بیدر۔ 26؍مئی (محمدیوسف رحیم بیدری): ہندوستانی ریل دراصل غریبوں کیلئے وہ سہارا ہے جس کی تعریف جتنی کی جائے کم ہے۔ کہاجاتاہے کہ ریلوے محکمہ اپنے ملازمین کو اچھی اورپرکشش تنخواہیں دیاکرتاہے۔اس کی تعریف لوگ کیاکرتے ہیں اور جو لوگ تنخواہوں سے متعلق جانتے ہیں وہ اپنے بچوں کوریلوے میں بھیجنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن آج ہم یہ کہناچاہ رہے ہیں کہ ٹرین کا انتظار کرنے کے لئے مسافروں کوریلوے اسٹیشن میں جگہ ہوتی ہی نہیں ہے۔ مسافروں کوبیٹھنے کے لئے جتنے کٹے (چبوترے) بنائے گئے ہیں، یاتین نفری کرسیاں رکھی گئی ہیں وہ سب فل ہوجاتی ہیں اور جب ٹرین تاخیر کاشکار ہوتی ہے تو مسافروں کو اوربھی نشستیں نہیںملتیں۔ وہ زمین پر بیٹھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اوریہ مناظرتمام ریلوے اسٹیشن پر عام ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف عورتوں اور بچوں کوہوتی ہے۔ منسلکہ تصویر میں دیکھاجاسکتاہے کہ بچے کس طرح زمین پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ کپڑوں سے کھاتے پیتے گھرانے کے بچے بھی لگ رہے ہیں۔ یہ منظر باہری ملکوں کے سیاح بھی دیکھتے ہوں گے تو بھارت کے بارے میں کیاسوچتے ہوں گے؟ لہٰذا محکمہ ریل کے ارباب مجا ز کو چاہیے کہ وہ ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کے آرام کیلئے کرسیوں میں اضافہ فرمائیں۔ دوسری بات یہ کہ ہمیشہ دیکھاجارہاہے کہ بڑی دوری کی گاڑیوں میں جنرل ڈبہ میں سفر کے لئے کئی مسافر دھکم پیل کے ساتھ گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔ جن میں خواتین کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ اس طرح جام پیاک سفر سے کئی قسم کی بیماریاں کااندیشہ ہوتاہے اور لڑائی جھگڑے بھی ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ اس طرح سفر سے مزاج میں چڑ چڑاپن اور حکومت کے خلاف چھوٹے بڑوں اور خواتین میں غم وغصہ صاف نوٹ کیاجاسکتاہے جولوگ سفر کررہے ہوں اگروہاں کی باتیں ریکارڈ کرکے محکمہ ریل تک پہنچائیں تو محکمہ ریل کی نیندیں حرام ہوجائیں۔ لہٰذا محکمہ ریل اور مرکزی حکومت سے اپیل ہے کہ ہر ٹرین میں سامنے ایک اور پیچھے ایک اس طرح دو دو جنرل ڈبوں کا مزید اضافہ کرتے ہوئے مسافروں کے سفر کو آسان بنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے