بیدر۔ 23؍جون (محمدیوسف رحیم بیدری): بید رسے تعلق رکھنے والے وزیربلدیہ اور حج جناب رحیم خان کے بارے میں بنگلور میں ڈاکٹر نسیم اور ان کے ساتھیوں نے بتایاکہ سرکاری یونانی میڈیکل کالج بسواکلیان میں قائم کرنے کے لئے ڈاکٹر نسیم اور ان کے ساتھی کوشش کررہے تھے ، اسی دوران جناب رحیم خان وزیربلدیہ اور حج نے ان لوگوں سے کہاکہ یونانی میڈیکل کالج کو بسواکلیان کے بجائے بیدر میں قائم کرنے میں میں ساتھ دوں گا۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی اگر جناب رحیم خان سرکاری یونانی میڈیکل کالج بیدر لاتے ہیں۔ لیکن اُن سے ایک چھوٹاساکام یہ آن پڑاہے کہ بیدر میں سرکاری یونانی دواخانہ جو قدیم سرکاری دواخانہ کے روبرو دفترضلع پنچایت سے متصل جگہ پر قائم ہے۔ وہاںا یک بھی ڈاکٹر نہیں ہے۔ جب کبھی مریض یونانی علاج کے لئے سرکاری یونانی دواخانہ پہنچتے ہیں، جو اب ملتاہے کہ ڈاکٹر نہیں ہیں ۔ وہاں ڈاکٹر صرف منگل ، جمعرات اور ہفتہ کو ہوتاہے جوکہ ایک خاتون ڈاکٹر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سرکاری یونانی دواخانہ میں اگر جواب یہ ملے کہ ڈاکٹر نہیں ہے، کل آئیں تو سوچاجاسکتاہے کہ سرکاری مشنری بیدر میں کس نہج اور کس حالت میں کام کررہی ہے۔ لہٰذا وزیربلدیہ اور حج جناب رحیم خان سے اپیل ہے کہ وہ بیدر کے سرکاری یونانی دواخانہ میں فوری طورپر ڈاکٹرس کو متعین کرتے ہوئے مریضوں کے علاج کو یقینی بنائیں۔ دوسری بات جو رحیم خان کے علاوہ بیدر کے رکن پارلیمنٹ مسٹر ساگر کھنڈرے سے بھی کہنی ہے وہ یہ ہے کہ بیدر کے قدیم سرکاری دواخانہ سے متصل واقع ضلع سرکاری آیورویدک اور یونانی مشترکہ اسپتا ل بیدر میں ہمیشہ دواؤں کی کمی دیکھی جارہی ہے۔
رکن پارلیمنٹ ساگر کھنڈرے ضلع پنچایت کے پروگرام میں شریک ہونے کے فوری بعد اس آیورویدک اسپتال کادورہ کریں تو معلوم ہوگاکہ یہاں بہت زیادہ مریض اپنے علاج کیلئے آتے ہیںجن میں خواتین کے علاوہ کہنہ امراض والے سینئر سٹیزن شامل ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان سینئر سٹیزن مریضوں کوباہر کی دوائیاں لکھی جاتی ہیں۔ مثال کے طورپر آج ہی ایک مریض سے کہاگیاکہ ’’معجون فلاسفہ‘‘ ہمارے دواخانہ میں نہیں ہے ، آپ باہر سے یہ دوائی پیسے دے کر خرید لیں۔ اسی طرح دوسرے مریضوں کو دوسری دوائیں نہیں مل رہی ہیں۔ جب کہ حکومت کہہ رہی ہے ہمارے پاس غریبوں کے علاج کے لئے دواؤں کااسٹاک ہے بلکہ بے تحاشہ رقم حکومت دواؤں پر خرچ کررہی ہے۔ لہٰذا جناب رحیم خان ریاستی وزیر اور رکن پارلیمنٹ بیدر جناب ساگر کھنڈرے دونوں سے اپیل ہے کہ وہ ان دونوں دواخانوں کی طرف توجہ دیتے ہوئے ڈاکٹرس متعین فرمائیں اور دوائیں دستیاب کراتے ہوئے یہ دونوں مسائل حل فرمائیں ۔

