وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے، ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
سہارنپور( احمدِ رضا): السلام ہمیشہ قائم و دائم رہنے والا سچّا دین دین اسلام کی تعلیمات سبھی علوم پر غالب رہنے والی تعلیم ہے یہی وجہ ہے کہ ازل سے کل کائنات میں اللہ رب العزت کا ہی نظم و نسق قائم ہے جو تا قیامت یوں ہی چلتا رہیگا! امام و خطیب عالم دین قاری زبیر احمد نے کل دیر رات مسجد ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں حالات حاضرہ پر مختصر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ دین اسلام سے دوری ملت اسلامیہ کی تنزلی کی بڑی وجہ ہے جب جب ہم اللہ تعالیٰ اور اللہ کے پاک رسول محمد صل اللہ علیہ وسلم کی رحمت کے دائرے اور اطاعت سے دور ہوئے تبھی ہم مصائب اور دشواریوں کا شکار بنے دین اسلام جھوٹ غیبت تشدد بد گما نی حسد لالچ تکبّر اور برائی و بے حیائی والے کاموں سے بچتے ہوئے زندگی گزارنے کا حکم دیتا ہے منافقوں اور بد کردار لوگوں کے لئے اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے ازل سے ہی السلام سچّائی اور مساوات کا درس دیتا آیا ہے بیشک دین اسلام ہی حق ہے اور ہم سب قرآن مجید کے اصل پیرو کار ہیں لازم ہے کہ ظلم اور ظالم کے سامنے حق بات کہنے سے منکر مت ہو نا سب سے بڑا حاکم رب العالمین سب دیکھ رہا ہے اور سن رہا ہے! امام وخطیب قاری محمد زبیر نے کہا کہ اسلام واحد دین ہے جو انسانوں کو حقیقی آزادی عطا کرتا ہے وہ اس پر خیر و شر کے راستے واضح کرنے کے بعد یہ اختیار دیتا ہے کہ جس راستے کو اپنے لیے مناسب سمجھے قبول کرلے۔اسلام ہی وہ دین ہے جس نے شورائیت کا تعارف پیش کیا اور پیغمبر کو ہدایت کی کہ مسلمانوں کے معاملات با ہمی مشاورت سے انجام دیے جائیں ا س ضمن میں نبی اکرم ﷺ نے مشورے کے آداب اور اس کی قانونی حیثیت سے آگاہ کیا۔ایک قدم آگے بڑھ کر اسلام نے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کو عبادت قرار دیا۔ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کو افضل جہاد سے تعبیر کیا۔اسی کے ساتھ عملاً ایک ایسی سوسائٹی قائم کی جس میں لوگ آزادانہ اپنی رائے کا اظہار کرسکتے تھے۔ایک دوسرے سے سوال کرسکتے تھے۔یہاں تک امرائے سلطنت اور ریاست کے امیر المومنین سے باز پرس کا بھی حق رکھتے تھے۔حضرت عمر ؓ سے جلیل القدر صحابی سے ایک کمزور عورت سوال جواب کرسکتی تھی،نہ اسے ریاست کی طرف سے کسی ایذا رسانی کا خوف تھا اور نہ امیر المومنین کے حاشیہ برداروں کی جانب سے۔یہ مسلمانوں کا زریں اور سنہرا دور تھا۔مسلمان ہر طرف فتح کا علم لہرا رہے تھے۔دنیا جوق در جوق انسانوں کی غلامی سے کنارہ کشی کرکے ایک اللہ کی غلامی اختیار کررہی تھی،الٰہ واحد کی غلامی نے دنیا کو ہزاروں خداؤں کی غلامی سے نجات دے کر حقیقی آزادی سے روشناس کردیا تھ *وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات*۔ اسلامی دنیاکے برعکس ہر طرف غلامی تھی۔انسان برائے خریدو فروخت میسر تھے،ان کی منڈیا تھیں،انھیں بولنے اور لب کھولنے کی اجازت نہ تھی،کسی نے حاکم وقت کے خلاف لب کشائی کی جرأت کی تو اسے ایسی اذیت ناک سزا دی جاتی تھی کہ باقی لوگ چپ رہ کر ظلم برداشت کرنے میں عافیت سمجھتے تھے۔اقتدار وقت کے سامنے کھڑے ہونا،ناقابل معافی جرم تھا۔انسانوں کے بالمقابل جانوروں کے حقوق زیادہ تھے۔انھیں کم از کم ان کی پسند کا چار بات اسلامی دنیاکے برعکس ہر طرف غلامی تھی۔انسان برائے خریدو فروخت میسر تھے،ان کی منڈیا تھیں،انھیں بولنے اور لب کھولنے کی اجازت نہ تھی،کسی نے حاکم وقت کے خلاف لب کشائی کی جرأت کی تو اسے ایسی اذیت ناک سزا دی جاتی تھی کہ باقی لوگ چپ رہ کر ظلم برداشت کرنے میں عافیت سمجھتے تھے۔اقتدار وقت کے سامنے کھڑے ہونا،ناقابل معافی جرم تھا۔انسانوں کے بالمقابل جانوروں کے حقوق زیادہ تھے۔انھیں کم از کم ان کی پسند کا چارہ تو میسر تھا۔ل یکن جب سے مسلمان غلام ہوئے ان کے اندر پست ہمتی اور بزدلی نے بسیرا کرلیا یا یوں کہیے کہ جب سے انھوں نے حق گوئی اور صاف گوئی کو ترک کردیا اور انھوں نے اپنے حکمرانوں،رہنماؤں،مرشدوں،ائمہ و علماء سے سوال کرنا بند کردیا،ظلم پر خاموشی اختیار لی وہ غلام ہوگئےآج مسلم معاشرے کے اندر یہ خامیاں عام ہیں۔
