محمد عبد اللہ جاوید
اقامت دین کی راہ کے مسافرکے لئے شرحِ صدر کی دعا‘لازمی زادِ راہ ہے۔ یہ دعا محض الفاظ نہیں بلکہقلبی کشادگی‘ ذہنی وسعت اور روح کا اطمینان ہے۔ شرحِ صدر وہ نور ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔ وہ سکون ہے جو ہنگامۂ حیات میں صبر و ثبات عطا کرتا ہے اور وہ کشادگی بخشتا ہے جو ہر بھاری ذمہ داری کو محبوب بنا دیتی ہے۔ یہی وہ شرحِصدر ہے جس کے لیے اللہ کے برگزیدہ بندوں نے دعائیں مانگیں ‘ جس کے بغیر نہ دعوت مکمل ہوتی ہے اور نہ ہی تربیتنفس۔
شرحِ صدر کا مطلب ہے: دل و دماغ کا کھل جانا‘ ذہنی الجھنوں اور شک و شبہات کا رفع ہوجانا اور حق کا مکمل فہم وشعور حاصل ہوجانا۔ ایک داعی جب راہ حق میںجدوجہد کرتا ہے تو سب سے پہلی ضرورت یہی ہوتی ہے کہ اس کویہ گہرا یقین حاصل ہو کہ:
- اسلام ہی واحد نجات کا راستہ ہے۔
- اس کے عقائد، اقدار اور احکام کامل اور برحق ہیں۔
- بڑے سے بڑے چیلنج کا سامنا عزم و حوصلے کے ساتھ کرنا ہےاور کسی مشکل کو خاطر میں نہیں لانا ہے۔
یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کو شرح صدر کی دولت سے فیض یاب فرمائے توپھر:
- اس کا سینہ علم وحکمت سے مزین ہوجاتا ہے۔
- دعوتِ دینکا فہم حاصل ہوجاتا ہے۔
- حق کو بلاکم وکاست انسانوں تک پہنچانے کی تمنا دل میں جاگزیں ہوجاتی ہے۔
ایسےشخص کا دل، دنیوی فکرسے بے نیاز، فکر آخرت پر مرکوز رہتا ہے۔ نہ اسے مالی نقصان کا خوف ہوتا ہے اور نہ اہل و عیال کی فکریں دامن گیر ہوتیں ہیں۔ نہ مخالفین کے طعن و تشنیع ہی اس کو متاثر کرپاتی ہیں اور نہ ہی دشمنوں کی دھمکیاں اس کے عزم میں لغزش پیدا کر سکتی ہیں۔
شرحِ صدر محض ذہنی وقلبی سعت کا نام نہیں بلکہ یہ تربیتِ نفس کا نکتہ عروج ہے، جس کے ساتھ:
- مشقتیں ہلکی محسوس ہونے لگتی ہیں۔
- فقر میں بھی دل بے نیازہتا ہے۔
- اور مشکلات میں بھی اطمینان قائم رہتا ہے۔
یہی شرحِ صدر ہے‘یہی داعی کی اصل قوت ہے اور صبر و استقلال کے ساتھ کی جانے والی جدوجہد کی روح بھی۔
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي، وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي
"اے میرے رب! میرا سینہ کشادہ فرما اور میرے کام کو آسان بنا۔”
یہ دعا راہِ حق کی ہمسفرر ہے تاکہ یہ سفر ایسا فریضہ لگے جو دل کی چاہت بھی ہواور روح کی طلب بھی۔اس راہ کی عائد کردہ ذمہ داریا ں دل پر بوجھ نہیں بلکہ وہ اعزاز بن جائیں جنہیں سینے سے لگانا باعثِ سعادت محسوس ہو۔
