بیدر۔ 12؍مئی (پریس نوٹ): بیدر کی سرگرم اور فعال ادبی تنظیم یارانِ ادب بیدر نے ان مصنفین کومبارک باد پیش کی ہے جن کے مسودات برائے سال 2024-25کو کرناٹک اردو اکادمی نے اشاعت کے لئے منظوری دی ہے۔ باوثوق اطلاع کے مطابق بیدر کی ملک گیرشہرت یافتہ افسانہ نگار محترمہ رخسانہ نازنین کے افسانوں کامسودہ ’’جینے کے لئے ‘‘ ، جناب محمدیوسف رحیم بیدری کے افسانچوں کامسودہ ’’کنکر‘‘ مولوی محمد عبدالصمد بھارتی ؔکی انسائیکلوپیڈیا بنام ’’لغت تاریخ ِ ہند‘‘، ڈاکٹر محمد منہاج الدین کامسودہ ’’دکن کے تین رتن‘‘، محمد قاسم کلیانوی کاشعری مسودہ ’’سرِ محفل‘‘ ، اشاعت کے لئے منتخب کئے جانے پر مبارک باد پیش کی ہے۔ اسی طرح گلبرگہ شریف سے ڈاکٹر غضنفر اقبال کامسودہ زیرعنوان ’’باتیں تو ہوں ‘‘، ڈاکٹر مکشف جہاں گلبرگہ کا ’’کشتِ ویران‘‘ ، محمد مبین الرحمن گلبرگہ کا ’’باغِ حیات ‘‘ ، منظور وقار کامسودہ ’’پڑھنا منع ہے ‘‘ ، یادگیر کے سید ساجد حیات کا مسودہ ’’باتیں کرکٹ کی‘‘ ، اورمبین احمد زخم ؔ کا ’’یادبہت آؤگے ‘‘، شیموگہ سے جناب آفاق عالم صدیقی کا مسودہ ’’کرناٹک میں اردو ادبِ اطفال‘‘،بنگلور کے ڈاکٹر ARعبدالحمید صاحب کی ’’ریاست کرناٹک کی ادبی تاریخ میں عوامی اردو ادب اور عوامی گیتوں کی اہمیت‘‘ ، ندیم فاروقی بنگلور کامسودہ ’’گہرائیاں احساس کی‘‘، ایم ایم ترسگار یٰسین راہی بیلگام کا’’قندیل ِ سخن‘‘کوکرناٹک اردواکادمی نے اشاعت کے لئے منتخب کرلیاہے الحمد للہ۔اس انتخاب پر یارانِ ادب بیدر مذکورہ تمام مصنفین اور دیگر منتخب مصنفین کوبھی مبارک باد پیش کرتاہے۔آگے کہا کہ کرناٹک اردو اکادمی گزشتہ پانچ سال سے زائد عرصے سے پوری طرح فعال نہیں تھی۔ جناب قاضی محمد علی مصباحی چیرمین کرناٹک اردو اکادمی کے انتخاب کے بعدان ہی کی صدارت میںکرناتک اردو اکادمی پوری طرح فعال ہوچکی ہے۔ قاضی صاحب کی کارکردگی لائق ستائش ہے۔ اس بات کی اطلاع یارانِ ادب کے خازن جناب عظیم بادشاہ بھالکی نے ایک پریس نوٹ کے ذریعہ دی ہے۔

