مکرمی!

عیدالاضحی کا تہوار محض ایک گوشت کی تقریب یا رسم نہیں بلکہ ایک نبی کی عظیم سنت ہے۔

آپ کی زندگی سے کئی قسم کی قربانیوں کا سبق ملتا ہے۔

۱- مخالفت کے باوجود دین سے وابستگی

۲- اختلاف دین کے باوجود باپ کی عزت وتکریم اور اطاعت

۳- حکم الہی پر بچوں کو بیابان میں چھوڑنا

۴- پھر حکم الہی پر ننھے بچے کی قربانی کا عظیم جذبہ اور پہاڑ نما ہمت

۵- آپ کی زندگی سے یہ بھی ایک قربانی واضح ہے کہ باپ جیاے سرپتات سے اختلاف کر بیٹھنا جو کہ ایک نوجوان کا سب سے بڑا سہارا ہوتا ہے جسکی سرپرستی اور وراثت کی امید بہت کچھ کراتی ہے۔

جو لوگ ایک دعوت پر اور مفت کسی کی مدد پاکر حق کو ناحق اور ناحق کو حق بناتے رہتے ہیں یا غلط کے ساتھ کھڑے ہوکر ملی وسائل اور دولت کو برباد کرتے یا کراتے ہیں ان کیلئے بہت بڑا سبق ہے کہ وہ نبی تھے جن کو خسارہ ہوا مگر وہ جھکے نہیں۔

ضرورت ہے کہ قربانی کی روح پر بحث ہو ۔ مال وجان، وقت اور اپنے تعلقات کی قربانی کا مسئلہ اٹھے۔ اناپرستی کی قربانی کا مسئلہ اٹھایا جائے جسکی وجہ سے پوری ملت تباہ ہے۔ اس انا کی قربانی دی جائے جس سے دینی ادارے برباد ہیں جس انا کے سبب اداروں میں انارکی پھیل رہی ہے۔

یہ عید ہمیں جان ومال اور انا پرستی سمیت دین کیلئے بہت کچھ قربان کرنے کا حکم دیتی ہے ۔

نوراللہ خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے