کتاب کانام: ہم اپنے تماشائی

افسانچہ نگار: رؤف صادق

مبصر: محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے افسانچہ نگار جناب رؤ صادق کے 112صفحات کے افسانوی مجموعہ’’ہم اپنے تماشائی‘‘ میں جملہ 93افسانچے ہیں۔ جس کی ترتیب اور انتخاب علیم الدین علیم نے کی ہے۔ کتاب میں پانچ اشعار پر مشتمل نظم ’’نذرِ رؤف صادق‘‘ پروفیسر مقبول احمد مقبول ؔ نے تحریر کی ہے ۔ نظم متاثر کرتی ہے۔
رؤف صادق ایک اچھے مصور ہیں ۔ یہ میں جانتاتھا لیکن ان کے افسانچوں کی تازہ کتاب ’’ہم اپنے تماشائی‘‘نے بتلایاکہ وہ دراصل ایک عمدہ افسانچہ نگار بھی ہیں۔ جن کے بارے میں پروفیسر حمیدسہروردی نے لکھاہے کہ ’’رؤف صادق:انسانی ضمیر کاافسانچہ نگار‘‘ ہے ۔ آگے لکھاہے کہ ’’رؤف صادق نے اپنے افسانچوں میں صرف بیانات ، صرف واردات اور صرف حادثات سے سروکار نہیں رکھا بلکہ انسانی ضمیر کے تمام کرّوں کااحاطہ کیاہے۔ وہ افسانچوں میں پلاٹ ، کردار اور زماں ومکاں کی صورت گری کاجلوہ دکھاتے ہیں ‘‘ ّ(ص۔12,11) پروفیسر طارق چھتاری نے بھی رؤف صادق کے افسانچوں پر نیم دلی سے سہی اظہار خیال کیاہے۔ تاہم ڈاکٹر سلیم خان کاکہناہے ’’اس کتاب میں کوئی افسانچہ اپنی چادر سے باہر پیر نہیں پھیلاتا۔ ان کے افسانچوںمیں نہ تو ابہام کاعیب ہے اور نہ ہی سپاٹ پندونصیحت ہے۔ وہ تخلیق کو فکشن کا شہ پارہ بنانے والی تہہ داری اور چونکانے کی خوبی سے بھی مزین ہیں ۔۔۔۔اردو فکشن میں ’’ہم اپنے تماشائی‘‘ ایک نہایت اہم اضافہ ہے ۔(صفحہ 15,16)
جناب رؤف صادق افسانچے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’افسانچہ اختصار ِ لفظی کامتقاضی ہوتاہے ۔ یعنی کوزے میں سمندر ، افسانچہ یک سطری بھی ہوسکتاہے اور پچیس پچاس اور سولفظوں پر مشتمل بھی ہوسکتاہے ۔ ۔۔۔۔افسانچے کی سب سے بڑی خوبی اس کاکلائمکس ہوتاہے ،یہیں سے قاری کی سوچ کے دروازے کھلنا شروع ہوجاتے ہیں اور اس پر ایک طویل افسانے کے خط وخال منکشف ہونے لگتے ہیں ، یہی افسانچے کی کامیابی کابڑا راز ہے ‘‘(ص۔ 17)
مذکورہ شہادتوں کے بعد جب ہم رؤف صادق کے افسانچوں کی طرف آتے ہیں تو سادگی ، اور آسانی والے افسانچے کم کم ملتے ہیں۔رؤف صادق بہت اونچے مقام پر کھڑے ہوکر کہانی کہتے ہیں، جس کی آواز(عقدہ) سنائی کم دیتی ہے۔ کیوں کہ آج کی دنیا صوتی آلودگی میں گھری ہوئی ہے ، ایک افسانچہ نگار کی آواز اس تک پہنچے ، اس کے لئے افسانچہ نگار کو تگ ودو کرنی پڑے گی اور اگر افسانچہ نگار تن آسان ہے تو بھینس پانی میں ڈوبنے سے بچ نہیں سکتی۔
رؤف صادق افسانچہ لکھتے ہوئے زمانے کاخیال رکھتے ہیں ۔جہاں دیدہ قلمکار کو اپنی قلمکاری دکھانی پڑتی ہے اور خود قلم بھی جوش میں لاشعوری طورپر وہی کچھ کرتاہے جو مصنف ؍افسانہ نویس ؍ناول نگار ؍افسانچہ نگار چاہتاہے۔زیر تبصرہ کتاب میں کہیں کہیں پروف ریڈنگ کے علاوہ فل اسٹا پ اور کومہ وغیرہ سے بھی دوری برتی گئی ہے۔ کہیں ی، چھوٹ گیاہے ، کہیں پر زکے بجائے ذال سے لکھاگیاہے۔
لیکن افسانچوں کے عناوین دلچسپ ہیں ۔ جیسے صفحہ 27کاافسانچہ ’’جذبہ‘‘ لیکن اس عنوان سے کہانی کاتعلق جوڑنے میں قاری کو وقت لگتاہے۔جب کہ آج کاقاری ادب کو وقت دینے سے کتراتارہا۔ تن آسان ہوگیاہے۔
بڑے بھائی کی قربانی والا افسانچہ ’’کھڑکی‘‘(ص28)، رشتے کی حساسیت پر مبنی ’’آپریشن(صفحہ 31) ، ایک خاتون(یاماں) کی صبح کی کہانی ’’پانی سے بھر اگلاس‘‘(صفحہ 32) میں پڑھی جاسکتی ہے۔ افسانچہ ’’عیدی‘‘ ( 34)ہند ومسلم رشتوں کی کہانی سناتاہے ۔ متاثر کرتاہے۔  افسانچہ ’’پیادہ‘‘(صفحہ 35) کے دوست اقبال احمد جیسے لوگ دنیا میں عنقا ہیں جو اپنے دوست کی کس طرح مددکرناہے یہ بات وہ اچھی طرح جانتے ہیں ۔ ’’جیون ریکھا‘‘(صفحہ 37) میں زندگی کاجان باز چہر ادیکھ کردل کانپ اٹھتاہے دوسری طرف حوصلہ بھی بڑھ جاتاہے  ’’نئی کربلا‘‘(صفحہ 38) نئی یا نیا جو بھی ہوکربلاکے حوالے سے غزہ کے شہیدوں کی حالت ِ زار اور وہاں ہونے والے واقعات کو خوبی کے ساتھ قارئین تک پہنچایاگیاہے۔ ’’منی پور کی چڑیا‘‘(صفحہ 43) روایتی کہانی پر مبنی بے دم ساافسانچہ ہے ۔’’بانجھ‘‘ (صفحہ 42) بھی اس کے ہاتھ پر ہاتھ ماررہاہے ۔ رؤف صادق انسانی نفسیات کو بھی اپنے افسانچوں میں برتتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک افسانچہ ’’مجبور آدمی کاغصہ‘‘(صفحہ 44) ہے۔ افسانچہ ’’واہمہ ‘‘(صفحہ 47) ، وہ حقیقت ہے جس کے بعد زندگی روتے ہوئے دنیا میں آتی ہے اور خوشیوں سے بھردیتی ہے۔ ’’فش ٹینک‘‘(صفحہ 55) ایک شریف انسان کی بیوی سے محبت کی وہ کہانی ہے جس کو علامتوں کی زبان میں اختصار کے ساتھ رؤف صادق نے بیان کیاہے۔ اچھی لگتی ہے کہانی۔ لیکن بیوی سے محبت کو آجکل فضول سمجھاجارہاہے۔ محبت صرف محبوبہ (یا آوارہ عورتوں ) سے ہی کی جاسکتی ہے ۔ کیاکیاجائے۔ جو سچ ہے وہ غروب ہورہاہے اور جو جھوٹ ہے وہ سر چڑھاہواہے۔ایسے سروں کو سرنگوں ہوناچاہیے کیوں کہ زندگی کی حقیقت بیوی ہے ناکہ آوارہ خواتین۔ ’’پیپر ویٹ ‘‘ (صفحہ 57) ایک عمدہ افسانچہ ہے ۔ غربت سے جوجھ رہے شخص کی وہ کہانی ہے جو جینے کے لئے ہرماہ اپناسرکاٹ کر رکھ دیتاہے۔تب کہیں جاکر زندگی آگے سرکتی ہے۔ ’’ہریجن‘‘ (صفحہ 59) افسانچہ وہ ہے جس میں آجکل دلتوں پرہونے والے ظلم کی کہانی ہے۔ پانی کی جگہ منہ پر پیشاب کرنے کاواقعہ بیان ہواہے۔ سچائی پرمبنی افسانچہ ہے۔ خون کھولا سکتاہے لیکن متاثر اسلئے نہیں کرتاکہ ہندوستان میں ہریجنوں پر ظلم عام بات ہے۔ ’’محاسبہ‘‘(صفحہ 108) جیسے افسانچے واقعی محاسبے کی دعوت دیتے ہیں۔ غفلت وہ چڑیاہے جو دیمک کی طرح انسان کو کھالیتی ہے۔ اللہ غفلت سے محفوظ رکھے۔ اور پھر دشمن کاختم ہوجانا بھی غفلت ہی تو ہے۔ یہی کچھ پیغام اس افسانچہ میں پوشیدہ ہے۔ ’’بھیڑیا‘‘(صفحہ 100) گوکہ روایتی کہانی والا افسانچہ ہے لیکن اس کی پیشکش خوب ہے۔ الفاظ کا جانداراستعمال ہواہے ۔علامتوں کابھی خوب استعمال ہے ، مبارک۔ ‘‘غبن‘‘ (صفحہ 99) کی کہانی کھولی میں رہنے والے شریف انسانوں کی
دکھ بھری کہانی ہے اور یہ کہانی رؤف صادق ہی بیان کرسکتے تھے ، انھوں نے اپنافرض پورا کیا۔اس طرح کے موضوعات بیان کرنا کچھ حدتک ممنوع ہے۔ لیکن ایک قلمکار کرے بھی تو کیاکرے ؟۔ جب تک زندگی کے حادثات سے انصاف نہیں کرے گا،قلمکار کو چین نہیں ملے گا۔ ’’ایک ادھوری پینٹنگ ‘‘ (صفحہ 95) کی کہانی میں دم ہے لیکن اس کاکلائمکس باوجود عمدہ ہونے کے قاری کو تشنہ لگتاہے۔ کلائمکس کچھ اور ہو ، یہ احساس قاری پر چھایارہتاہے۔ ہر کہانی پکڑ میں آسکے ، ایسا ممکن نہیں ہوتانا۔ ’’پجاری‘‘ (صفحہ 83)افسانچہ ہندوستان میں جے شری رام کے نعروں تلے ہونے والی بربریت کاآسان بیان ہے۔ تہہ در تہہ کہانی یہاں ملتی ہے۔ آخرمیں ایک افسانچہ ’’گم شدہ تعبیر‘‘ پیش کرتے ہوئے اجازت چاہتاہوں ۔
وہ نوجوان قرآن وحدیث کی روشنی میں زندگی کے مختلف مسائل پر مدلل گفتگو کررہاتھا۔ جب یہ معلوم ہواکہ وہ جوتے چپل سیتاہے تو ایک عالم ِ دین نے جھک کر اس کے ہاتھوں کوچوم لیا۔ اور میراخواب ٹوٹ گیا۔(صفحہ 74)
خداکرے رؤف صادق افسانچے لکھتے رہیں اور اُردو ادب کو مالامال کرتے رہیں۔ کتاب کاانتساب ڈاکٹر غضنفر اقبال اور انجینئر خرم مراد کے نام کیاگیاہے۔112صفحات کی کتاب کی قیمت  200روپئے رکھی گئی ہے۔ جس کاISBN نمبر 978-93-90579-91-4 ہے۔ سرورق معنویت سے بھرپورہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے