مرسلہ: مرزا چشتی صابری نظامی، بیدرشریف

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا’’ایک مرتبہ حضرت خواجہ جنیدبغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک صاحب سے دریافت کیا: تو کہاں سے آیا ہے؟ اس نے کہا: میں حج کے لئے گیا تھا اور وہیں سے واپس آیا ہوں۔
حضرت خواجہ جنید بغدادی ؒ نے اس سے حج کے بارے میں چند سوالات کئے۔ حضرت کے سوالات اور اس شخص کے جوابات کا خلاصہ نکات کی شکل میں یہاں پیش ہے۔
(۱) حج کے لئے جب گھر سے نکلو اور اپنا وطن چھوڑو تو سفرسے پہلے اپنے گناہوں کو بھی اپنے پیچھے چھوڑ دو۔
(۲) جب تم گھر سے نکلو تویہ جان لوکہ تم راہِ حق پر نکل چکے اور راہِ حق کی منزلیں طے کرتے چلو۔
(۳) جب تم میقات پر احرام باندھ لو (یعنی اپنے لباس کو جسم سے جدا کرلو) تو صفاتِ بشری کوبھی (جس طرح سے لباس اتارا) اسی طرح اُتار دو۔
(۴) جب تم عرفات کے میدان میں قیام کروتو دورانِ قیام کشف ومشاہدۂ حق کی سعادت حاصل کرو۔
(۵)جب تم مزدلفہ میں جاؤ اور تمہاری مراد پوری ہوجائے تو پھر اُس مراد کو پاتے ہی باقی تمام (دنیاوی) مرادوں کو ترک کردو۔
(۶) جب تم بیت اللہ یعنی کعبے کا طواف کرو تو اپنے باطن کومقامِ تنزیہ میں لطائفِ جمالِ حق میں محوپاؤ(مقامِ بے عیب میں اللہ تعالیٰ کے بے عیب حسن میں کھوجاؤ)۔
(۷)جب تم صفا اور مروہ کے درمیان سعی کروتو مقامِ صفا ومروہ کا اِحساس وادارک (سمجھ) کا احساس کرو۔
(۸)جب تم منیٰ پہنچوتو تمہاری تمام آرزوؤں کوساقط کردو(یعنی خواہشات کو ترک کردو)۔
(۹)قربا ن گاہ پہنچ کرجب تم جانور کی قربانی دوتو اس کے ساتھ ہی اپنے نفسانی خواہشات کو بھی قربان کردو۔
(۱۰)جب تم کنکریان پھینکو تو تم اپنے تمام نفسانی لذّات وشہوات کو بھی ان کنکریوں کے ساتھ پھینک دو۔ اللہ سے دعا ہے کہ تمام حاجیوں کے حج کو وہ اپنے فضل وکرم سے قبول فرمائے۔ ان کی دُعا ؤں کوشرف قبولیت سے نوازے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے