حیدرآباد 3/ جون (مشرقی آوازجدید): حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قربانی دین اسلام کی اہم ترین عبادت ہے، اس ماہ مبارک میں لاکھوں مسلمان اس فریضہ کو انجام دیتے ہیں اور ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے لاکھوں جانور اللہ کی رضا کی خاطر ذبح کیے جاتے ہیں ، قربانی کی عبادت بندے کی اللہ تبارک وتعالی کے ساتھ عشق و محبت کا مظہر ہے، ہونا یہ چاہیے تھا کہ بندہ خود اللہ تبارک و تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ، مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اللہ تعالی نے جانوروں کو ذبح کرنا اس کے قائم مقام قرار دے دیا، اور جس شخص کو بھی اللہ تبارک وتعالی نے مالی وسعت عطا فرمائی ہے وہ شخص قربانی کرنا اہم دینی فریضہ سمجھتا ہے اور بہت بد نصیب ہے وہ آدمی کہ جو باوجود مالی وسعت کے اس عظیم عبادت سے محروم رہے، بارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی چلا آرہا ہے۔ قربانی کا عمل ہر امت میں مقر رکیا گیا البتہ اس کے طریقے اور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے۔ ان ہی میں سے قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللہ تعالی نے امت محمدی اے کو عید الاضحی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے۔ احادیث مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی بہت زیادہ اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی ہے چنانچہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان میں ہمارے لیے کیا تو اب ہے؟ فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے عرض کیا اور اون میں فرمایا اس کے ہر ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔ حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، ایام قربانی میں انسان کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے، اور قیامت کے روز قربانی کا یہ جانور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سینگوں ، بالوں اور گھروں سمیت حاضر ہوگا، اور بلاشبہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے نہ تعالی کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ پالیتا ہے، ایک اور روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ارشاد فرمایا: اے فاطمہ ! اٹھو اپنی قربانی کے جانور کے پاس جاؤ اور اسے لے کر آؤ؛ کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے پر تمہارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ا یہ انعام ہم اہل بیت کے ساتھ خاص ہے یا ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ” بلکہ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے انہوں نے کہا کہ قربانی کی ایک صورت ہے اور ایک زوج ہے، صورت تو جانور کا ذبح کرنا ہے، اور اس کی حقیقت ایثار نفس کا جذبہ پیدا کرنا ہے اور تقرب الی اللہ ہے۔ ذبح کا اصل مقصد جان کو پیش کرنا ہے؛ چنانچہ اس سے انسان میں جاں سپاری اور جاں نثاری کا جذ بہ پیدا ہوتا ہے اور یہی اس کی روح ہے تو یہ زوح صدقہ سے کیسے حاصل ہوگی؟ کیونکہ قربانی کی روح تو جان دینا ہے اور صدقہ کی زوح مال دینا ہے، نیز صدقہ کے لیے کوئی دن مقرر نہیں مگر اس کے لیے ایک خاص دن مقرر کیا گیا ہے اور اس کا نام بھی یوم النحر اور یوم الانٹی رکھا گیا ہے ۔ صدر محترم نے عامتہ الناس سے درخواست کی ہے کہ عید کے دن صاف صفائی کا خاص خیال رکھے جانور کوروڈو  پر ذبح کرنے اور ان کی ویڈیو گرافی سے احتراز کریں۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے