تیرا کوچہ نہیں آیا کہ تیرا در نہیں آیا
کسی جانب سے ابتک ایک بھی پتھر نہیں آیا
سہارنپور(احمد رضا): معیاری ادبی تنظیم”بزمِ اقبال ثانی سہارنپور” کے زیرِ اہتمام ایک شعری نشست بعنوان "ایک شام۔سہارنپور کے نام” کا پر وقار انعقاد کل بعد نماز عشاء اِقبال ہاؤس،پکّا باغ، سہارنپور میں کیا گیا جس میں شہر کے معزز مہمانوں کے ساتھ ساتھ درجن بھر سے زیادہ شعراء حضرات نے شرکت فرمائی ! شاندار اور معیاری نشست کی صدارت مشہور شاعر عابد حسن وفا نے فرمائی ، شمع روشن کی زمہ داری معروف شاعر و صحافی ڈاکٹر رئیس کمال نے اپنے دستِ مبارک سے نبھائی جبکہ نشست کی کامیاب نظامت کے فرائض انقلابی شاعر اسلم محسن نے بخوبی انجام دیئے نشست میں استاد الشعراء، بزرگ شاعر سلیمان عدل کی موجودگی بھی قابلِ ستائش رہی! اِس موقع پر شعری نشست کے میزبان اقبال منصوری صاحب نے اُردو زبان کے تئی اپنی کاوشوں اور محبّتوں کا اظہار فرمایا، انہوں نے کہا کہ ہمیں اُردو زبان کو ایک ایک گھر تک لے جانے کا کام کرونگا اور میں یہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ تا زندگی اُردو زبان کی آبیاری اور فروغ کی جدوجہد ادبی نشستوں کے ذریعے کرتا رہونگا نشت میں ادیب اور شاعر کی حیثیت سے ڈاکٹر رئیس کمال نے اپنی بات رکھتے ہوئے فرمایا کہ اُردو زبان ہمارے بزرگوں کا دیا ہوا سرمایہ ہے،جسکی بقاء،ترقی اور فروغ کا زمہ ہم سب کے کاندھوں پر ہے انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس شیریں اور شگفتہ اُردو زبان کو بچانا ہے تو ہمیں اپنے بچّوں کو اِس زبان سے روشناس کرانا ہوگا انہوں نے آگے کہا کہ میرا تو صرف ایک ہی نعرہ ہے، اُردو بولئے، اُردو پڑھیئے اور اُردو لکھئے پروگرام اقبال منصوری صاحب کی حمد و نعت سے شروع ہوکر رات لگ بھگ 1 بجے اختتام پذیر ہوا نشت میں پڑھا گیا شعراء کرام کا ایک ایک شعر اخبار کے باذوق قارئین کیلئے حاضرِ ہے:
اپنے انجام سے بچ بچ کے کہاں جاؤگے
وہ ہی کاٹوگے جو بويا ہے جہاں جاؤگے
(سلیمان عادل)
فریب لوٹ فسادات ریپ عیاشی
قدم قدم پہ نشانات گندگی کے ہیں
(مستقیم روشن)
تیرا کوچہ نہیں آیا کہ تیرا در نہیں آیا
کسی جانب سے ابتک ایک بھی پتھر نہیں آیا
(رئیس کمال)
حفاظتوں کی حسیں رہ گزر میں رہتا ہے
جو اپنی ماں کی دعاؤں کے اثر میں رہتا ہے۔
(عابد وفا)
پُر خطر ہیں راستے پر حوصلھ کچھ بھی نہیں
جستجو ہے منزلوں کی اور پتا کچھ بھی نہیں
(اسلم محسن)
قبل آدم ہوکے جو ختم نبوت بھی ہوا
یعنی وہ انجام بھی ہے اور وہی آغاز بھی
(اِقبال منصوری)
اسلام بھنور میں تھا شبّیر نے جب دیکھا
اسلام کی کشتی کو طوفاں سے نکالا ہے
(انصر سہارنپوری)
میں پھیلا کر رہونگا نور اُلفت کا زمانہ میں
مجھے پرواہ نہیں مجھ پر اگر الزام آجائے۔
(برکت اللہ شاد)
میں اپنی کامیابی اِس طرح سے جی رہا ہوں
بجھے چراغ سے سگریٹ جلا کے پی رہا ہوں
(ساجد فاروقی)
کل کی اس کامیاب نشت میں رضوان احمد، محمد اعظم، محمد اسلم، مانی سنگر، اسلم مرزا، ڈاکٹر امجد علی، شارق انصاری، اور کامل منصوری کی موجودگی قابلِ ذکر ہے۔ اِن لوگوں نے شعراء کرام کے کلام کی بہترین پذیرائی و داد و تحسین سے خوب نوازا۔۔ نشست کے اختتام پر جاوید منصوری اور احمد منصوری نے بہترین ضیافت کا اہتمام کیا۔
