میر بیدری ، بیدر،کرناٹک

دِل کو مل جائے کوئی نجیب
مردِ خالص ،کھرا اور لبیب

بانٹ بندرسی کرتے ملے
کوئی مانے گا اِن کو ادیب

دھوکا اس سے ہی ملتا گیا
مان لیتاہوں جس کو حبیب

باپ کے دنیا سے جانے بعد
بھائی ہوتاہے دل کے قریب

لیڈری اُس کوبھی کرنی ہے
مل گیاہوگا کوئی غریب

دیر ہوجائے گی رات میر
تاکہ کھل جائے اپنانصیب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے