شہرت گڑھ(سدھارتھ نگر): ۷ جون ۲۰۲۵ء، بروز سنیچر، انتری بازار کی وسیع و عریض عیدگاہ میں ہزاروں مرد و خواتین نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ نمازِ عیدالاضحیٰ ادا کی۔ اس پُرمسرت موقع پر امام و خطیب مولانا سعود اختر عبدالمنان سلفی حفظہ اللہ نے ایک نہایت پرمغز اور مؤثر خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ نے فرمایا:

قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم روحانی، اخلاقی اور معاشرتی پیغام کا مظہر ہے۔ یہ ہمیں اس بے مثال واقعے کی یاد دلاتی ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے نورِ نظر، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا عزم کیا اور بیٹے نے بلا چون و چرا اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ اس اطاعت و تسلیم کا وہ منظر، جسے دیکھ کر آسمان بھی حیران رہ گیا، اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہوا کہ قیامت تک اسے امت مسلمہ کے لیے نشانِ ہدایت بنا دیا۔

مولانا نے مزید فرمایا: قربانی کا اصل مقصد اللہ کی رضا کا حصول، دل کی پاکیزگی اور تقویٰ کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ کو نہ جانوروں کا گوشت درکار ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس کی بارگاہ میں وہی قربانی قبول ہوتی ہے جو خلوصِ نیت اور خشیتِ الٰہی سے کی جائے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” (سورۃ الحج: 37)

سچ یہ ہے کہ تقویٰ اور اخلاص ہی قربانی کی روح ہیں۔ یہی جذبات انسان کے دل میں غم خواری، ہمدردی اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتے ہیں، مگر افسوس! آج اس عظیم عمل کو ریاکاری، نمائش اور ایک دوسرے پر فوقیت جتانے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ بعض لوگ مہنگے جانوروں کی نمائش کو ہی قربانی سمجھ بیٹھے ہیں اور خلوص و للٰہیت کو پسِ پشت ڈال چکے ہیں۔ وہ سینہ تان کر کہتے ہیں: "میں نے سب سے مہنگی قربانی کی!” حالاں کہ قربانی کی قبولیت جانور کے مہنگے ہونے پر نہیں، نیت کے خلوص پر موقوف ہے۔

ایسی قربانی، جس میں دکھاوا، تکبر یا مقابلہ آرائی کا شائبہ ہو، بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت نہیں پاتی۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی عمل مقبول ہے جو صرف اسی کے لیے، اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا کی خاطر کیا جائے۔

خطبے کے آخر میں مولانا نے معاشرتی بگاڑ کی ایک خطرناک جہت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:

آج نہ صرف عام لوگ بلکہ اہل حدیث گھرانوں کی بعض خواتین بھی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مخلوق سے حاجات مانگنے اور مزاروں و درگاہوں کا طواف کرنے میں لگ چکی ہیں۔ یہ رویہ سراسر شرک ہے اور ایسی قربانیاں، جن میں غیر اللہ کی شرکت ہو، حرام اور باطل ہیں۔ قربانی ہو یا کوئی بھی عمل، اگر وہ محض اللہ رب العالمین کے لیے نہ ہو تو وہ رائیگاں جاتا ہے۔

مولانا نے دعائیہ کلمات میں کہا کی اے اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی تقویٰ، اخلاص، اور اطاعتِ الٰہی کی دولت سے مالا مال فرمائے، اور حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی سنتِ تسلیم و رضا پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ نے عالم اسلام اور اپنے ملک ہندوستان کی حفاظت اور امن و امان کے لیے خوب دعائیں کیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے