اردو زبان تہذیب، شائستگی اور رواداری کی علامت ہے: سلمان کبیرنگری

پکھرایاں، کانپور(پریس نیوز): اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے گزشتہ روز مدرسہ عربیہ مدینتہ العلوم پکھرایاں میں ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا، جو سہ ماہی مجلہ نئی روشنی (سنت کبیر نگر) کے مدیر اور ممتاز اردو ادیب سلمان کبیرنگری کے اعزاز میں منعقد ہوئی۔

اس پُرمغز نشست میں مقامی اساتذہ، اہلِ قلم، طلبہ، اور زبان و ادب سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

نشست کی صدارت کرتے ہوئے سلمان کبیرنگری نے کہا کہ اردو زبان نہ کسی مذہب کی میراث ہے اور نہ کسی خاص قوم کی، بلکہ یہ ہندوستانی گلی کوچوں، بازاروں، محفلوں میں بولی جانے والی اور دلوں میں رچی بسی ایک زندہ روایت ہے۔
اردو زبان اپنی خوبصورتی میں بے مثال ہے ملک ہندوستان کی عظمت رفتہ کی تاریخ اردو زبان و ادب سے عبارت ہے ،اس زبان کو بلا تفریق ومذہب وملت سبھی میں مقبولیت حاصل رہی ،کتنے ادباء اور شعراء اس میدان میں آئے جنہوں نے اس زبان کو فروغ دیا اور پورے ملک کو اس زبان کی چاشنی عطاء کی۔

سلمان کبیرنگری نے اس موقع پر اردو کے موجودہ منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو اب محض ایک لسانی وسیلہ نہیں، بلکہ ایک مکمل تہذیبی علامت بن چکی ہے۔ یہ زبان محبت، رواداری، شائستگی اور باہمی احترام کا درس دیتی ہے۔ دنیا کی مختلف زبانوں کے خوبصورت الفاظ اور تاثرات کو اردو نے اپنے دامن میں سمو کر ایک نرالی شان پیدا کی ہے۔

انہوں نے اردو کے فروغ کے لیے چند عملی تجاویز بھی پیش کیں:

شادی کارڈز، بینرز اور پوسٹرز اردو میں بھی شائع کیے جائیں۔

اسکولوں، کالجوں اور مقامی سطح پر مشاعرے، سیمینار، بیت بازی، خوشخطی اور ادبی نشستوں کا اہتمام ہو۔
اردو اخبارات و رسائل گھروں میں لائے جائیں تاکہ نئی نسل اردو زبان سے جڑی رہے
انہوں نے کہا کہ اردو زبان سے جڑے رہنا ہم سب کی تہذیبی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں اردو کا استعمال بڑھائیں، کتابیں پڑھیں، اور اپنی زبان کے تحفظ و ترویج میں کردار ادا کریں۔
نشست کے اختتام پر انہوں نے کہا:
یہ نشست اردو زبان سے جڑے جذبات اور عزم کی ایک خوبصورت مثال بنی، جس نے حاضرین کو اردو کے مستقبل کے لیے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا امید ہے کہ نسل نو اس جانب توجہ مبذول کرےگی اور اردو کی بقاء اور اشاعت کے لئے ہر ممکن ساعی رہے گی ۔
ناظم مدرسہ مولانا عبدالماجد قاسمی نے اردو کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں کر رہے کام کے لیے محترم سلمان کبیر نگری صاحب کی پذیرائی کی اور ان کی خدمات کو سراہا انہوں نے کہا کہ اردو زبان اسی ملک میں وجود میں آئی ایک عرصے تک ملکی سطح پر اردو کا بول بالا رہا اس زبان کے اندر ایک تہذیب اور رواداری مضمر ہے اور یہ اپنے اندر بے مثال خوبصورتی اور جاذبیت رکھتی ہے جس سے کوئی بھی شہری اور کسی بھی مذہب کا ماننے والا کنارہ کشی نہیں کر سکتا ہمیں اردو زبان کو پورے ملک میں باقی رکھنے کے لیے ہر طرح کی کوششیں کرنی چاہیے تاکہ وقت کے ساتھ اس خوبصورت زبان کی چمک ماند نہ پڑ جائے۔
اس موقع پر مفتی محمد شاہد قاسمی ،حافظ سیف الاسلام مدنی، مولانا عبدالواجد قاسمی مولانا خالد قاسمی ،حافظ محمد احسان الحق صاحب مولانا فضل رب قاسمی خاص طور سے شریک رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے