میربیدری، بیدر،کرناٹک

(۱) دے گارب
جو بھی دے گا رب دے گا
پوچھو نہ یہ کب کب دے گا
بات یقین کی ہے پیارے
آج یقین ہو اب دے گا

(۲) اپنی قسمت
اپنی قسمت رو گئے کیا
سارے آنسو دھو گئے کیا
پوچھتے ہیں لوگ سارے
توبہ کرتے وہ گئے کیا

(۳) جینا
جان لیتے ہیں لوگ ، جان گئے
مان لیتے ہیں لوگ مان گئے
اتنا سا ہے فسانہ دل کا میر
سامنے اُن کے جینا ٹھان گئے

(۴)ہماراعشق
ہے پہلا عشق سہارا جو رنگ لائے گا
یقین ہے سبھی کو کوئے یار بھائے گا
کہ آشکار ہوا برسوں بعد دلبر میر
ہمارا عشق ہمارے ہی ساتھ جائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے