیوں بیٹھ گئے معمولی باتوں پہ جھگڑا ایسے لگتا ہے کہ صبر نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں، الجھتے ہی پھرتے ہیں۔ ہمارے اکا بر کتی مشقتیں اٹھا کر یہاں تشریف لاتے تھے، ہم کبھی غور کریں تو حیران رہ جائیں۔ (۳) تیسرا جب کوئی اپنی مرضی منشاء کے مطابق ہوتو اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کریں شکر ادا کرنے سے اللہ رب العزت انسان کے اوپر سے عذاب نال دیتے ہیں۔ شکر ادا کرنے کے دوطریقے ہیں۔ (۱) ایک زبان سے اداکرنا۔ (۲) دوسر عمل سے ادا کرنا۔ تو زبان سے ادا کرنے کے لئے الحمدللہ ہے، جس نے الحمد للہ کہہ دی اس نے اللہ تعالی کا شکرادا کر دیا، اور اللہ تعالی بندے کو کسی نہ کسی طرح کوئی نہ کوئی یہ موقع عطاء کرتے ہیں کہ شکر ادا کرنے والے بندے پر میری نعمتیں اور زیادہ ہوں گی۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے