بھاجپا قیادت والی ریاستوں میں مسلم آبادی پر جان لیوا حملوں کی بہتات، سنگین اور وحشیانہ جرم
سہارنپور(احمد رضا): اخلاق اور پہلو خان کے قتل کے بعد ہندو دہشت پسند افراد نے ناصر اور جنید کو بھوانی میں بولیرو کار کے ساتھ زندہ جلادیا سرکار اور سرکاری مشینری اصل مجرم کو پھانسی دلانے میں ناکام رہی نيز کسی بھی طرح سے سخت ایکشن شدت پسند افراد کے خلاف نہی لئے جانے کے نتیجہ میں اب چاروں طرف سے مسلم افراد کو مارا پیٹا اور بلڈوزر چلا کر بے گھر کیا جا رہا ہے سبھی اخبارات ،سیاست داں اور الیکٹرانک میڈیا زبان بند کئے ہوئے ہیں آخر ملک کے تیس کروڑ مسلم عوام کے ساتھ یہ وحشیانہ سلوک کب تک جاری رہیگا ؟ کل ایک سازش کے تحت بیقصور چار مسلم تاجروں علیگڑھ کے علاقہ ہر دووا گنج میں پک اپ ٹرک سے کھینچ کر پہلے اغوا کیا گیا پھر رنگ داری کی موٹی رقم مانگی گئی اس کے بعد قریب میں واقع سادھو آشرم کے پاس لیجا کر چاروں مسلم تاجروں کو ہندو دہشت گردوں نے لاٹھی ڈنڈوں اور لوہے کی چھڑوں سے بری طرح سے مار مار کر لہولہان کر ڈالا ہندو لوگ اور راہگیر اس وحشیانہ مار پیٹ کے وقت تماشائی بنے رہے بار بار شکایت ہونے پر موقعے پر پہنچی پولیس بھی دہشت گردوں کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور بری طرح سے مجروح چاروں مسلم تاجروں پر گائے کا میٹ رکھنے کا الزام عائد کر دیا گیا۔ ایف آئی آر لکھ دی گئی وحشیانہ حرکت کو انجام دیتے ہوئے جس درندگی کے ساتھ درجن بھر ہندو دہشت گردوں نے مسلم تاجروں کو مارا پیٹا اور ان کے پک اپ ٹرک کو آگ لگادی یہ ہمارے جمہوری نظم و نسق والے ملک میں رونما ہونے والی بہت سنگین اور دردناک واردات ہے چاروں مہذب اور باشعور تاجروں کا گائے کے گوشت یا گائے کسی بھی طرح کا کچھ بھی واسطہ نہیں رہا ہے چاروں تاجر سرکار سے منظور شدہ میٹ کے کاروباری ہیں۔

پورے ملک میں مسلم آبادی میں ہندو شدت پسند افراد کے خلاف ذبردست غصہ پنپنے لگا ہے کل ہی بعد نماز مغرب پانی پت میں اسجد بابو نام کے ایک مسلم نوجوان کو ہندو شدت پسند ششو لا لہ نے پہلے بابو کی ٹوپی چھین کر پھاڑی پھر لوہے کی را ڈ سے مار مار کر بابو کو ہلاک کر دیا پولیس اور مقامی ہندو اس دردناک واقعہ کی ویڈیو بناتے رہے۔ پانی پت میں اسجد ہلاک ہو گیا وہیں علیگڑھ کے چاروں مسلم تاجروں کی حالت اسپتال میں نازک بنی ہوئی ہے وہیں ہندو آنتک وادی آزاد گھوم رہے ہیں ظالم مجرموں کے خلاف ابھی تک کوئی معاملہ درج نہی کیا گیا ہے ہندو آبادی مسلم افراد کے مرنے پر مسلسل خوشیاں منانے لگی ہے یہ ماحول کچھہ سالوں سے ملک کے بھگوا اکثریتی علاقوں میں عام طور سے دیکھا جاتا ہے”جب حکم ربِ کائنات آئیگا تدیلیاں خد بہ خد رونما ہونے لگے گی باطل انشاء اللہ مٹ کر رہیگا” ملک بھر میں جہاں جہاں بھاجپا کی سرکا ریں ہیں وہاں خاص سازش کے تحت سرکاری مشینری کی شہ پر گزشتہ دس سالوں سے مسلسل بھاجپا قیادت والی ریاستوں میں مسلم آبادی کا جینا دشوار سے دشوار تر کر دیا گیا ہے گا ئے کے نام پر کبھی بھوانی میں مسلم افراد کو زندہ جلا دیا جاتا ہے تو کبھی علیگڑھ میں گؤ کشی کے شک میں اجتماعی تشدد کے ذریعہ زرد کوب کیا جا رہا ہے آزان نمازِ لو جہاد اور دہشت گرد ی کی آڑ میں مسلم آبادی پر مسلسل ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ہزاروں مکانات ، دکانات اور قیمتی سے قیمتی بلڈ نگیں زمین دھنسا دی گئی سب کچھ پولیس کو آگے رکھے ہوئے کیا جا رہا ہے سب کچھ ظلم و جبر ہوتا ہوا دیکھ کر بھی ہماری بيشتر لائق عدالتیں خاموش ہیں ہندو شدت پسند افراد کی دہشت سے آج عدالتیں بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں تو وہیں اپوزیشن جماعتوں کی بھی زبانیں بند ہیں دین اسلام کی ہر بات میں شاید ان ہندو شدت پسند افراد کو اپنی ہلاکت نظر آرہی ہے تبھی تو یہ آزان ،نماز , قرآن مجید ،مساجد اور مدارس برادشت ہی نہیں کر پا رہے ہیں جگہ جگہ مسلم آبادی کے خلاف نفرت حسد اور پرانی دشمنی جیسا نظارہ دکھائی دے رہا ہے پتہ نہیں ہم سے کون سا بدلہ لیا جا رہا ہے سامنے آکر لڑنے کی ہمت اور حوصلہ نہی صرفِ اور صرفِ پولیس کی موجودگی میں پولیس کی طاقت پر پچھلے دس سالوں سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حد سے زیادہ ظلم اور فرعونیت کے ساتھ حمله ہو رہے ہیں! سوشل رہبر اور سنجیدہ مزاج رہنما محمد آفاق نے کہا کہ ہم سبھی آپس میں مل جل کر ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں مگر دس سالوں سے ہندو مسلم افراد کے درمیاں ایک خاص پلاننگ کے تحت نفرت اور جھوٹ پھیلایا گیا جس سے کچھہ ریاستوں میں نفرت کا زہر خوب پنپ گیا ہے مگر ہم مسلمان اہل ایمان اور اہل قرآن ہیں اس لِئے ہم مسلمان بھی قرآن مجید اور پیارے نبی کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے ہوئے صبر کر رہے ہیں! جب حکم ربِ کائنات آئیگا تدیلیاں خد بہ خد رونما ہونے لگے گی باطل انشاء اللہ مٹ کر رہیگا” ! سوشل رہنما محمد آفاق نے بیباک لہجہ میں کہا کہ اب حالات ایسے بنادیئے گئے کہ کوئی بھی ہندو اگر پولیس میں یہ شکایت کرد ے کہ مسلمان یہ کہ رہے ہیں یا گالیاں دے رہے ہیں یا ہم پر پتھر پھینک رہے ہیں تو اب انکے قائدین کا سیدھا پولیس کو یہ حکم ہے کہ مسلم افراد کے خلاف فوری طور سے سخت ترین کارروائی کرتے ہوئے انکے گھروں میں کہرام۔ مچا دو انکے گھروں کو گراد و اور دفعات لگا کر سبھی کو جیل میں ڈال دیں اتر پردیش میں یوگی سرکار نے 2017 سے اقتدار سنبھالا اور تبھی سے مسلم دشمنی کی شکایات موصول ہونے لگی مگر جبر ہونے پر کوئی بھی آواز اٹھا نی کی ہمت نہیں کر سکا نتیجہ کے طور پر بھاجا کی دیگر ریاستیں بھی بلڈوزر چلاکر مسلم آبادی کو نیست و نابود کرنے لگی آج کہیں بھی معمولی باتوں پر مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چڑھا دینا بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کا پسندیدہ کھیل بن گیا ہے اتراکھنڈ ، اور مہاراشٹرا کے ساتھ ساتھ راجستھان میں سپریم کورٹ کی مناہی کے بعد بھی بلڈوزر چلاکر مساجد کو توڑا جا رہا ہے صاف ہو گیا ہے کہ اب بھگوا سرکاریں آنکھ موند کر کسی بھی مسلمان کے مکان اور دکان پر بلڈوزر چڑھا دیتی ہیں کیونکہ ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے قابل احترام سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی مقامی عدالتیں ایسے ہر ناجائز اور غیر آئینی عمل سے آنکھیں موندے ہوئے ہیں پتہ نہیں عدلیہ چپ کیوں ہے مرکزی حکومت کچھ نہیں بولنے والی کیونکہ بی جے پی کی تمام ریاستی حکومتیں اسی کی زیر نگرانی چلتی ہیں بات رہی رہی اپوزیشن کی تو اسے صرف مسلم ووٹوں سے غرض ہے ، مسلمانوں کے مسائل سے نہیں ہماچل پردیش کے بیشتر علاقوں میں لگاتار پندرہ دنوں سے جاری مسلم بھگاؤ اور مساجد گراؤ مہم شدت پر ہے مساجد میں نماز پڑھنا بہت مشکل کر دیا گیا ہے مسلم افراد سے سامان خریدنے پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں مسلم طبقہ کے خلاف نفرت عروج پر پہنچ گئی ہے ، مدھیہ پردیش میں یہ غیر جمہوری اور غیر آئینی عمل گزشتہ دس برسوں سے چلا آ رہا ہے یہاں سیکڑوں مسلمانوں کو اجاڑا گیا ہے بھاجپا کا اصل مقصد ہی صرفِ اور صرفِ مسلم آبادی کو اجاڑنا ہی ہے یوگی نے اپنے زہریلے بیانات و اعلا نا ت سے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے زبرست مخالف ہیں یوگی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مدھیہ پر دیش کے وزیر اعلیٰ نے بھی مسلمانوں کے سیکڑوں بنگلوں اور گھروں کو مسمار کروا دیا ہے اور مہنگی گاڑیوں کو بھی توڑ پھوڑ کروایا ہے ایسا گھنونہ ایکشن ملک کی مختلف ریاستوں میں بار بار لیا جا نا دستور سا بن گیا ہے!
