بیدر، 20 جون: ضلع بیدر میں بڑھتے ہوئے کم عمری کی شادیوں (چائلڈ میرج) کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شلپا شرما نے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضلع میں کہیں بھی کم عمری کی شادی کا واقعہ سامنے آتا ہے تو فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے۔یہ بات انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں منعقدہ ضلعی ہم آہنگی، معائنہ کمیٹی اور بچوں کی فلاح و بہبود کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
ڈی سی نے کہا کہ کم عمری کی شادی کو روکنے کے لیے صرف والدین ہی نہیں بلکہ پجاری، شادی ہال مالکان اور شادی کا دعوت نامہ فراہم کرنے والے دکان داروں پر بھی قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ شادی کی عمر کی تصدیق کے لیے صرف پیدائش کا سرٹیفکیٹ، ایس ایس ایل سی مارک کارڈ، یا میڈیکل ایج سرٹیفکیٹ کو ہی قبول کیا جائے۔انہوں نے اسکول چھوڑنے والی لڑکیوں کے بارے میں تعلیم محکمہ کو معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اسکول چھوڑنے کی وجوہات کو بھی جاننا ضروری ہے۔ دیہی پنچایتوں کی نگرانی کمیٹیاں بھی اگر کسی گاؤں میں چائلڈ میرج کی اطلاع پائیں تو فوری طور پر متعلقہ افسران کو آگاہ کریں۔
انہوں نے بتایا کہ اپریل 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان ضلع میں کل 58 کم عمری کی شادیوں کی اطلاع ملی، جن میں سے 55 کو روکا گیا جبکہ 3 شادیاں انجام پائیں، ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اپریل-مئی 2025 کے مہینوں میں 31 چائلڈ میرج کو روکا گیا اور کوئی شادی انجام نہیں دی گئی۔ڈی سی نے انکشاف کیا کہ 2024-25 میں 75 کم عمر حاملہ لڑکیوں کی اطلاع RCH پورٹل پر ملی ہے، جسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور آئندہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے حکام کو اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے کہا کہ ضلع میں 37 مقدمات POCSO ایکٹ کے تحت درج ہوئے ہیں، اس لیے عوام میں اس قانون سے متعلق آگاہی مہم ضروری ہے۔ متاثرہ لڑکیوں کو ‘ساکھی ون اسٹاپ سینٹر’ کے ذریعے کونسلنگ اور مدد فراہم کی جائے گی۔ڈی سی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ گھومنے پھرنے والے اور بھیک مانگنے میں مصروف بچوں کو بچا کر انہیں اسکول میں داخل کروایا جائے۔
اس اجلاس میں پروبیشنری آئی اے ایس افسر رمیا، خواتین و اطفال بہبود کے ڈپٹی ڈائریکٹر شری دھر، ضلعی چائلڈ پروٹیکشن آفیسر گوروراج، ڈی وائی ایس پی شیو ناگوڑ پاٹل اور دیگر ضلعی و تعلقہ سطح کے افسران شریک ہوئے٭٭٭

