سدھارتھ نگر: تعلیم و تدریس ہمیشہ کسی بھی باوقار سماج کی علامت رہی ہے اور تعلیم سے ہی ہمہ جہت ترقی ممکن ہے جو صدیوں سے تسلیم شدہ ہے۔ اور اکثریت نے اسکی اہمیت وافادیت کو مانا ہے اور اسکو قبول کیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار معروف سماجی کارکن اور گریٹ انڈیا نیشنل اکیڈمی نور نگر ( کرمہوا) کونڈرا گرانٹ ، سدھارتھ نگر کے چیئر مین عالی جناب نوراللہ خان نے کیا اور آپ نے تعلیمی ترقی کے حوالے سے مختلف کوششوں کا ذکر کر تے ہوئے مزید کہاکہ سدھارتھ نگر میں واقع "سدھارتھ یونیورسٹی، کپلوستو” اہل علاقہ کے لئے ایک بڑا تحفہ ہے جس سے استفادہ کرنا چاہئے اور سرپرستوں کو اعلی تعلیم کیلئے عملی طور پر بیدار ہونا چاہئے تاکہ لکھنئو ودیگر بڑے شہروں سے دور اپنے ضلع میں واقع اس عظیم دانشگاہ سے مستفیض ہوکر طلبہ تعلیمی ترقی کی منزلیں طے کرسکیں اور سماجی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
بی اے اور ایم کے مختلف کورسز میں داخلہ کے حوالے سے بی ٹی ایس گروپ موہانا چوک، برڈ پور کے پروپرائٹر اور ہایریج سالیوشنس کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور مشہور سماجی کارکن اور تعلیمی و رفاہی امور سے وابستہ شخصیت کے مالک جناب عتیق خان نے کہا کہ داخلہ کی فیس بہت مناسب ہے اور ہم لوگوں نے کئی سالوں سے اعلی تعلیم کے خواہش مند بچوں کی فیس کیلئے مدد کیا ہے۔ اہل خیر حضرات کو بچوں کو ترغیب دینا چاہئے اور آپ نے کہا کہ کوئی غریب بچہ ہو تو اسے داخلہ میں مدد ملے گی۔ اسی طرح آپ نے ذکر کیا کہ جو اساتذہ یا ٹیچرس مدارس یا اسکولوں سے وابستہ ہیں ان کیلئے بھی اعلی تعلیم کا اچھا موقع ہے۔ اور ان کو حتی الامکان اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہئے۔
پرائم انڈیا فاؤنڈیشن کے صدر جناب ایڈوکیٹ عبیداللہ خان نے کہا کہ فقط کی رسم کی ادائیگی کرکے دسویں پاس کرلینا اب کمال نہیں ہے بلکہ اب زمانہ اس بات کا تقاضا کررہا ہے کہ آپ اعلی تعلیم یا کوئی اچھا ہنر یا ٹیکنیکل کورس کرکے رفتار زمانہ کو سامنے رکھیں اور انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھیں۔
عمر حبیب سیون اسکائی اکیڈمی ، ضلع بستی کے ڈائیریکٹر جناب سیف الرحمن خان صاحب نے کہاکہ نئی نسل کیلئے اپنے قرب وجوار کے اضلاع میں کسی یونیورسٹی کا وجود ایک نعمت ہے جس کیلئے عوام صدیوں ترستی رہی ہے۔
