فیاض قریشی
فلم "سرحد کا سپاہی” نمائش کے لئے کیا پیش ہوئی سارے ملک میں ساون کپور کے نام کی دھوم مچ گئی ۔ بچے بچے کی زبان پر اس کا نام چڑھ گیا ۔ فلمی حلقوں میں ہر طرف اس کے چرچے ہونے لگے اور وہ ہاتھوں ہاتھ لیا جانے لگا۔ شہرت کا ایک طرف یہ عالم تھا تو دوسری طرف اس کی مارکٹ کہیں سے کہیں پہنچ گئی تھی۔ اس کے عالیشان بنگلے پر پر ڈیو سٹروں کا انتظار روز کا تماشہ تھا ۔ جہاں فلم انڈسٹری کی ہر بڑی ہیروئن کی یہ خواہش تھی کہ ساون کپور کے ساتھ کام کرے وہیں کئی ایک نئی ہیروئینیں جو فلم انڈسٹری میں قدم جما نہ سکی تھیں نے پروڈیوسروں سے ساون کپور کے ساتھ بلا معاوضہ کام کرنے کی پیش کش کر دی ۔ اور ادھر ساون کپور تھا کہ پر ڈیو سروں سے اپناہرمطالبہ منوار ہا تھا اور فلم کے ہر شعبہ میں اپنی مرضی ٹھونس رہا تھا ۔
فلم” سرحد کا سپاہیـ” کی کہانی کوئی خاص نہیں تھی۔ مگر فلم میں ساون کپور کی اداکاری عروج پر تھی ۔ فلم کے دو منظروں میں تو اس نے غضب کا کام کیا تھا ،حقیقت میں یہی دو منظر فلم کی جان تھے۔ یہ دونوں منظر اس حد تک خطر ناک تھے کہ ساون کپور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو دیتا اگرفلما تے وقت اس سے تھوڑی بھی چوک ہو جاتی ۔ پہلا خطرناک منظر جو انٹرول سے پیشتر بیس منٹ کا ہے کچھ اس طرح ہے ۔
ملک کے کچھ اہم راز ملک کے دشمنوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور وہ پوری تیزی کے ساتھ سرحد کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں کہ ساون کپور کو اس کی خبر ہو جاتی ہے اور وہ کوئی بھی لمحہ ضائع کئے بغیر موٹر سائکل پر ان کا پیچھا شروع کر دیتا ہے ۔ راستہ بالکل نا ہموار جا بجا کھڈوں سے بھرا ہوا مگر وہ ہے کہ پوری تیزی اور مستعدی کے ساتھ برابر دشمنوں کا پیچھا کر تا جا رہا ہے ۔ پیچھا کرتے ہوئے اس نے تو ایک جگہ غضب کی اداکاری کر دکھائی وہ یہ کہ ایک بہت بڑی کھائی جو اس کے اور اس کے دشمنوں کے درمیان آجاتی ہے ایک ہی جھٹکے کے ساتھ اُس کھائی کو اس طرح پار کر دیتا ہے جس طرح زمین پر چلتا ہو اشتر مرغ یکا یک اڑ کر زمین کے دوسرے سرے پر پہنچ جاتا ہے ۔ غفلت کا ایک لمحہ بھی ساون کپور کو ہزاروں فٹ کی بلندی سے گرا کر اس کی ہڈیوں کا سرما بنا کر رکھ دیتا۔ مگر یہ جانفشانی بیکار ہوئی ۔ دشمن اسے چکمہ دے کر ایک گھنے جنگل کی طرف مڑ جاتے ہیں ۔ مگر وہ چکموں میں کہاں آنے والا تھا وہ بھی جنگل کی طرف مڑ جاتا ہے اور دشمنوں کے قریب پہنچنے میں تھوڑا ہی فاصلہ باقی رہتا ہے کہ سارا جنگل بھیانک آگ کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں اور اب ساون کپور کو سوائے اس کے کوئی اور چارہ نہیں رہتا کہ شعلوں میں کود پڑے ۔ وہ کود پڑتا ہے ۔ مگر دشمن فوراً فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود ساون کپور برابر آگے بڑھتا رہتا ہے مگر بے سود اور جیسے ہی اس نے جنگل کی حد پار کی دیکھا کہ دشمن پہلے ہی سے تیار کھڑی ہوئی کشتی میں سوار ہو چکے ہیں اور یہاں فلم بین دم بخود رہ جاتا ہے ۔ ہزاروں فیٹ کی بلندی سے وہ سمندر میں چھلانگ لگا دیتا ہے اور دشمنوں کو آدبو چتا ہے اور کشتی کے اندر زبر دست معرکہ آرائی کے بعد وہ پانچوں دشمنوں کو ختم کر دیتا ہے اور لاشیں سمندر میں ڈوب رہی ہوتی ہیں کہ وہ ملک کے راز کے ساتھ فلم کی ہیروین جسے اغوا کر کے دشمن اپنے ساتھ لے جا رہے تھے اپنے ساتھ لئے نغموں کے درمیان ہیڈ کوارٹرس پہنچتا ہے ۔ فلم بین کے دلوں کو موہ لینے کے لئے یہ منظرہی کیا کم تھا کہ دوسرا منظر جو پورے پچیس منٹ کا ہے اور جو فلم کے اختتام پر ختم ہوتا ہے خطرناکیوں کے اعتبار سے پہلے منظر کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے ۔ وہ منظر کچھ اس طرح ہے ۔ ملک میں امن کا زمانہ ہے اور ساون کپور سرحد پر اپنی چوکی میں آرام کر رہا ہوتا ہے کہ اچانک فائرنگ اور بم پھٹنے کی آواز سن کے با ہر نکلتا ہے اور حیران رہ جاتا ہے جب دیکھتا ہے کہ اس کے پورے دس ساتھی تھوڑے فاصلے پر ڈھیر ہو چکے ہیں اور دشمن ملک کے سپاہی زبر دست گولہ بارود اور فائرنگ کے درمیان آگے بڑھ رہے ہیں۔ حملہ اچانک ہوا تھا۔ کبھی کبھی بہادرفوج کو بھی اپنی تمام ترجنگی صلاحیتوں کے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے ۔ مگر ساون کپور تو ہیرو ہے وہ کیسے پیچھے ہٹتا ۔ فوراً اس نے وائرلس کے ذریعہ اچانک حملے کی خبرہیڈ کوارٹرس کو دے دی۔دشمن اپنی کامرانی میں مست گولہ بارود کے درمیان آگے بڑھ ر ہے ہوتے ہیں کہ پیچھے کی جانب سے وہ سینکڑوں فیٹ اونچی گھاٹی پر سے ٹھیک دشمن کی ٹینک میں کو د پڑتا ہے اور آن واحد میں دو لاشوں کو باہر پھینکتا ہوا دشمن پر حملہ کر دیتا ہے ۔ دشمن پیچھے کی جانب سے اچانک حملہ کے لئے بالکل بھی تیار نہیں تھے ۔ وہ بدحواس ہو اٹھتے ہیں اور ساون کپور ان پر ٹوٹ کر حملے کرنے لگا ہے ۔ جنگ کا محاذ پھیلتا جا رہا ہے ۔ دشمن برا بر پسپا ہو رہے ہیں ۔ اور وہ برابر آگے بڑھ رہا ہے ۔ مگر یکا یک کایا پلٹ ہو جاتی ہے۔ ساون کپور چاروں طرف سے دشمنوں میں گھر جاتا ہے ۔ کئی بم ایک ساتھ ٹینک پر پڑتے ہیں ۔ ٹینک شعلے اگلنے لگتا ہے ۔ اس کے پر خچے اڑ جاتے ہیں اور فلم بین کی نظرمیں طوفان خیز غبار۔بم پھٹنے کی آواز اور فائرنگ کے درمیان ساون کپور کو تلاش کرنے لگتی ہیں کہ ٹینک سے کچھ فاصلہ پر وہ ہاتھ میں مشین گن لئے ہوئے بے تحا شا فائر کرتا ہوا نظر آتا ہے اور ٹھیک اسی وقت اس کی مدد کے لئے فوج آ پہنچتی ہے ۔
ان دونوں منظروں کے شاٹ ساون کپور نے اس کامیابی کے ساتھ دئے تھے کہ ان پر نقلی ہونے کا کہیں بھی گمان نہیں گذرتا تھا ۔ اور جب ساون کپور اخباروں میں پڑھتا کہ آمدنی کے اعتبار سے فلم” سرحد کا سپاہی” سابق فلموں کے سارے ریکارڈ س تو ڑ چکی ہے تو اس کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہ ہوتا تھا ۔ "سرحد کا سپا ھی” چھٹوین مہینے میں پہنچ چکی تھی۔ مگر ٹکٹ نہ ملنے پر مایوس فلم بین نے تھیٹر پر پتھراؤ کر دیا اور جب یہ خبریں ساون کپور تک پہنچتی تو اس کا سینہ فخر اور خوشی سے پھول جاتا تھا ۔
اپنے شایقین کو قریب سے دیکھنے اور ان میں تھوڑا وقت گزارنے کے لئے کس کا جی نہیں چاہتا ۔ ساون کپور ہیرو ہوا تو کیا ہوا آخر تھا تو انسان ہی ۔ اس نے ایک دن اپنے چاہنے والوں کے درمیان بیٹھ کر” سرحد کا سپاہی” دیکھنے کی ٹھانی معمولی سے میک اپ کے ساتھ آنکھوں پر کالے شیشہ کا چشمہ چڑھائے وہ جہاں "سرحد کاسپاھی” اٹھارویں ہو ز فل ہفتہ میں جہاں چل رہی تھی وہاں پہنچا ۔ کچھ ہی دیر میں فلم شروع ہوئی اور جیسے ہی جلی حرفوں میں ساون کپور کے نام کے ساتھ اس کو ندی کے اندر تیز رفتاری کے ساتھ گھوڑا دوڑاتے ہوئے دکھایا گیا تو تھیٹر کے اندر چنچوں تالیوں اور سیٹیوں کے علاوہ کچھ نہ سنائی دے رہا تھا۔ کئی منچلے تو باقاعدہ کرسیوں پر ناچ رہے تھے اور کئی فلم کے پردے پر پیسے پھینک رہے تھے ۔ اور تھیٹر کے اندر کا منظر ساون کپور کو بے خود کئے دے رہا تھا۔ اس کا انگ انگ خوشی سے تھرک رہا تھا۔ شور کچھ کم ہوا اور اسے صاف سنائی دیا ۔
"دیکھ لیا نا رتنا ساون کپور عوام میں کتنا مقبول ہے ۔ ”
"مقبولیت تو میں نے دیکھ لی اب ذرا اس کی اداکاری بھی تو دیکھیں ۔ "جواب میں ایک آواز آئی ۔
"اس کی اداکاری کی بات ہی کیا ہے ۔ شاید ہی ہماری فلم انڈسٹری میں اس کی ٹکرکا کوئی اداکار ہوگا ۔ غضب کا اداکار ہے ساون کپور تو”
ـ”اچھا شیلا فلم شروع ہو چکی ہے ، اب تیرے پسندیدہ ہیرو کی اداکاری بھی دیکھ لیتے ہیں ۔”
مگر شیلا چپ کہاں بیٹھنے والی تھی ۔ ساون کپور کی ہر ادا پر جان چھڑک رہی تھی۔ اور ادھر ساون کپور کا سانس پھول رہا تھا اور آنکھیں چمک رہی تھیں۔
فلم شروع ہوئے کوئی ایک گھنٹہ بعد وہ ہوش ربا منظر آگیا جس کا فلم بین بیچینی سے انتظار کر رہے تھے۔ پھر ایک بار تھیٹر چیخ و پکار، تالیوں اور سیٹیوں کے غل سے گونج اٹھا ۔ منظر اختتام کو پہنچ رہا تھا کہ ساون کپور نے شیلا کو کہتے ہوئے سنا ۔
ـ”اب تو ہی بتا رتنا کہ کیا ہماری فلم انڈسٹری کا کوئی ہیرو اس خطرناک حد تک اداکاری کر سکتا ہے ۔ جان پر کھیل گیا ساون کپور تو ” ابھی شیلا کچھ کہنا ہی چاہتی تھی کہ رتنا نے کہا ۔
"تو تو بالکل بدھو ہے شیلا ۔ فلموں کے بارے میں تجھے کچھ بھی جانکاری نہیں ـ”
رتنا کے اس جواب پر شیلا کے ساتھ ساون کپور بھی چونک پڑا ۔
” بھلا میں کیوں بدھو ہونے لگی ۔”
ــ”اس لئے کہ فلم میں ساون کپور کی اداکاری کچھ بھی نہیں ہے اور تُو اُسے آسمان پر بٹھا رہی ہے ۔”
"یہ کیا کہہ رہی ہے تو؟” حیرت کے ساتھ شیلا نے پوچھا۔
"میں ٹھیک کہہ رہی ہوں ۔ فلم میں اب تک ساون کپور نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ اُچھل کود اور ہیروئن کو چومنے اور لپٹانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔ اور وہ خطرناک منظر جس کی تعریف کرتے ہوئے تیری زبان نہیں سوکھتی اس منظر کے شاٹ ساون کپور نے نہیں بلکہ اس کے ڈبل نے دیا ہے ۔”
” ارے یہ ڈبل کیا بلا ہے ؟ ”
ـ”ڈبل ہیرو کا ڈوپلیکیٹ ہوتا ہے ۔”
شیلا کے پلے کچھ نہ پڑا ۔
ـ”ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ ”
ـ”پگلی ایسا ہی ہوتا ہے فلم کے ہیروبھی کوئی ہیرو ہیں۔ ان میں اتنی ہمت کہاں کہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالیں ۔ یہ تو بیچارے ڈبل ہیں جو اپنی جان پر کھیل کر شاٹ دیتے ہیں اورہیرہ کو امرکر دیتے ہیں ۔ اور ہیرو اپنے ڈبل کی بے جگری پر اپنی شہرت کی عمارت کھڑا کر لیتا ہے ۔ مگر شاٹ دیتے وقت اپنے ڈبل پر کیا گذر ی اس کا احساس اس کو کبھی نہیں ہوتا۔ اب یہی دیکھ کہ ساون کپور کو فلم کے پردے پر ایک سچا دیش بھگت ۔ غریبوں کا ہمدرد ، سچائی پر قربان ہونے والا انسان اور جانے کیا کیا بنا کر دکھایا گیا ہے ۔ مگر اصل زندگی میں اس کا کر دار کتنا گھناؤنا ہے کہ سنتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ۔ شاید تو نہیں جانتی کہ فلم ” سرحد کا سپاہی ــ”کے خطر ناک شاٹ دیتے وقت ساون کپور کا ڈبل اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ اور جب ساون کپور کو اس کی خبر ملی تواس نے کیا کہا ؟ ”
ـ”کیا کہا اُس نے ؟ ”
ــ”میں نے سنا ہے کہ ساون کپور جو شراب میں ڈوبا ہوا تھا کہاـ”اگر سردار مرگیا ہے تو میں کیا کروں ۔ جاؤ دوسرا ڈبل تلاش کرو۔”
اور رتنا کہہ رہی تھی۔” آج ساون کپور فلم انڈسٹری میں ہی کیا ہر جگہ عظیم ستارہ اداکاروں کا شہنشاہ جیسے خطابات سے نوازا جا رہاہے اور بیچارہ ڈبل جس نے اپنی زندگی دے کر ساون کپور کو شہرت عزت اور دولت بخشی اس کے بیوی بچے فاقے اٹھارہے ہیںاور گلیوںمیں بھیک مانگتے پھر رہے ہیں ۔”
ابھی ر تنا جانے کیا کہنے والی تھی کہ بے اختیار شیلا کی زبان سے نکلا۔
"اگر ایسی بات ہے تو میں کہوں گی ، اول درجہ کا کمینہ ہے یہ ساون کپور تو۔ پھر کہا۔” اپنے ڈبل کی موت کے بعدکمبخت کم از کم اس کے بیوی بچوں کا سہارا تو بن جاتا بھگوان نے کیا کم کیا ہے اسے”
ابھی شیلا کچھ رہی تھی کہ انٹرول کا وقفہ ہو گیا ۔
انٹرول ہوئے کوئی دس منٹ بعد فلم شروع ہوگئی اور کوئی آدھ گھنٹہ بعد اچانک شیلا نے کہا ۔
"رتنا فلم شروع ہوئے اتنی دیر ہو گئی مگر میری کرسی سے لگی کرسی پر جو آدمی بیٹھاتھا وہ ابھی تک نہیں آیا ۔”
ـ”شاید وہ کوئی حقیقت پسند انسان ہو گا اور اسے اس بے تکی فلم میں کوئی لطف نہیں آیا ہو گا ؟”
اور پھر دونوں سہیلیاں فلم دیکھنے میں مصروف ہو گئیں۔
دوسرے دن اخباروں میں ساون کپور نہ صرف انڈسٹری کا جگمگاتا ہواعظیم ستارہ تھا بلکہ ایک عظیم انسان بھی تھا ۔ ملک کے ہر چھوٹے بڑے اخبار نے جلی حروفوں میں اس کی تعریف کے پل باندھے تھے اور اسے سر ہا رہے تھے ۔
"ساون کپور نے اپنے ڈبل کے پس ماندگان کو پانچ لاکھ روپے دئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Fayaz Quraishy
No. 442, 7th Cross
2nd Block, R. T. Nagar, Bangalore-32
