مفتی ہمایوں اقبال ندوی 

عام طور پر لوگوں کا اب یہ مزاج بن گیا ہے کہ جب کسی میت کی تدفین میں حاضر ہوتے ہیں تو یہ سوال پوچھتے ہیں کہ: مرحوم کو کیا ہو گیا تھا؟ کیوں انتقال ہوا؟ کون سی بیماری لگی تھی؟ اور کیا معاملہ پیش ایا کہ اس نوجوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا تھا کہ أخرت کے سفر پر روانہ ہو گیا؟

جب انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ تقریبا پانچ مہینے سے بیمار تھے، ارریہ، پورنیہ، نیپال اور پٹنہ کے ڈاکٹروں سے علاج و معاجلہ بھی کرایا گیا مگر افاقہ نہیں ہوا، مرحوم کو بڑی تکلیف کا سامنا ہوا ہے، اب جا کر انتقال ہوا ہے۔ یہ سن کر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ: یہ معاملہ تو مجھے بالکل پتہ نہیں ہے۔ جبکہ پوچھنے والے ایسے بھی ہیں جو مرحوم کے گاؤں میں رہتے ہیں، پھر بھی خبر نہیں ہے، یہ کس قدر افسوسناک بات ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک جگہ رہنے والے کو اپنے پڑوس کی خبر نہیں ہے

 اس میں غلطی کس کی ہے ؟

 بیچارہ ایک تو اپنے عزیز کے فوت ہونے پر صدمے سے دوچار ہے، یہ سن کر مزید تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ انہوں نے خبر نہیں دی ہے۔

عوام الناس کا یہ رویہ نہایت تکلیف دہ ہے۔ اور ایک صدمہ سے دوچار بندے کو مزید تکلیف میں مبتلا کرنا ہے، ایسے سوالات سے احتراز کی ضرورت ہے۔

انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو سراسر غلطی اسی شخص کی ہے جو خود اپنے جہان سے بے خبر ہے، اسے یہ بھی نہیں پتہ ہے کہ اس کے پڑوس میں کیا حالات رونما ہو رہے ہیں، ایک شاعر نے اسی بات کو خوبصورت انداز میں نظم کیا ہے:

 اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبر

  میت پہ آکے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا

مسلمانوں کے آپس میں حقوق کی جو تعلیم آقاء مدنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہے، ان میں جنازے سے پہلے بیمار کی عیادت کا ذکر فرمایا ہے، فرمان رسول ہے ;

ہر مسلمان پہ اس کے مسلمان بھائی کے چھ حق ہیں: جب اس سے ملے تو سلام کرے، دعوت دے تو قبول کرے، اور جب نصیحت طلب کرے تو نصیحت کرے، جب چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو اس پر یرحمك اللہ کہے، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے اور جب اس کی وفات ہو یااس تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے (مسلم)۔

مذکورہ بالا حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی یہ جملہ حقوق ہیں، بلکہ یہ موٹے موٹے حقوق ہیں، یا دوسری زبان میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کم سے کم حقوق ہیں، ان کی پاسداری ایک صاحب ایمان کو کرنی ہے، یہ ایمان و اسلام کی دلیل ہے، ان سے ایمان میں کمال اور مسلمان ہونے کا مکمل خیال پیدا ہوتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان موٹی چیزوں سے بھی ہم آج کی تاریخ میں لاعلم ہیں۔ اس پر جس قدر ماتم کیا جائے وہ کم ہے۔

پہلا حق سلام ہے، حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے سے محبت اور تعلق میں اضافے کا سلام کو سامان کہا ہے، ایمان والے کے دل سے کینہ دور کرنے کی دو اسلام تجویز فرمائی ہے۔ اج ایک دوسرے سے دوری و مہجوری اور بدگمانی کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم سلام جیسی دعا کو عام نہیں کر رہے ہیں۔

 دوسری چیز دعوت کی اہمیت بھی وہ خیال نہیں ہے جو حدیث شریف کا منشا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے بعض نے اپنے نفلی روزے کو ایمان والے کی دعوت پر قربان فرما دیا ہے، اس عنوان کی بہت سی روایتیں احادیث کی ذخیرہ میں موجود ہیں۔

 تیسرا حق چھینک پر دعا کا اہتمام بھی دیکھنے میں بہت کم آتا ہے، جبکہ چھینک یہ زندگی ہے، حضرت آدم علیہ السلام کے پتلے میں جب روح ڈالی گئی تو جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور انہیں چھینک آئی، اس پر آپ نے "الحمدللہ” کہا، یہ عمل خدا کو بہت پسند آیا۔ حدیث شریف میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ اللہ کو چھینک پسند ہے۔ دراصل اس بندہ خدا کی جو حمد کرتا ہے یہ ادا خدا کو محبوب ہے۔

 چوتھا حق بیمار کی عیادت ہے اور پانچواں جنازے کی حاضری ہے۔ آج جنازے کی حاضری کا تو خوب اہتمام ہے مگر اس سے پہلے جو عیادت کا حکم ہے، اس کا اھتمام نہیں ہے الا ماشاءاللہ۔

 ایک بیمار کی عیادت پر بڑی بشارت آئی ہے۔ حدیث شریف میں ہے; جب بھی کوئی مسلمان صبح کسی مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو شام تک پچاس ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، اور اگر شام کو عیادت کرتا ہے تو صبح تک پچاس ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اور جنت میں اس کے لیے چنے ہوئے پھل ہوں گے( ترمذی)۔

  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی سے بیماروں کی تیمارداری و عیادت کا بڑا اھتمام ملتا ہے، اس باب میں اتنی وسعت ملتی ہے کہ یہ عمل صرف اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں اور منافقین تک کی عیادت فرمائی ہے، نیز عیادت کا طریقہ بھی تعلیم فرمایا ہے کہ: جب کوئی کسی بیمار کی عیادت کے لئے جائے تو اس ہاتھ اور پیشانی پر ہاتھ رکھے، اس کو تسلی اور دلاسہ دے اور اس کی شفایابی کے لئے خدا سے دعا کرے۔ (ترمذی)

اسی حدیث کی روشنی میں بیماروں کی تیمارداری کے پانچ آداب بھی بیان کئے گئے ہیں، اس کا ہمیں اھتمام کرنا چاہئیے۔ پہلا یہ کہ جب ہم کسی بیمار کی عیادت میں جائیں تو اس کی خبر و خیریت معلوم کریں اور اس کی شفایابی کے لئے دعا کریں، دوسرا یہ ضرورت کے مطابق ہی بیمار کے پاس ٹھہریں، تیسرا یہ کہ اس کے گھر والوں و رشتہ داروں سے حال و احوال دریافت کریں، چوتھا غیر محرم کا خیال کریں، اور پانچواں ادب یہ ہے کہ واپسی کے وقت اپنے لئے بیمار سے دعا کی درخواست کریں۔

 اج ایک بیمار اپنے بستر مرگ پر تڑپ رہا ہے، اس وقت کوئی نہیں پہونچ رہا ہے، اس کے گھر والے نفسا نفسی کے عالم میں ہیں، ذہن ماؤف ہے اور کام نہیں کر رہا ہے، کہ کیا کریں؟ کہاں لے کر جائیں؟ اسی ادھیڑ بن میں ہے، حوصلہ پست ہوگیا ہے، ہمتیں جواب دے گئی ہیں، ان حالات میں "کس نمی پرسد کہ بھیا کیستی؟” کوئی نہیں پوچھ رہا کہ بھائی تمہارا کیا حال ہے؟

 بالآخر جب مریض تڑپ تڑپ کر اپنی جان جان آفریں کے حوالے کر دیتا ہے، تجہیز و تکفین کا مرحلہ آتا ہے تو سبھی قریب و دور کے رشتہ دار اکٹھا ہوتے ہیں، اپنے تعلقات کا اظہار کرتے ہیں، مرحوم سے اپنی قربت و محبت کی دہائی دیتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر نہیں ہے۔ یہ عمل نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ ہے، نیز یہ کہنے کی مجھے اجازت دیجئے کہ اپنی بے حسی و بد دینی کا اعلان بھی ہے۔ اعاذنا اللہ من ذالك۰ آمین

جنازہ کو دیکھ کر ایک بزرگ سے اسی طرح کا سوال ایک شخص نے کیا جو وہاں کا مقامی تھا، یہ کس کا جنازہ ہے؟ حضرت نے اس کے جواب میں برجستہ فرمایا کہ: "یہ تمہارا جنازہ ہے”۔

 مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت مدفن

زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مفتی ہمایوں اقبال ندوی 

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 

۲۰/جون ۲۰۲۵ء بروز جمعرات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے